![]()
جب آپ قراقرم ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے سوست کے مقام پر پہنچتے ہیں اس سے ہٹ کر تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر ایک خاموش سی وادی آتی ہے جسے مسگر کہا جاتا ہے۔ پہاڑوں کے بیچ بسا یہ گاؤں، ہوا کی سرگوشیوں اور وقت کی چپ میں لپٹی ایک قدیم کہانی سناتا ہے۔ یہاں ایک پرانا قلعہ ہے جسے کلام درچی/ قلندرچی یا ننگا ولی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اسے ننگا والی ایک افسانوی قصے جس میں ایک برہنہ پیر یا شخص کی یہاں موجودگی بتائی جاتی ہے۔یہ قلعہ 1932 میں برطانوی دور میں اسٹریٹجک نگرانی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مقام سے افغانستان کے واخان کوریڈور اور چین کے سلک روٹ پر آسانی سے نظر رکھی جا سکتی تھی۔ یہاں سے قافلے گزرتے تھے، معلومات کی لین دین ہوتی تھی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 1932 میں، پہلی جیپ گاڑی کشمیر کے راستے گلگت سے ہوکر اسی تاریخی راستے سے کاشغر پہنچ گئی تھی یہ ایک ایسا سفر تھا جو اس وقت ناقابلِ تصور لگتا تھا۔ اس سفر نے اس علاقے کی بین الاقوامی اہمیت اور تاریخی سڑکوں کی طاقت کو دنیا کے سامنے لا دیا۔وقت گزرنے کے ساتھ قلعہ خستہ حال ہو گیا، مگر حالیہ برسوں میں اس کی مرمت کی گئی ہے۔ اسے اس کی اصل نوآبادیاتی ساخت کے مطابق بحال کیا گیا تاکہ اس کی تاریخی عظمت قائم رہے۔ اب اس کا بیرونی حصہ سیاحوں کے لیے کھولا جا چکا ہے، جبکہ اندرونی رسائی ابھی فوج کی نگرانی میں ہے۔قلعے کے احاطے میں ایک میوزیم بنانے کا کام بھی جاری ہے، جو مقامی ثقافت، ورثے اور تاریخ کو محفوظ کرے گا۔ اس میوزیم کا انتظام مقامی کمیونٹی کے حوالے ہوگا، تاکہ لوگ خود اپنی شناخت کو سنوارنے میں شریک ہوں۔مسگر میں موجود یہ قلعہ آج بھی اپنے اندر تاریخ سمیٹے لوگوں کو ماضی سے جوڑے رکھتا ہے

