بریکنگ نیوز

کارگاہ کی مورت: تاریخ، نسوانیت اور مقامی شعور کے بیچ ایک سوال

Loading

گلگت شہر سے تقریباً نو کلومیٹر دور ایک بلند چٹان پر ایک بڑی مورت تراشی گئی ہے، جسے لوگ آج کل “کارگاہ بدھا” کہتے ہیں۔ یہ مورت تقریباً پندرہ فٹ اونچی اور پانچ فٹ چوڑی ہے، اور اس کے اردگرد تیرہ سوراخ موجود ہیں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ چھٹی یا ساتویں صدی عیسوی میں بدھ مت کے دور میں بنائی گئی تھی، جب گلگت بلتستان بدھ مت کے اثر میں تھا۔ اس وقت یہاں بدھ بھکشو آتے تھے، خانقاہیں بناتے تھے، اور لوگوں کو بدھ مت کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ علاقہ اس زمانے میں مشہور سلک روٹ پر واقع تھا، جہاں سے چین، بھارت، وسطی ایشیا اور فارس کے لوگ گزرتے تھے۔ اشوکا بادشاہ نے بدھ مت کو پھیلانے کے لیے بھکشوؤں کو مختلف علاقوں میں بھیجا، جنہوں نے کشمیر، گندھارا اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں بدھ مت کی بنیاد رکھی۔ اشوکا کے دور میں ستوپے، خانقاہیں، اور چٹانوں پر نقاشیاں بنائی گئیں، جن کے اثرات گلگت بلتستان میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

اشوکا کے بعد بھی بدھ بھکشو مختلف ادوار میں گلگت بلتستان آتے رہے۔ انہوں نے یہاں خانقاہیں قائم کیں، تعلیم دی، اور مقامی لوگوں کو بدھ مت کی طرف راغب کیا۔ گلگت بلتستان کا جغرافیہ اور روحانی فضا بدھ مت کے لیے موزوں تھی۔ بعد میں چینی سیاح فاہیان بھی یہاں آیا، جو بدھ مت کی اصل تعلیمات کی تلاش میں چین سے پیدل ہندوستان آیا تھا۔ اس نے پاکستان، بھارت، اور وسطی ایشیا کے مقدس بدھ مقامات کا دورہ کیا، اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں کا ذکر بھی کیا۔ اس کا سفرنامہ چین میں بدھ مت کی بحالی کا ذریعہ بنا، اور اس نے گلگت بلتستان کو عالمی بدھ نقشے پر نمایاں کر دیا۔

یہ مورت جسے بدھ کہا جاتا ہے، جب ہم اسے اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں تو وہ عورت لگتی ہے۔ اس کا چہرہ، جسم اور انداز سب نسوانی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ اسے بدھ نہیں بلکہ ایک دیوی یا بدروح سمجھتے ہیں۔ مورت کی جسمانی بناوٹ—چہرے کی نرمی، جسمانی تناسب، اور بازوؤں کی ترتیب—واضح طور پر مونث ہے۔ مقامی لوگ اسے “یشانی” یا “یچھنی” کہتے ہیں۔ ہندو مت میں دیوی کو شکتی یعنی الہی نسوانی توانائی کی علامت مانا جاتا ہے، جو تخلیق، تحفظ اور تباہی کی طاقت رکھتی ہے۔ دیویاں جیسے لکشمی، درگا، اور ساراسوتی صرف شریک حیات نہیں بلکہ خود مکمل الہی مظاہر ہیں۔ دیوی کی عبادت افراد کو بااختیار بنانے، روحانی رہنمائی اور کائناتی توازن کے لیے کی جاتی ہے۔ بدھ مت میں اگرچہ بدھ کو خدا نہیں بلکہ ایک بیدار انسان مانا جاتا ہے، لیکن مہایان اور وجریانہ بدھ مت میں تارا اور پراجنیاپرامیتا جیسی دیوی شخصیات موجود ہیں، جو رحم، حکمت اور روحانی رہنمائی کی علامت ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کارگاہ بدھا دراصل کارگاہ میں واقع نہیں بلکہ نپورہ سے ملحقہ ایک گاؤں میں واقع ہے۔ مگر چونکہ یہ کارگاہ کے راستے پر پڑتا ہے، اس لیے “کارگاہ بدھا” کے نام سے مشہور ہوا۔ کارگاہ کی حدود اس مقام سے تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر دور جا کر شروع ہوتی ہیں۔ یہ نام مقامی حدود کی درستگی کے بجائے راستے کی پہچان پر مبنی ہے، جو خود ایک دلچسپ مثال ہے کہ کس طرح جغرافیہ اور روایت مل کر شناخت تشکیل دیتے ہیں۔

