پپلاں: پُل سائفن سلطانے روڈ پر سر شام ڈکیتی کی واردات، مزاحمت پر چشمہ پروجیکٹ کا ملازم قتل

پپلاں : پُل سائفن سلطانے والا چشمہ جہلم کینال لنک روڈ پر سر شام مسلح ڈکیتی کی واردات ،مزاحمت پر نا معلوم مسلحہ ڈاکوؤں نے چشمہ پروجیکٹوں کے سیکیورٹی ملازم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا اطلاع کے باوجود پولیس کے بروقت موقع واردات نہ پہنچنے پر اہل علاقہ کا ایم ایم روڈبلاک کر کے کئی گھنٹے تک شدید احتجاج ایم ایم روڈ پر ٹریفک جام گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ واقعات کے مطابق نواحی علاقہ سلطانے والا کا رہائشی40سالہ محمد زمان ولد محمد شیر چدھڑ گزشتہ شام اپنی ڈیوٹی پر پی اے ای سی چشمہ آرہا تھا کہ سیفن پل کے شرقی جانب3پلی کے قریب نامعلوم ڈاکوؤں نے ڈکیتی کی نیت سے اسے روکا مزاحمت پر انہوں نے فائرنگ کر کے اسے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے مقتول پاکستان اٹامک انرجی میں بطور سیکورٹی گارڈ ملازم تھا جو دو بچوں کا باپ بتایا گیا ہے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ کے سینکڑوں مکین جائے واردات پر پہنچ گئے واقعہ کی اطلاع مقامی پولیس کو دی گئی لیکن پولیس بروقت نہ پہنچی تاہم پی اے ای سی کے سیکیورٹی انچارج اور دیگر عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا پولیس کی بے حسی کے خلاف اہل دیہہ نے رات گئے تک نعش سڑک پر رکھ کر ایم ایم روڈ روڈبلاک کر دیا اورمظاہرین نے شدید احتجاج اورنعرہ بازی کرتے ہوئے واقعہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ان کا مطالبہ تھا کہ ڈی پی او موقع پرآکرمقامی پولیس کے تاخیر پر پہنچنے کا نوٹس لے کر پولیس کے خلاف کارروائی کریں جبکہ پپلاں سرکل کے تینوں تھانوں پپلاں ہرنولی اور کندیاں کی پولیس اپنے تھانے کی حدود نہ ہونے کا کہہ کر مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتی رہی مظاہرین کے شدید احتجاج پر ڈی ایس پی پپلاں سرکل فرخ سہیل سندھو تینوں تھانوں کی پولیس اور سابق ایم پی اے ملک فیروز جوئیہ بھی موقع پر پہنچ گئے جبکہ محکمہ مال عملہ کو بھی موقع پر بلایا گیا مظاہرین کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا کہ یہ علاقہ تھانہ پپلاں کی حدود میں شامل ہے اور اسکا مقدمہ پپلاں میں درج کرنے سمیت اس علاقہ میں پولیس چوکی بھی بنائی جائے گی جس پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کر دیا جبکہ پپلاں پولیس نے نعش کو اپنی تحویل میں لیکر اسکا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی اور رات گئے تھانہ پپلاں میں دو نامعلوم مسلحہ ڈکیتوں کے خلاف زیر دفعہ302/392 ت پ کا مقدمہ نمبر35/15 درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی علاوہ ازیں مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جائے واردات پر آئے روز ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں اور تین تھانوں پپلاں ہرنولی اور کندیاں کی پولیس اپنے تھانے کی حدود نہ ہونے کا کہہ کر بری الذمہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے مسلسل وارداتیں ہو رہی ہیں نیز انھوں نے مطالبہ کیا کہ جائے واردات پر پولیس چوکی بنائی جائے و اضح رہے کہ جائے واردات چشمہ کے پاور پروجیکٹوں سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے اور یہ علاقہ حساس مقامات کا درجہ رکھتا ہے اور سر شام اس قسم کی وارداتیں پنجاب پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔










Leave a Reply