٭ کالمز و آرٹیکلز ٭

تلوار سے شیر تک

بڑی افسوس ناک خبر ہے ڈاکٹر عبدلقدیر کی رحلت کی اس دنیا سے ۔جانا تو سب کو ہے  رہنا کسے ہے اس دنیا میں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں  جب یہ دنیا چھوڑ دیتے ہیں تو فنا نہیں بلکہ

آزاد کشمیر۔۔عبوری صوبے کی باز گشت

دو سال پہلے آج ہی کے دن  انڈیا کی مودی سرکار نے اپنے زیر نگرانی کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کر دی تھی ۔کس نے کیا کیا؟ اور کب کیا؟ ان سوالوں کا دفتر کھولا جائے تو یہ ایک داستان

راکاپوشی پہاڑ ۔ جمال خدا

کیا  کبھی ہم نے خزاں اور موسم سرما کی خوبصورتی سے لطف اٹھانے کے ساتھ اللہ کو اپنے قریب پایا  ہے؟ کیا اس کے وجود ،اس کی بڑائی ،اس کی حکمت ،اس کی مصوری یا اس کی واحدانیت قل ہو

لحموں کا سفر سالوں میں

اے وطن کے سجیلے جوانو۔میرے نغمے تمھارے لیئے ہیں کس نے گایا اور کب گایا بتانے کی ضرورت نہیں اس نغمے کو سنتے ہی پاکستانی جان جانتے ہیں کہ میڈم نور جہان کی آواز ہے ۔47 سے 1971 اور 1999

گلور

گلور” لفظ پڑھنے میں شائد قارئین دقت محسوس کر رہے ہونگے ۔وضاحت اس کی یہ ہے کہ یہ ایک دھن ہے جو گلگت بیڈ جسے “ڈڈنگ ڈامل” کہا جاتا ہے بجایا جاتا ہے ۔گلور کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔گلور

آنکھوں میں دھول جھونکنا

پاکستان کی تبدیلی سرکار نے اپنے طور پر کشمیر کو فتح کرنے کا ایک آسان طریقہ ایجاد کیا ہے ۔اس پر نہ صرف وہ خوش ہیں بلکہ اپنے تئیں اسے وہ ایک تاریخی کام بھی سمجھ رہے ہیں ۔اب ان

چلاس سانحہ

بیٹے کا خون معاف نہیں کرونگی یہ الفاظ ایک ماں کے ہیں  جس کا بیٹا حال ہی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو  سی ٹی ڈی گلگت بلتستان کی ٹیم کے چلاس دیامر کے ایک گھر میں چھاپہ

گلگت اور شینا زبان

گرمیوں کے دن تھے وہ اپنی چھٹیاں گزارنے  ایبٹ آباد آئے تھے وہی اسے  ایک  پروانہ تھما دیا گیا جس میں یہ معلومات درج تھیں کہ انہیں گلگت میں بطور  ایجوکیشن آفیسر گلگت بلتستان  مقرر کر دیا گیا  ہے۔یہ جولائی

قوم لوط والا فعل

کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر بحثیت مسلمان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے چہ جائیکہ یہ فعل کسی مسلمان سے سرزد ہوجائے لیکن کیا کیا جائے اس معاشرے کا جہاں روز ایک ایسا شرمناک واقعہ ظہور پذیر

استنبول میں اللہ اکبر۔اسلام آباد میں رام رام

مذہب کیا ہے بس یوں سمجھیں کہ مذہب بھی آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی دنیا میں وجود میں آیا ذرا اس پر مزید غور کیا جائے تو اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مذہب اللہ کی زمین