حوصلہ ہار جانا ،ثابت قدمی کا دامن چھوڑ دینا ، حالات کی سختی سے گھبرا جانا اب میری سرشت میں شامل نہیں ہے:با ہمت خاتون زینب بی بی

پاکپتن (ایف یو نیوز) زینب بی بی ملکہ ہانس میں واقع مہر شاہ قبرستان کی جناز گاہ کے گیٹ کے قریب جوتے گانٹھنے کا کام کرتی ہے مظبوط ارادوں کی حامل اس خاتون کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔زینب بی بی کی عمر تقریباً تیس برس ہے ملکہ ہانس کے محلہ مہر شاہ میں رہائش پذیر ہیں گذشتہ چھ سال سے جوتے گانٹھنے کا م کرتی ہیں زینب کا کہنا ہے کہ عورت ہوتے ہوئے مردوں والا کام کرنا ،ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اسی لئے ابتدا میں مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑامیرے بچوں کا کیا بنے گا ؟ میں نے یہی سوچا اور اپنی روزی کمانے کا حیلہ کرتی رہی لوگ بہت سی باتیں کرتے تھے۔اگر ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جاتی تو بچے کہاں جاتے ؟اللہ تعالیٰ اور خاوند کے بعد آخری سہارا والد کا تھا جن کا 7سال پہلے انتقال ہو گیا تھاکوئی بھائی بھی نہیں تھا زینب کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کام اپنے والد سے سیکھا تھا۔والد صاحب بیمار رہتے تھے، مجھے بتاتے تھے اور میں کام کیا کرتی تھی انہی کا سامان پڑا تھا ہنر بھی میرے پاس تھا تو میں نے چھ سال پہلے یہ کام با قاعدہ طور پر شروع کیااپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں زینب نے بتایا کہ انکی شادی تقریباً 8سال پہلے ہوئی تھی شادی کے تقریباً تین سال بعدگھریلو نا چاکی کے باعث انہیں اپنے والدین کے گھر آنا پڑاقبرستان کے عقب میں واقع ایک چھوٹے سے مکان میں زینب اپنی بوڑھی ماں،بیوہ بہن اور دو بچوں (ماشاء اللہ عمرچھ سال ، ابو بکر عمر چار سال) کے ساتھ رپچھلے چار سال سے رہ رہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ چن پیر پاکپتن کے قریب رہتے تھے انکا سسرال بھی وہیں قریبی آبادی میں تھامیں نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنا کام کرنے کو ترجیح دی زینب نے بتایا کہ اب گھر کے تمام افراد کی کفالت ان کے ذمے ہے بڑی بہن بیوہ ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ رہتی ہیں، محنت مزدوری کرتی ہیں میں چاہتی ہوں کہ میرا بیٹے پڑ لکھ جائیں بڑا بیٹا سکول جاتا ہے میں خود بھی 6 جماعتیں پڑھی ہوئی ہوںآمدنی کے متعلق سوال پر زینب کی آنکھیں نم ہو گئیں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے زینب نے بتایا کہ ایک دن میں ایک ڈیڑھ سو کما لیتی ہوں کبھی کھبی تو ایک پیسہ بھی نہیں آتاخاوند (زمان) نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی اپنے گھر واپس لے کے جاتا ہے کما کر نہیں دیتا تھا بچے بھوکھے مجھ سے دیکھے نہیں جاتے تھے اس لئے اپنے ابو کے گھر چلی آئی ۔ خاوند نے کبھی کوئی رابطہ نہیں کیا زینب کے پڑوسی کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کے اس طرح کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا بازار میں بیٹھے ہوئے ہر قسم کے لوگوں اور انکی باتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے زینب بی بی ایک بلند حوصلے اور ہمت والی خاتون ہیں ہم انکے عزم کو سلام پیش کر تے ہیں زینب بی بی ایسے افراد کے لئے رول ماڈل کی حثیت رکھتی ہیں جوحالات سے گھبرا جاتے ہیں یہ خود اعتمادی کی مثال ہیں زینب بی بی نہ صرف اپنے بچوں بلکہ ماں اور بیوہ بہن کی بھی کفالت کر رہی ہیں انہوں نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ بینظیر انکم سپورٹ کے لئے درخواست دی تھی تا ہم انکو انکم سپورٹ کی رقم نہیں مل رہی۔۔۔

Short URL: http://tinyurl.com/gwrybos
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *