Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

چھوٹا تبت۔۔۔ شادی بلتستان اور کشمیر

مجھے نہیں معلوم   کہ  ہندوستان کے مغل بادشاہ اکبر نے کب اور کیسے  بلتستان کے راجے کی بیٹی  کو  شہزادہ سلیم کے لیئے مانگا  پر  یہ کہانی ہمیں تاریخ میں نظر آرہی ہے کہ  1846 سے بہت پہلے ہی  شادی

کہانی کہانی ہوتی ہے

کہانی سو لفظوں کی ہو یا دس لفظوں کی کہانی کہانی ہوتی ہے اور ہر کہانی کے پیچھے بھی ایک کہانی ہوتی ہے اور کہانی کے بعد بھی کہانی کہانی ہی رہتی ہے بس پہلی والی کہانی بعد میں بننے

سیاسی جوتے

شینا زبان میں جوتے کے لیئے اردو کا لفظ پیزار یا بوٹ استعمال کیا جاتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس کے لیئے کسی شینا لفظ کا انتخاب کیا جائے تو اس کے لیئے میں شینا لفظ تھوٹی

تلوار سے شیر تک

بڑی افسوس ناک خبر ہے ڈاکٹر عبدلقدیر کی رحلت کی اس دنیا سے ۔جانا تو سب کو ہے  رہنا کسے ہے اس دنیا میں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں  جب یہ دنیا چھوڑ دیتے ہیں تو فنا نہیں بلکہ

آزاد کشمیر۔۔عبوری صوبے کی باز گشت

دو سال پہلے آج ہی کے دن  انڈیا کی مودی سرکار نے اپنے زیر نگرانی کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کر دی تھی ۔کس نے کیا کیا؟ اور کب کیا؟ ان سوالوں کا دفتر کھولا جائے تو یہ ایک داستان

راکاپوشی پہاڑ ۔ جمال خدا

کیا  کبھی ہم نے خزاں اور موسم سرما کی خوبصورتی سے لطف اٹھانے کے ساتھ اللہ کو اپنے قریب پایا  ہے؟ کیا اس کے وجود ،اس کی بڑائی ،اس کی حکمت ،اس کی مصوری یا اس کی واحدانیت قل ہو

لحموں کا سفر سالوں میں

اے وطن کے سجیلے جوانو۔میرے نغمے تمھارے لیئے ہیں کس نے گایا اور کب گایا بتانے کی ضرورت نہیں اس نغمے کو سنتے ہی پاکستانی جان جانتے ہیں کہ میڈم نور جہان کی آواز ہے ۔47 سے 1971 اور 1999

گلور

گلور” لفظ پڑھنے میں شائد قارئین دقت محسوس کر رہے ہونگے ۔وضاحت اس کی یہ ہے کہ یہ ایک دھن ہے جو گلگت بیڈ جسے “ڈڈنگ ڈامل” کہا جاتا ہے بجایا جاتا ہے ۔گلور کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔گلور

آنکھوں میں دھول جھونکنا

پاکستان کی تبدیلی سرکار نے اپنے طور پر کشمیر کو فتح کرنے کا ایک آسان طریقہ ایجاد کیا ہے ۔اس پر نہ صرف وہ خوش ہیں بلکہ اپنے تئیں اسے وہ ایک تاریخی کام بھی سمجھ رہے ہیں ۔اب ان

چلاس سانحہ

بیٹے کا خون معاف نہیں کرونگی یہ الفاظ ایک ماں کے ہیں  جس کا بیٹا حال ہی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو  سی ٹی ڈی گلگت بلتستان کی ٹیم کے چلاس دیامر کے ایک گھر میں چھاپہ