![]()
آئیں آج پہل گام چلتے ہیں اگر آپ چھو گام، بٹگرام، نو گام ، کے نام سے واقف ہیں تو یقیناً آپ پہل گام سے بھی واقف ہونگے جو برصغیر پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے دیگر گاموں کے ساتھ سب کے سب ریاست جموں و کشمیر میں شامل تھے ۔ تقسیم کے بعد یہ گام کوئی ادھر تو کوئی ادھر کے ہوکے رہے ۔جموں کشمیر کے باسیوں کے لیئے گام کا لفظ کوئی نیا نہیں یہ لفظ یہاں بولی جانے والی زبانوں میں مشترک ہے جس کے معانی گائوں یا بستی کے ہیں ۔رہی بات پہل کی تو اس کشمیری لفظ کے معانی گڈریا کے ہیں اس حوالے سے پہل گام کو گڈریوں کی بستی کہا جاتا ہے۔ یہ گڈریوں والی بستی جو اس وقت بھارت کے زیر انتظام ہے اس کا محل وقع اور جغرافیہ دنیا کے لیئے شائد نیا لگے لیکن ہندوستان اور پاکستان کے زیر انتظام رہنے والے باسیوں کے لیئے نہیں ہم سب اپنی ریاست کے چرواہے اور گڈرئے ہیں جو مختلف گاموں میں مختلف ناموں سے اس وقت سے آباد ہیں جب بھارت اور پاکستان کا وجود ہی نہیں تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ان گاموں میں بسنے والے گڈرئے یا چرواہے محبت اور جنگ میں سب کچھ جائزہے کے فلسفے کے بھینٹ چڑہ گئے ہیں۔ محبت اور جنگ دونوں انتہا کی حدیں ہیں دونوں صورتوں میں انسان جنونی بن جاتا ہے اور انسان کی جب کیفیت جنونی بن جاتی ہے تو اسکا ذہن ماوف ہوجاتاہے اورجب ذہن ماوف ہوجائے تو پھر اس سے عجیب و غریب حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں ۔ آج کے پاکستان اور ہندوستان کے حالات اورواقعات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت محبت کی نہیں جنگی جنونی کیفیت کا دور چل رہا ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ صورت حال کوئی نئی نہیں بلکہ یہ تو پچھلے 78 سالوں سے سب کی دیکھی بھالی ہے ۔ اس کی وجوہات میں جہاں برطانیہ حکومت کی غیر منصافانہ تقسیم کا عمل دخل ہے وہاں اب تک ریاست جموں و کشمیر تنازعے کا حل نہ ہونا بھی ہے ۔ جموں کشمیرگلگت بلتستان تنازعہ 1949 سے چلا آرہا ہے ۔آج کی جنگی جنونی کیفیت کا تعلق بھی بالکل اسی طرح کا ہے جیسے 1947 کی پہلی جنگ جسے تحریک آزادی کشمیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔یہ تحریک کیسے شروع ہوئی اور جیتی بازی پاکستان کیسے ہارا اور ہندوستان نے کیسے جوناگڑہ کو اپنے قبضے میں کر لیا اس لمبی کہانی کا ذکر کرنا ایسا ہے کہ گلے شکووں کا دفتر کھولا جائے اور یہ وقت گلے شکوے کے دفتر کھولنے کا نہیں بلکہ اس بات کے جائزے کا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان پچھلے 78 سالوں سے آپس میں گھتم گھتا یا دست گریباں یا اٹھکلیاں کر رہے ہیں ان اٹھتر سالوں میں اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں ان نتائج کی طرف دیکھا جائے تو اس خطے میں ہمیں بھوک افلاس لاچاری غربت مظلوم ومحکوم لوگوں کی آہ و بکا کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ آج کی یہ آہ و بکا جو میں کر رہا ہوں یا لکھ رہا ہوں یہ اس ریاست کی آہ و باکا ہے جسے دنیا ریاست جموں و کشمیرگلگت بلتستان پکارتی ہے اور یہاں بسنے والوں کی آہ و بکا ہے ۔پہل گام میں جو دہشت گردی ہوئی اور جس بھونڈے طریقے سے ہندوستان کی مودی سرکار نے پاکستان پر الزام لگایا اس سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ مودی سرکار وہی پرانی تاریخ دہرا رہی ہے جو نہرو اور پٹیل نے ریاست جموں و کشمیر اور جونا گڑھ کے بھارت کے ساتھ الحاق کے سلسلے میں اپنایا تھا جس باعث آج تک کشمیر کا تنازعہ حل نہیں ہوا اور موجودہ صورت حال ہمیں بتا رہی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان اس تنازعہ کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔وہ ریاست جسے دنیا جموں و کشمیر کے نام سے جانتی ہے اس وقت سے عتاب کا نشانہ بنی جب پاکستان اور ہندوستان نے محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز سمجھا ۔ اگر یہ دو ممالک محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز نہ سمجھتے تو نہ ریاست تقسیم در تقسیم ہوتی اور نہ ہی دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات جنم لیتے۔ ،اسلامی حوالے سے دیکھا جائے تو اللہ نے زندگی گزارنے اور تربیت کے اصول مقرر کئے ہیں ۔محبت اور جنگ کے بھی آداب بتائے ہیں تاریخ اسلام مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔اب تک کی جتنی بھی جنگیں کشمیر کے معاملے میں پاکستان اور ہندوستان لڑ چکے ہیں ان میں ایک کا ذکر پہلے آچکا ہے اسکے بعد 1965 میں ان دو ملکوں کا آمنا سامنا ہوا 1971 اور 1999 کی کارگل کیا یہ جنگیں امن وخوشحالی کا باعث بنی ہیں یا اس خطے میں تناؤ میں اضافہ کا ۔اس کا اندازہ آپ خود بخوبی کر سکتے ہیں ۔ پہل گام کے واقع کے بعد ہندوستان کا پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور مختلف مقامات پر حملہ اورپاکستانی جوابی کاروائی سے پانچ ہندوستانی جہازوں کی تباہی نے حالات کواور زیادہ گھمبیر بنا دیا ہے ۔ اس وقت جہاں دونوں ملکوں میں جنگ کا سماں ہے اور بھارت کے حملے کے بعد پاکستان جوابی کاروائی کی تیاری کر رہا ہے وہاں عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ کی مداخلت سے سفارتی بحث و مباحثہ بھی جاری ہے ۔سوال یہاں یہ ہے کہ اگر جنگوں سے مسائل حل ہوتے تو دنیا اس وقت جس دہشت گردی کا رونا رورہی ہے وہ رونما ہی نہیں ہوتے ۔ یہ جنگیں ہی ہیں جو دہشت گردی کو مدد اور تعاون فراہم کرتی ہیں ۔اس سے نمبٹنے کا واحدحل یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مرکزی تنازعہ ریاست جموں و کشمیر کےحل کی طرف بڑھا جائے ۔دونوں ملک کھلے دل کے ساتھ تاریخی حقائق کو تسلیم کریں ریاست جموں و کشمیر کے عوام جو اس تنازعہ کے اصل فریق ہے ان کے مفادات کو مقدم رکھا جائے اورجنگوں سے پرہیز کرتے ہوئے اس کے پر امن حل کی طرف سنجیدگی سے غور کیا جائے اور وہ تمام بین الاقوامی تنظیمں جس میں اقوام متحدہ سر فہرست ہے صحیح معنوں میں غیر جانبدارثالثی کا کردار نبھائے ۔ اور دنیا کو اس بھونڈے اور بے ہودہ فلسفہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے کو ترک کرنا چاہئے اور اسلامی فلسفہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز نہی بلکہ جو ہو وہ منصفانہ ہو کے فارمولے کو اپنا کر۔انسانیت اور خوشحالی کے خاطر اور دونوں ملکوں کے درمیان دیرپا امن کو یقینی بنانے کا راستہ اپنا کر ریاست جموں و کشمیر کے تنازعہ کو یہاں کے بسنے والوں کی مرضی اور منشا سے کسی منطقی نتیجے تک پہنچایا جائے یہی انسایت ہے یہی انصاف ہے اور یہی امن و سلامتی ہے
