داؤد خیل: سیکیورٹی گارڈز مہیا کرنے والی سیکورٹی کمپنیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے

داؤدخیل ( ذوالفقارخان ) ضلع میانوالی میں اکثر سیکیورٹی گارڈز مہیا کرنے والی سیکورٹی کمپنیوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔سردار خان ، حبیب الرحمن خان اورکونسلر امین اللہ خان نے ایک سروے کے دوران بتایا کہ موبائل کمپنیوں کے ٹاورز پر کام کرنے والے سیکیورٹی گارڈزہوں یا بنکوں اور پی ٹی سی ایل ایکسچیجز پر تعینات سیکورٹی اہلکار سب کے ساتھ انتہائی ظلم روا رکھا جا رہاہے ۔ بارہ بارہ گھنٹے ان مزدوروں سے کام لیا جاتا ہے ۔ لیکن چھ سے دس ہزار روپے تک ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے ۔حفیظ اللہ قریشی ، نجیب اللہ خان اور انعام اللہ خان نے کہا کہ اقصیٰ نامی سیکیورٹی کمپنی کے سیکورٹی گارڈز ضلع میانوالی کے کئی شہروں میں نیشنل بنک پرمامور ہیں، جنہیں بارہ گھنٹے ڈیوٹی کے صرف دس ہزار روپے دیئے جارہے ہیں، حالانکہ گورنمنٹ کی طرف سے آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کے بارہ ہزار روپے ماہانا اجرت مقرر کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے اور یہ سیکیورٹی کمپنیوں کے مالکان تنخواہیں بڑھانے کی بجائے کم کرتے جا رہے ہیں ۔محمد یوسف خان ، عبدالجبار خان ، شاہد حمید خان اور عرفان اللہ خان نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کی ایکسچینج پر سیکیورٹی گارڈز کے فرائض سر انجام دینے والے اہلکاروں کو بہت کم اجرت دی جارہی ہے ، مزدور چیخ چیخ کر تھک گئے ہیں لیکن ابھی تک سیکیورٹی کمپنیوں کے ذمہ داران کو ترس نہیں آیا ۔ اے این پی ضلع میانوالی کے سر پرست اعلیٰ خلاص خان جھنگے خیل ،صدر حبیب اللہ خان کامریڈاور محمد اکرم خان نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں اکثر سیکیورٹیز کمپنیاں مزدوروں کا استحصال کر رہی ہیں ۔ سیکیورٹی گارڈز اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور گھروں میں اُن کے بچے روٹی ، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ ادویات کے لئے بلک رہے ہیں ، بارہ گھنٹے ڈیوٹی کے چھ سے دس ہزار روپے سے دو افراد کا گزارہ بھی ناممکن ہے تو ایک غریب آدمی بچوں کو تعلیم کس طرح دلوائے گا۔ مجیب اللہ نیازی ،محمد سعید اعظمی اور نیشنل لیبر فیڈریشن پنجاب کے سابق صدر عبدالوہاب نیازی نے کہا کہ پچھلے سال آٹھ گھنٹے کی اُجرت بارہ ہزار روپے مقرر کی گئی تھی اور اب تو مہنگائی کئی گنا بڑھ چکی ہے لیکن حکومت کی ناک کے نیچے یہ سیکیورٹی کمپنیاں مسلسل ظلم کئے جا رہی ہیں ۔ انہوں نے آزاد عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ اس ظلم کی فوری تحقیقات کر ائی جائیں اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق گرفت کی جائے اور آئندہ کیلئے حکومت کی طرف مقرر کردہ کم از کم ماہانہ تنخواہ دینے کا پابند کیا جائے ۔کئی سیکورٹی گارڈز نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایاکہ ہمیں تنخواہ بھی بروقت نہیں دی جاتی۔ ہماری کمپنی کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہیں۔ ہم مجبوراََ بے روزگاری کے خوف سے نوکری کر رہے ہیں۔ سیکورٹی کمپنیز کے ضلعی اور ڈویژنل سپروائزر ہماری موجودہ تنخواہ سے بھی پیسے نکال لیتے ہیں۔ ہماری تنخواہ باقاعدہ بنک اکاؤنٹس کے ذریعے ملنی چاہیے۔
Short URL: http://tinyurl.com/gn2h7qq
QR Code: 










Leave a Reply