قبضہ مافیا گروہ نے تیس کنال اراضی پر قبضہ کی خاطر دو بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر دو گھر اجاڑ ڈالے

پاکپتن(ایف یو نیوز)قبضہ مافیا گروہ نے تیس کنال اراضی پر قبضہ کی خاطر دو بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر دو گھر اجاڑ ڈالے مقتولین کی اراضی اور مقدمہ کی پیروری کرنے والے بھتیجے خالد پر کسی سے وار کر کے لہولہان کر دیا پولیس رنگشاہ کے ایس ایچ او نثار بھٹی نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے لہولہان نوجوان اسکے والد اور چچا کو حوالات میں بند کر دیا قاتل سرعام گھومتے ہوئے ورثاء کو دھمکیاں دینے لگے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور تشدد کا نشانہ بنانے پر ورثاء اور اہل علاقہ کا پولیس رنگ شاہ کے خلاف شدید احتجاج چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں61ایس پی کی رہائشی بیوہ اللہ رکھی اور ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کے بااثر قبضہ مافیا گروہ کے ارکان جاوید، قمر، خرم، نوریز، اسلم ، ظہور وغیرہ نے تیس کنال اراضی پر زبردستی قبضہ کی خاطر اسکے خاوند سرفراز اور دیور ظفر کو قتل کر ڈالا ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونے پر ملزمان نے انہیں جان سے مارنے اور بچوں کو اٹھانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس پر دونوں مقتولین کے ورثاء شہر چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی گزشتہ روز ملزمان نے پولیس رنگشاہ کی ملی بھگت سے کسَی کے وار کر کے محمد خالد کو شدید زخمی کر دیا اور اسے دھکے دے کر گھسیٹتے رہے خون میں لت پت زخمی خالد اسکا والد امین چچا محمد انور تھانہ رنگ شاہ میں ڈاکٹ کے حصول کے لئے گئے تو ایس ایچ او نثار بھٹی نے ملزمان سے بھاری نذرانہ لے کر الٹا خون میں لت پر خالد، امین اور انور کو حوالات میں بند کر کے انکے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر لیا متاثرہ خاندان پر ہونے والے ظلم وستم اور پولیس رویہ کے خلاف ورثاء اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔









Leave a Reply