٭ ہدایت اللہ اختر ٭

کارگاہ کی مورت: تاریخ، نسوانیت اور مقامی شعور کے بیچ ایک سوال

Hadayat Ullah Akhtar

گلگت شہر سے تقریباً نو کلومیٹر دور ایک بلند چٹان پر ایک بڑی مورت تراشی گئی ہے، جسے لوگ آج کل “کارگاہ بدھا” کہتے ہیں۔ یہ مورت تقریباً پندرہ فٹ اونچی اور پانچ فٹ چوڑی ہے، اور اس کے اردگرد

چِٹا کٹھہ جھیل

Hadayat Ullah Akhtar

پیر پنجال  کا مغربی ہمالیہ  میں واقع   پہاڑ  “دیامر”کوہ ہندوکش کا پہاڑ “پریان زون” تبت میں واقع “چھگوری” پہاڑ   ہو یا “سر والی” چوٹی  شونٹر۔ماضی کی طرح  آج بھی لوگ  ان پہاڑوں کو پریوں کا مسکن جن دیو کی آمجگاہ

محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز نہیں ہوتا

Hadayat Ullah Akhtar

آئیں آج پہل گام چلتے ہیں اگر آپ چھو گام، بٹگرام، نو گام ، کے نام سے واقف ہیں تو یقیناً آپ پہل گام سے بھی واقف ہونگے جو برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے دیگر گاموں کے

“شینو بَزونو”

Hadayat Ullah Akhtar

کیا دن تھے دردستان کے جب شین یشکن کرمِن سب مل کر بنا کسی تفاوت کے تہوار مناتے تھے دردستان میں اسلام کے آثار تو1100 عیسوی سے بتائے جاتے ہیں لیکن اسلام کے مکمل غلبے تک مختلف رسم اور تہواروں

نوم نِکھَتو

Hadayat Ullah Akhtar

مجھے نہیں معلوم کی شہرت کے لئے شینا زبان میں کونسا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن جب سے سوشل میڈیا کا دور آیا ہے ایک لفظ “نوم نکھتو” گلگت سے تعلق رکھنے والے یو ٹیوبرز اینکر پرسنز اور صحافی حضرات

غذر ایکسپریس وے یا خونی سڑک

Hadayat Ullah Akhtar

میری معلومات کے مطابق گلگت بلتستان میں 1800 سے پہلے سڑک کا کوئی تصور یا وجود نہیں تھا اور رسائی کے وسائل محدود تھے لوگ پگڈندیوں کے ذریعے بڑی مشکلوں سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے یا راستے میں

گلگت بلتستان: انتظام و تاریخ، مختصر جائزہ

Hadayat Ullah Akhtar

دنیا کے نقشے میں نہ آزاد کشمیر ہے تو نہ گلگت بلتستان البتہ دنیا کے نقشے میں کشمیر ہزاروں سال سے موجود تھا ۔ان ہزاروں سالوں میں اس ریاست نے بڑے اتار

سیاسی جوتے

Hadayat Ullah Akhtar

شینا زبان میں جوتے کے لیئے اردو کا لفظ پیزار یا بوٹ استعمال کیا جاتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس کے لیئے کسی شینا لفظ کا انتخاب کیا جائے تو اس کے لیئے میں شینا لفظ تھوٹی

تلوار سے شیر تک

Hadayat Ullah Akhtar

بڑی افسوس ناک خبر ہے ڈاکٹر عبدلقدیر کی رحلت کی اس دنیا سے ۔جانا تو سب کو ہے  رہنا کسے ہے اس دنیا میں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں  جب یہ دنیا چھوڑ دیتے ہیں تو فنا نہیں بلکہ

آزاد کشمیر۔۔عبوری صوبے کی باز گشت

Hadayat Ullah Akhtar

دو سال پہلے آج ہی کے دن  انڈیا کی مودی سرکار نے اپنے زیر نگرانی کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کر دی تھی ۔کس نے کیا کیا؟ اور کب کیا؟ ان سوالوں کا دفتر کھولا جائے تو یہ ایک داستان