یہاں کی پرانی کہانیوں میں “یشانی” یا “یچھنی” نام کی ایک دیو جیسی عورت کا ذکر آتا ہے، جو انسانوں کو کھا جاتی تھی۔ روایت ہے کہ ایک ولی یا شمن (دئیل کھمیٹو) نے اسے قابو کیا اور اسی چٹان میں چھید کر قید کر دیا۔ بدھ کی مورت کے اردگرد موجود تیرہ سوراخ اسی قید کے نشان سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس ولی نے یشانی یا یچھنی کو قابو کیا، اسے بعد میں قتل کر کے اسی چٹان کے نیچے دفن کیا گیا۔ ان سب کہانیوں میں یشانی  یا یچھنی کو ایک خوفناک عورت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور یہی تصور آج بھی لوگوں کے ذہن میں موجود ہے۔ مورت کی بلندی، تنہائی، اور پراسرار مقام نے اسے مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ مقامی شعور میں ایسی جگہیں اکثر بدروح، دیوی یا محافظ کی علامت ہوتی ہیں۔ یشانی  یا یچھنی کی کہانی نے اس مورت کو صرف تاریخی نہیں بلکہ روحانی اور جذباتی علامت بنا دیا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے مقامی روایات کو بڑے شوق اور ولولے سے ذکر کیا ہے، لیکن اس کی نسوانیت اور مقامی نام “یچھنی” کی تحقیقات نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات واقعی غور طلب ہے کہ علمی حلقے مقامی بیانیے کو “دیومالائی” کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، یا پھر صنفی شناخت کو مذہبی علامتوں کے تابع سمجھتے ہیں۔ مگر جب آنکھ عورت دیکھ رہی ہے، تو اسے مرد کہنا تاریخ سے انکار ہے۔ یہ مورت صرف ایک تاریخی مجسمہ نہیں بلکہ کئی تہذیبوں، عقائد، اور کہانیوں کا سنگم ہے۔ اس کی شناخت صرف سنسکرت کے مخطوطوں سے نہیں بلکہ مقامی شعور، خوف، عقیدت اور لوک دانش سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ سوال آج بھی قائم ہے کہ آخر ماہرین نے اس نسوانی پہلو کو کیوں نظرانداز کیا؟ کیا یہ علمی تعصب ہے، یا محض غفلت؟ شاید کوئی ماہر اس پہلو کو سنجیدگی سے دیکھے اور اس مورت کی نسوانیت، مقامی نام، اور لوک شعور کو بھی تاریخ کا حصہ بنائے۔ یہ سوال اب تاریخ کے ماہرین کے لیے ایک کھلا سوالیہ نشان ہے

ہدایت اللہ اختر

Marital Status: Married Interests: Health,Education& Environment Research work,Traveling Hunting,Fishing & photography are Relaxation About Me: Introduction: Hidayatullah Akhtar (Urduہدایت اللہ آختر‎) is a columnist, writer, poet, social worker and Ex Govt servant from Gilgit Pakistan. He has written many Urdu columns for various Urdu-language newspapers in Gilgit Pakistan. He has also served as Manager IDBP Gilgit,ADBP Islamabad and Regional Manager SME Bank in Gilgit Hidayatullah Akhtar is also Founder member of the Halqa eArbab Zoq and Krakrum Writers Fourm Gilgit Career and education: Hidayatullah Akhtar received a Master's degree in Master of Business Administration from Punjab University, Lahore. He has served as Regional Manager SME Bank Gilgit Pakistan. He received and attended various seminars and workshops within Pakistan and Project Supervision course certificate from PDCP (Private Development Corporation Manila Philippines. He is presently Administrator Northland Public Schools Gilgit and is over all in charge of community as partner Development Organization. He is also president of DNN (District NGO Net wok Gilgit . Bibliography: Aina-e-Dardistan (An informative Book about Gilgit Baltistan 1987)

اس مصنف کی مزید پوسٹس →

اپنا تبصرہ لکھیں