بریکنگ نیوز

آج۔ گلگت کا آخری راجکمار۔ وراثت، جاگیر اور عوام کا مقدر

Loading

اگر کسی شخص کا نام غلط ہو جائے، یا ایسا ہو کہ کسی کے عقیدے کو ٹھیس پہنچے، تو اسے بدلنے میں کوئی قباحت نہیں۔ قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اگر نام کی بجائے کام میں دھوکہ ہو، یا اصل بات کو چھپایا جائے، تو وہ غیر شفاف عمل کہلاتا ہے۔ ایک نمبر اور دو نمبر مال کا فرق کوئی نیا مسئلہ نہیں، یہ تو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔ وقتی فائدہ شاید دو نمبر طریقے سے حاصل ہو جائے، لیکن حقیقت میں وہ چیز دو نمبر ہی رہتی ہے — چاہے امیر کرے یا غریب۔اگر یہ سب کسی فرد کی سطح پر ہو، تو بات ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن جب یہی طرزِ عمل حکمرانوں میں آ جائے، تو اس کا نقصان عوام کو نسلوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں، چاہے وہ سیاست ہو، معیشت ہو یا مذہبی معاملات، ایسے لوگ موجود رہے ہیں جنہوں نے شفافیت سے ہٹ کر کام کیا۔ آج کی یہ تمہید باندھنے کی وجہ بھی یہی ایک نمبر اور دونمبر ہی ہے ۔ کیونکہ ہماری تاریخ میں بھی اقتدار کو طول دینے اور عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف طریقے اور ہربے اپنائے گئے۔ پاکستان سے ہٹ کر بلکہ بلتستان کو بھی تھوری دیر نظر انداز کرتے ہوئے ذرا گلگت راجدھانی کے راجکماروں پر نطر دوڑائیں تو سب کے سب درآمد شدہ راجکمار ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ اسی تاریخ میں گلگت کے آخری راجکمار یا شہزادہ یا راجہ کاچنائو اور انتخاب کا تذکرہ بھی ہے بڑی ہی دلچسپ اور مزیدار کہانی ہے ۔1842 کےبعد گلگت میں ڈوگروں اور مقامی راجوں کے درمیان سخت کشمکش رہی۔ راجہ کریم خان کو راجہ گوہر آمان نے بے دخل کیا۔ کریم خان نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے ڈوگروں کا سہارا لیا۔ راجگی تو ملی، مگر صرف نام کی۔بعد میں گوہر آمان نے ڈوگروں کو شکست دی، اور گلگت میں اس کا راج قائم ہو گیا۔ ناراض راجہ عیسیٰ بہادر جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا۔ 1842 سے 1857 تک مہاراجہ کشمیر کی کوشش رہی کہ گلگت پر دوبارہ قبضہ کیا جائے۔ ایک خطابی راجہ محمد خان کو کشمیر میں رکھا گیا تھا، تاکہ جب موقع ملے تو اسے گلگت کا راجہ بنایا جائے۔ 1859 کے آخر میں ڈوگروں نے گلگت پر حملہ کیا، اور 1860 میں گوہر آمان کا انتقال ہو گیا۔ یوں ڈوگروں کو گلگت میں داخل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ادھر محمد خان بھی کشمیر میں وفات پا گیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ راجگی کس کو دی جائے؟ یہاں پر مہارجہ نے نہ صرف راجہ درآمد کیا بلکہ جو مال درآمد کیا گیا اس میں ملاوٹ کا عنصر بھی شامل تھا۔ ہوا کیا کہ راجدھانی گلگت راجے کے بغیر چلے یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اسے خالی چھوڑا جائے چناچہ راجے کی باقائدہ سرکاری سطح پر تلاش شروع کی گئی تلاش بسیار کے بعد معلوم ہوا کہ راجہ کریم خان نے تراخانی شہزادی سے شادی کی تھی، جس کی بیٹی کی شادی راجہ جعفر خان نگر سے ہوئی تھی۔ ان کا تین سالہ بیٹا علی داد موجود تھا۔ مہاراجہ نے جعفر خان سے کہا کہ علی داد کو کشمیر بھیجا جائے۔حکم کی تعمیل کی گئی اور یوں علی داد کو خطابی راجہ بنا کر محمد خان کا وارث قرار دیا گیا، اور گلگت میں نائیکوئی سے کپل خان تک جاگیر دی گئی۔بعد میں علی داد کا چھوٹا بھائی کمال بھی گلگت پہنچا، اور اسے نومل کا راجہ بنا کر جاگیر دی گئی۔ اس کے بعد عیسیٰ بہادر اور راجہ عظمت شاہ نے بھی ڈوگروں کا ساتھ دینے اورقلعہ مڈوری فتح کرنے کے بدلے گلگت اور شیر قلعہ میں جاگیریں حاصل کیں۔ یوں گلگت کو تین راجوں — راجہ عظمت شاہ، راجہ علی داد اور راجہ کمال — میں تقسیم کر دیا گیا۔آج بعض لوگ گلگتیوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ “تمھارے پاس تو راجہ ہی نہیں تھا، تم نے ادھار اور نقلی راجے پالے۔” اس بات میں کچھ تاریخی حقیقت ضرور ہے — علی داد اور کمال نہ تو محمد خان کے براہِ راست وارث تھے، نہ کریم خان کے۔ بس رشتہ داری کی ایک کڑی جوڑ کر انہیں راجگی دی گئی۔یہ کہانی آج کی سیاست میں بھی نظر آتی ہے، جہاں بعض اوقات نام اور ورثہ کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا جاتا ہے۔ اور ہماری آزادی کا حال بھی کچھ ایسا ہی رہا جب آزادی ملی، تو اس میں بھی پیچیدگیاں رہیں۔ جو زمین بچی تھی، وہ بھی آزادی کے ہیروز کے حصے میں آئی۔اب الحمدللہ، حقوقِ ملکیت کا بل پاس ہو چکا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب ہم اپنی زمین کے مالک ہیں اور وہ بھی پہاڑوں سے لیکر دریا تکَ

ہدایت اللہ اختر

Marital Status: Married Interests: Health,Education& Environment Research work,Traveling Hunting,Fishing & photography are Relaxation About Me: Introduction: Hidayatullah Akhtar (Urduہدایت اللہ آختر‎) is a columnist, writer, poet, social worker and Ex Govt servant from Gilgit Pakistan. He has written many Urdu columns for various Urdu-language newspapers in Gilgit Pakistan. He has also served as Manager IDBP Gilgit,ADBP Islamabad and Regional Manager SME Bank in Gilgit Hidayatullah Akhtar is also Founder member of the Halqa eArbab Zoq and Krakrum Writers Fourm Gilgit Career and education: Hidayatullah Akhtar received a Master's degree in Master of Business Administration from Punjab University, Lahore. He has served as Regional Manager SME Bank Gilgit Pakistan. He received and attended various seminars and workshops within Pakistan and Project Supervision course certificate from PDCP (Private Development Corporation Manila Philippines. He is presently Administrator Northland Public Schools Gilgit and is over all in charge of community as partner Development Organization. He is also president of DNN (District NGO Net wok Gilgit . Bibliography: Aina-e-Dardistan (An informative Book about Gilgit Baltistan 1987)

اس مصنف کی مزید پوسٹس →

اپنا تبصرہ لکھیں