ہارون آباد: نام نہاد لادینی جمہوریت کے چمپیئنوں مسلمانوں کے مفاد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا: ڈاکٹر احسان باری

ہارون آباد: قائد اللہ اکبر تحریک ڈاکٹر میاں احسان باری نے کہا ہے کہ نام نہاد لادینی جمہوریت کے چمپیئنوں اور خلیجی ممالک کی ہمہ قسم تنظیموں و اتحادوں نے آج تک دنیا بھر کے مسلمانوں کے مفاد کے لیے کچھ بھی نہیں کیایہ ہر مسئلہ پر نشستند، گفتند ،برخواستندکے علاوہ موجودہ مسائل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر رہے ہیں بعض مفکرین کے دماغوں میں یورپی یونین کے مقابلہ میں ایشیائی یونین بناڈالنے کا مالیخولیاجنم لے رہا ہے بے چارے نہیں جانتے اگر کوئی ایسی یونین بنا بھی ڈالی جائے تو اس کا رتی برابر بھی فائدہ عالم اسلام کے کسی ملک کو نہ ہو گا کہ اس میں بھارت بڑا پردھان منتری بن کر بیٹھے گاکہ ہندو نام نہاد سیکولر بنیا سامراج تو مغربی لادینی سرمایہ پرست سامراجیوں سے بھی زیادہ زہریلا اور اسلام دشمن ہے مشہور ہے کہ بغل میں چُھری اور منہ میں رام رام ۔ڈاکٹر باری نے کہا کہ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے اصل کی طرف لوٹ جانا چاہیے اور اللہ اکبر تحریک کے جھنڈے تلے سارے اسلامی ممالک کے سربراہوں حتیٰ کہ سبھی بادشاہوں کو بھی اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کر کڑوا گھونٹ پینا ہی سمجھتے ہوئے جوق در جوق شامل ہوجانا چاہیے کہ یہی وہ پاکیزہ ترین لفظ ہے اور اعلیٰ ترین نام کی جماعت ہے جس پر عالم اسلام متحد و متفق ہو سکتا ہے اللہ اکبر ایسا متبرک ترین کلمہ ہے جو کہ مکمل جامع با معنی اور قطعاً اختلافی نہ ہے جو کہ خدا کی کبریائی اور سر بلندی کو ظاہر کرتا ہے اس لیے اسے اتحاد و اتفاق کی علامت گردانتے ہوئے اس پر اکٹھے ہونا اور اس کے جھنڈے کو تھام لینا سب سے آسان ہے یہ ایسا لفظ ہے جو کہ شیعہ سنی دیو بندی بریلوی اور اہلحدیث مسالک کوایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتا ہے پھر عالم اسلام کی مشترکہ فوج ، مشترکہ کاروبار ، مشترکہ اسلامی بینکنگ ، مشترکہ کرنسی تیار کرلی جائے تو اللہ اکبر کا جھنڈاپہلے پورے عالم اسلام اور پھر پوری دنیا پر انشاء اللہ لہرائے گا اور خدا کی زمین پر اللہ اکبر تحریک کے ذریعے خدا کی حکومت قائم ہو جائے گی اور ایسی پاک سرزمین کو آقائے نامدار محمد ﷺکی چمکتی کرنیں تا قیامت منور کرتی رہیں گی تمام مسلمان شیر و شکر ہو جائیں گے اور معمولی جھگڑے ویسے ہی دفن درگور ہو جائیں گے پھر جو فرقہ واریت اور مسالک کے جھگڑے چھیڑے یا ایسی تنظیمیں بنائے گا تو پوری ملت اسلامیہ متحد و متفق ہو کر اس کا ایسا احتساب کرے گی کہ اسے چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گااللہ اکبر کا لفظ تو مسلمان پانچ وقت نمازوں سے قبل اذانوں میں اور پھر نمازوں کی نیت ، رکوع ، سجود اورتشہد میں بار بار دھراتے ہیں نو زائیدہ بچوں کے کان میں بھی تکبیر اللہ اکبر بلندکی جاتی ہے حتیٰ کہ جنازوں تک میں بھی یہی کلمات دھرائے جاتے ہیں پھر اللہ اکبر تو ایسا افضل ترین لفظ ہے جس کے نعرہ ہائے تکبیر بلند کرکے اور اس پر کامل یقین رکھ کر خالد بن ولید ، صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم جنگوں میں فتح مند رہے اللہ اکبر تحریک کا تو مقصد ہی خدا کی کبریائی، اس کی عظمت ، اس کی پوری زمین پر خدائی کو تسلیم کرکے اسے حاکم ماننا ہے جس کا مقابلہ تو کوئی کر ہی نہیں کرسکتا نہ کوئی نام نہاد اتحاد ، یونین یا گروہ اس کے مقابل ٹھہر سکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ غداران اسلام ، ملت اسلامیہ کے دشمنان اور بکاؤ چندہ خور مُلاؤں نے میر جعفر و میر صادق نما شخصیات کا روپ دھار کر فرقہ واریت اور مسالک کے بتوں کے پجاری بن کراور ان کے تحت جنگوں کو چھیڑ کر جو دین اسلام کا نقصان کرڈالا ہے اور جو آگ بھڑکائی ہے اسے ٹھنڈا ہوتے ہوتے ایک عرصہ لگے گابرائی کو جڑ میں ہی دبا ڈالو۔اس لیے اس نوکیلے زہریلے پودے کو زمین سے مزید سرنکالنے کی اجازت نہ دینی چاہیے اور اس کا حل صرف اللہ اکبر تحریک کے پروگرام دستور و منشور کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے اتحاد و اتفاق کی آبیاری کرتے ہوئے سنگلاخ چٹانوں کی طرح مظبوط حصار قائم کرڈالیں تاکہ کوئی مسلمان اس سے باہر نکل ہی نہ سکے اور مسالک و فرقہ واریت کے بُت گہرے دفن ہوجائیں تو ہی خدا کے فضل و کرم سے کامیا بی ہمارے قدم چومے گی ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hjk842f
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *