“شینو بَزونو”

کیا دن تھے دردستان کے جب شین یشکن کرمِن سب مل کر بنا کسی تفاوت کے تہوار مناتے تھے دردستان میں اسلام کے آثار تو1100 عیسوی سے بتائے جاتے ہیں لیکن اسلام کے مکمل غلبے تک مختلف رسم اور تہواروں کا یہاں بڑا رواج تھا ان ہی تہواروں میں ایک تہوار کا نام “شینو بزونو ” تھا ۔ کیا ہوتا تھا اس میں اسی کو میں نے کشید کیا مصنف غلام محمد کی کتاب سے ممکن ہے کہ یہ لوک کہانی آپ نے بھی پڑھی ہو کہانی انگریزی میں لکھی گئی ہے جس کا لب لباب کچھ یوں ہے ۔ یہ تہوار جسے “شینو بزونو “کہا جاتا ہے کا آغاز فروری کے وسط سے شروع ہوکر مارچ کے آغاز میں ختم ہوتا تھا۔مقصد اس تہوار کا یہ تھا کہ طویل سردی کا موسم تمام تر تکلیفوں کے ساتھ ختم ہوا اور آنے والی گرمی خوشحالی اور آناج و دیگر اجناس کی فراوانی کا باعث بنے گی ۔ اس تہوار کی خاص باتوں میں “ویلی درم“ اور “درم پِھٹی“ کا بڑا عمل دخل تھا ۔ اس مقصد کے لیئے گندم کا ایک سپیشل آٹا تیار کیا جاتا تھا طریقہ اس کا یہ تھا کہ ہر گھر میں ایک لکڑی کے برتن میں پانچ سے دس سیر گندم ڈال کر اس کو پانی سے بھر دیتے تھے اور اسے پانچ دنوں تک ایسا ہی رہنے دیتے پانچ دنوں بعد زمیں پر ایک مخصوص گڑا اس کے لیئے بنایا جاتا تھا گندم اس میں رکھ دی جاتی تھی پھر اسے ڈھانپ کر اس کے اوپر پتھر رکھ کر اسے چار دن تک پڑا رہنے دیتے تھے پھر ان گندم کے دانوں کو نکال کر خشک کیا جاتا تھا پھر اس خشک گندم کو “اُڈور“ اوکھلی میں پیسا جاتا تھا ۔ پسے ہوئے گندم میں اخروٹ یا گریوں کا تیل ملا کر اسے ایک مہنے کے لیئے رکھا جاتا تھا اور پھر اس میں پانی کی ایک خاص مقدار ملا کر “دِرم پِھٹی“ اور “ویلی دِرم“ تیار کی جاتی تھی جو بڑی ہی میٹھی ہوتی تھی اب بھی “ویلی درم“ اور“ دِرم پِھٹی“ بنانے کا رواج مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے لیکن گلگت خاص میں ویلی اور ملتانی سوہن حلوا جیسی درم شائد ہی کوئی جانتا ہو ۔ یہ تو تھی وہ چیزیں جو تہوار “شینو بزونو“ میں کھانے کے لیئے تیار کی جاتی تھیں اب تہوار کی موج مستیوں کا احوال بھی پڑھ لیں ۔ جی ہاں وہی کچھ جو آج بھی ہو رہا ہے بس یہاں کے مکینوں کو ناچنے کا بہانہ چاہئے “شینوبزونو“ بھی ایسا ہی ایک تہوار تھا جہاں لوگ ناچتے ہوئے اس وقت کے مشترکہ بھگوان سے “شاپ“ دعا مانگتے تھے جس کے شینا الفاظ کچھ یوں ہیں “
اَجو کال اوتا لا دارو اَجو کال چِیرنگ گَہ اوتا
گُومیٔی چِھنی تَھریگا اَجو کال چِیرنگ گَہ اوتا
گِھیٔی چِھنی تَھریگا اَجو کال چِیرنگ گَہ اوتا
موزیٔی چِھنی تَھریگا اَجو کال چِیرنگ گَہ اوتا
مویٔی چِھنی تَھریگا اَجو کال چِیرنگ گَہ اوتا
اَش تو شو دیزیک آلو اَجو کال چِیرنگ گَہ اوتا
اس کا اردو ترجمہ کیا جاے تو کچھ یوں بنتا ہے
یہ سال دوبارہ آئے، اے بیٹو، ایسا سال دوبارہ آئے
ہمارے گودام گندم سے بھر جائیں، ایسا سال دوبارہ آئے
بہت سا گھی پیدا ہو، کاش اگلا سال ایسا ہو
گوشت کی بڑی مقدار ہاتھ لگے ، کاش اگلا سال ایسا ہو
ہمارے برتن شراب سے بھر جائیں ، کاش ایسا سال دوبارہ آئے! آج ایک بابرکت دن آیا ہے، کاش ایسا سال دوبارہ آئے















Leave a Reply