شہید پولیس ملازم کے بیٹے کو محکمہ پولیس نے خوا ر کرکے رکھ دیا

فاروق آباد (ایف یو نیوز) شہید پولیس ملازم کے بیٹے کو محکمہ پولیس نے خوا ر کرکے رکھ دیا ،تاریخ پے تاریخ ،انکوائری پے انکوائری اور نتیجہ صفر ،شہید پولیس ملازم میاں عبدالرحمن کے یتیم اورمسکین بچے محکمہ پولیس کی بے حسی کا نشان بن کررہ گئے میاں عبدالرحمن تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ میں بطور محرر دوران سروس مورخہ یکم فروری 2016کو اچانک دل کا دورا پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملے ،ان کا ایک بیٹا 22سالہ عثمان علی ،19سالہ ارسلان علی اور 17سالہ فیصل رحمان زیر کفالت ہیں ان بچو ں کی حقیقی والدہ دوسال قبل 23مئی 2014کو فوت ہوچکی ہے باپ اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جانے سے ان بچوں پر کیاکرب و مصیبت گذر رہی ہے یہ تو یہ بچے ہی جانتے ہیں لیکن محکمہ پولیس کی اپنی روایتی نااہلی اور ہٹ دھرمی نے ان یتیم اور مسکین بچوں کو خوار کرکے رکھ دیا ہے اور بچے اپنے حق کیلئے محکمہ پولیس کے دفاتر کے چکر لگالگا کر تھک چکے ہیں 22سالہ عثمان جو کہ اپنے مرحوم والد میاں عبدالرحمن کے ڈیتھ کوٹہ میں بھرتی ہو نا چاہتا ہے اور یہ اس کا قانونی حق بھی ہے پنجاب گورنمنٹ پولیس رولزکے مطابق فوت یا شہید ہونے والے پولیس ملازم کے کسی ایک بیٹے کو اس کے مرحوم باپ کی جگہ پر بھر تی کرنے کا قانون موجود ہے اوراسی قانون کے تحت عثمان علی نے بھرتی ہونے کیلئے درخواست دائر کررکھی ہے ۔اعلیٰ حکام کو دی جانے والی درجنوں درخواستوں پر اب تک کوئی سنوائی اور دادرسی نہ ہوئی ہے شہر فاروق آباد کی سیاسی سماجی ،ادبی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،آئی جی پنجاب پولیس ،ڈی پی او شیخوپورہ اور دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ ان بچوں کو محکمہ واجبات اور ملازمت جلداز جلد دی جائے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hwuc5u5
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *