بریکنگ نیوز

گَسِرکُم (دیسی گوٹ)

Loading


گوٹ صرف گھر نہیں ہوتا۔ یہ ہماری پہچان ہے، ہماری جڑ ہے۔ شینا زبان میں گوٹ اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں خاندان کے سب لوگ اکٹھے رہتے ہیں—جہاں کھانا بھی ہوتا ہے، سونا بھی، اور بیٹھک بھی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں بچے بولنا سیکھتے ہیں، بزرگ قصے سناتے ہیں، اور روایات سانس لیتی ہیں۔گوٹ کے خانے میں جس مقام کو مرکزی حثیت حاصل تھی اسے قدیم شینا زبان میں” گَسِر کُم” کہا جاتا تھا ۔وقت کے ساتھ اسے “شینو گوٹ” کہا جانے لگا، اور آج کل کچھ لوگ “دیسی گوٹ” بھی کہتے ہیں۔ نام بدل گئے، لیکن اصل بات وہی ہے۔ گوٹ وہی ہے جس میں انسان پلتا ہے، تربیت پاتا ہے، اور اپنی تہذیب سیکھتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ کچے “گَسِرکُم” جو مرکزی حصہ تھا میں غربت نمایاں دکھائی دیتی تھی، لیکن اس کچے “گَسِرکُم” کا ماحول جہاں جگہ تو تنگ تھی لیکن دل میلے نہیں تھے اور اس ماحول سے نکلنے والے لوگ بدتمیز یا چھچھورے نہیں تھے۔ اگر یقین نہیں آتا تو ان” گَسِرکُم ” میں پلنے اور بڑے ہونے والے لوگ جو اب قلیل تعداد میں زندگی کی سانسیں لے رہے ہیں ان سے مل کر خود مشاہدہ کر لیں۔ ان کے لہجے میں سادگی تھی، ان کی باتوں میں لحاظ تھا، اور ان کے رویے میں تربیت کی خوشبو تھی۔اب “گَسِرکم “جو دیسی گوٹ کہلاتے ہیں نایاب تونہیں ہوئے، بس ان میں جدیدیت آ گئی ہے۔ ماربل لگ گیا، “پُھپُوݜ” کے بجائے بخاریاں یا اس سے بھی آگے ہیٹر اور چھت پر سولر پینل بھی۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جدید اور ماڈرن بننے کے بعد وہ روایات دم توڑ گئی ہیں—وہی روایات جو ہمیں بھائی چارہ سکھاتی تھیں، بزرگوں کا ادب، اور مل بیٹھ کر کھانے کا سلیقہ۔شینا بولنے والے صرف ایک علاقے کے نہیں۔ نورستان، کوہستان، گریز، لداخ—سب جگہ یہی گَسِرکُم”گوٹ کی زندگی تھی۔ آج بھی کچھ لوگ اپنی تہذیب سے جڑے ہیں، لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو سیدھا حوالدار بن گئے۔ “گَسِرکُم” گوٹ کو ایسے بھول گئے ہیں جیسے بچپن کی شرارتیں۔ لگتا ہے جیسے ان کے ماں باپ سونے کے چمچے لے کر پیدا ہوئے ہوں۔ ترقی ضرور کریں، لیکن اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر۔ اپنے بزرگوں کی باتیں یاد رکھیں، اپنی زبان، اپنی روایات کو نہ چھوڑیں۔ یہی اصل ترقی ہے، یہی اصل انسانیت ہے۔” گَسِر کُم ” گوٹ سے مجھے زیادہ پیار اور چاہت ہے کہ یہ گھر حکمرانی سے لیکر تعبداری سکھانے کا مرکز تھا اب آپ کا سوال یہ بھی ہو سکتا ہے وہ کیسے اس بارے تفصیل پھر کبھی فی الحال “گَسِرکُم “گوٹ سے مجھے اجازت دیں شکریہ

ہدایت اللہ اختر

Marital Status: Married Interests: Health,Education& Environment Research work,Traveling Hunting,Fishing & photography are Relaxation About Me: Introduction: Hidayatullah Akhtar (Urduہدایت اللہ آختر‎) is a columnist, writer, poet, social worker and Ex Govt servant from Gilgit Pakistan. He has written many Urdu columns for various Urdu-language newspapers in Gilgit Pakistan. He has also served as Manager IDBP Gilgit,ADBP Islamabad and Regional Manager SME Bank in Gilgit Hidayatullah Akhtar is also Founder member of the Halqa eArbab Zoq and Krakrum Writers Fourm Gilgit Career and education: Hidayatullah Akhtar received a Master's degree in Master of Business Administration from Punjab University, Lahore. He has served as Regional Manager SME Bank Gilgit Pakistan. He received and attended various seminars and workshops within Pakistan and Project Supervision course certificate from PDCP (Private Development Corporation Manila Philippines. He is presently Administrator Northland Public Schools Gilgit and is over all in charge of community as partner Development Organization. He is also president of DNN (District NGO Net wok Gilgit . Bibliography: Aina-e-Dardistan (An informative Book about Gilgit Baltistan 1987)

اس مصنف کی مزید پوسٹس →

اپنا تبصرہ لکھیں