داؤد خیل: تھل کینال پر نصف صدی پہلے بنایاگیا پُل اور اس سے ملحقہ پائی خیل راجباہ پر بنایا گیا پُل ٹوٹ پھوٹ کاشکار

داؤدخیل(ذوالفقارخان) پرانا لاری اڈا داؤدخیل کے پاس تھل کینال پر نصف صدی پہلے بنایاگیا پُل اور اس سے ملحقہ پائی خیل راجباہ پر بنایا گیا پُل ٹوٹ پھوٹ کاشکار۔ حادثات معمول بن گئے۔تھل کینال پُل کے فرش سے سریا نکل آیا۔چوڑائی نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں افراد اور گاڑیوں کو روزانہ مشکلات کاسامنا۔ سیاست دان خاموش تماشائی اور عوام رُل گئے۔ گزشتہ روز ایک سروے کے دوران ملک عبدالرحمن ایڈووکیٹ،عرفان اللہ خان لمے خیل اور سول انجنیئر محمدرمضان نے کہاکہ نصف صدی قبل بنایا گیا پُل اور ملحقہ راجباہ کا پُل انتہائی خستہ حالی اور ٹوپھوٹ کاشکار ہیں۔راجباہ کے پُل کی دیواریں اور کنارے مکمل طور پر نہر بُرد ہوچکے ہیں۔جبکہ تھل کینال پُل کی دیواریں اور فرش جگہ جگہ سے ٹوٹ کر نہر میں گر رہاہے۔ ذمہ داران کو درجنوں د ر خواستیں دی جاچکی ہیں مگر پچھلے پندرہ سال سے یہ مسئلہ حل ہونے بجائے گھمبیر ہوتا جارہا ہے۔عبدالغفار خان، حاجی ثنااللہ خان اور عبدالطیف خان نے کہا کہ تھل کینال کی توسیع کے موقع پر تھل کینال پر موجود اکثر پُل چوڑے کرکے ازسرِنو تعمیر کیے گئے مگر سب سے مصروف داؤدخیل کے پُل کو جوں کا توں چھوڑ دیاگیا۔یہاں سے روزانہ سینکڑوں کسان اورشہری مرد وخواتین، ٹریکٹر ٹرالی سے لے کر چھوٹی بڑی ٹریفک گزرتی ہے۔ٹوٹ پھوٹ اور چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے عوام کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔ شاکر عباس، یاسر عباس، سہیل ہاشمی اور نسیم عباس نے کہاکہ پُل کا فرش اوپر نیچے سے خستہ حالی کا شکار ہوچکاہے۔ جگہ جگہ سے گڑھے اور چھت سے سیمنٹ اکھڑ چکاہے۔جگہ جگہ سے سریا نکلا ہواہے۔ اپوزیشن ، حکومتی نمائندگان اور محکمہ انہار کے ذمہ داران خوابِ خرگوش کے مزلے لے رہے ہیں اور عوام کی زندگیاں داؤ پہ لگی ہوئی ہیں۔ شہریوں نے کہاکہ اگر تھل کینال پُل اور ملحقہ راجباہ کے پُل پر کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے مذکورہ پُلوں کی ازسرِنو تعمیر کا مطالبہ کیا۔
Short URL: http://tinyurl.com/zmhlcwr
QR Code: 










Leave a Reply