![]()
۔راجہ خسرو جو گلگت کا راجہ تھا۔ یہ زمانہ تقریباً 1390 سے 1435 تک کا بنتا ہے۔ گلگت پر اپنی دورِ حکمرانی میں اُس نے ایک کمال کا شاہکار، دریائے گلگت کے کنارے “گلیت کوٹ” (قلعہ) تعمیر کرایا۔ اس کے لیے راجہ نے دور دراز سے کاریگر بلائے، اور برسوں کی محنت کے بعد قلعہ مکمل ہوا۔کہا جاتا ہے کہ اس قلعے کے سات منار تھے، جو گلگت کے سات انتظامی حصوں—یعنی “ست مقسہ”—کی نمائندگی کرتے تھے۔ قلعے کی حدود موجودہ ڈومیال سے لے کر جامع مسجد تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مناروں کی نشاندہی یوں کی جاتی ہے: ایک جامع مسجد کے قریب، دوسرا گلگت تحصیل کے پاس، تیسرا دریا کی طرف موجودہ ہائی اسکول کے قریب، اور باقی چار کمسریٹ اور ڈومیال کی سمت واقع تھے۔اس وقت گلگت سات انتظامی حصوں میں تقسیم تھا، جنہیں “مقسہ” کہا جاتا تھا۔ ہر مقسہ میں مخصوص علاقے شامل تھے۔ پہلا مقسہ گلگت مرکز تھا، جس میں وار پار (آج کے شکیوٹ، شروٹ)، مناور، شیو داس (پڑی) تک کے علاقے شامل تھے۔ دوسرا مقسہ شین بر بالا، شین بر پائین اور نومل پر مشتمل تھا۔ تیسرا مقسہ حراموش اور بگروٹ کا تھا۔ چوتھا سنئی، بونجی، ڈموٹ اور چکرکوٹ کے علاقوں پر مشتمل تھا۔ پانچواں گور اور چلاس، چھٹا داریل اور ہربن، اور ساتواں تانگیر، سازین اور شتیال پر مشتمل تھا۔ہر مقسہ سے 15 سے 20 افراد قلعے کی حفاظت کے لیے مقرر کیے جاتے تھے، جو مناروں پر ڈیوٹی دیتے تھے۔ قلعے کے اندر ایک خاص جگہ تھی جسے “نیلو بٹ” کہا جاتا تھا۔ یہاں تخت نشینی اور دیگر اہم فیصلے ہوتے تھے، اور مقسوں کے سربراہان کی موجودگی میں اعلانات کیے جاتے تھے۔اور اب حال یہ ہے کہ ہر علاقے کے لوگ نالوں میں گھس کر ایک دوسرے کے خلاف رائفلوں سے لیس “جہاد” کا اعلان کر رہے ہیں—جیسے سنگل، (غذر)اور داریل کا تنازع۔ وہ لوگ جو کبھی مناروں میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کی حفاظت کرتے تھے، آج ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ کہتے ہیں نا، وقت ایک سا نہیں رہتا۔ اس قلعے کی آخری بار تزئین و آرائیش 1856 میں راجہ گوہر آمان نے کروایا تھا پھر یہ قلعہ 1871 میں آنے والے خوفناک زلزلہ کا نذر ہوگیا ۔اب وقت کے تھپیڑوں میں وہ قلعہ ختم ہو گیا، وہ منار دھڑام سے گر گئے—سوائے ایک برجی کے۔ ست مقسہ کا نظام بھی ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ نیلو بٹ خاموش ہے، اور آج گلگت میں انتظامی حصے تو کئی ہو گئے ہیں، لیکن اب مناروں کی حفاظت کے بجائے انصاف کی تلاش سب کو ہے۔ وہ ترتیب، وہ نظام، وہ اجتماع اب صرف یادوں میں باقی ہے۔
