ایس ڈی او لیسکو کے ناروا سلوک پر صارف کا اقدام خود سوز ی، اہل علاقہ کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

فاروق آباد(سٹاف رپورٹر)کرپٹ ایس ڈی او لیسکو ساوتھ سب ڈویژن کے ناروا سلوک پرواپڈا صارف کا اقدام خود سوز ی ۔اہل علاقہ کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔تفصیل کے مطابق واپڈا کے ستائے ہوئے صارف محمد اشرف نے ایس ڈی او کے ناروارویہ اور رشوت طلب کرنے پر ایس ڈی او کے آفس میں پٹرول چھڑک خود کو آگ لگانے کی کوشش کی مذکورہ شخص نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ سب ڈویثرن میں کرپشن بد عنوانی کا بازار گرم ہے لاقانونیت اور اختیارات کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے بااثر سیاسی افراد کو بجلی کی مفت فراہمی اور غریب صارفین کو لائن لاسزکی مد میں اضافی بل بجلی ڈال دیا جاتا ہے کرپٹ ایس ڈی او لیسکو ساوتھ سب ڈویژن نے میٹر نصب کے عوض ہزاروں روپے رشوت کامطالبہ کر رہا ہے جوکہ میں دینے سے قاصر ہوں گزشتہ سال نیا میٹر نصب کرنے کیلئے ڈیمانڈ نوٹس جمع کروایا مسلسل ایک سال سے اس دفتر کے چکر کاٹ رہا ہوں لیکن ایس ڈی او حبیب الرحمن بغیر رشوت کے میٹر نصب کرنے کیلئے آمادہ نہیں متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ چند ہزار روپے پینشن لینے والا ریٹائر ملازم ہر ماہ بیس ہزار روپے کاڈیٹٹکشن بل کہاں سے اداکرے سرکاری عہدے پر براجمان ایس ڈی او لیسکو ساوتھ سب ڈویژن عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے لوگوں کو اقدام خود سوزی پر مجبور کر رہا ہے جو کہ افسوس ناک عمل ہے مقامی میڈیا نے متعلقہ ایس ڈی او سے خود سوزی کے متعلق جاننے کی کوشش کی تو مذکورہ ایس ڈی او نے واقعہ کی لاعلمی کا ڈرامہ رچایا اور میڈیا پر برس پڑے یہاں تک کے میڈیا نمائندگان سے ناروا رویہ اپناتے ہوئے ان کوسنگین نتائج کی دھمکیا ں دیں واپڈا صارف کا ایس ڈی او کے خلاف اقدام خود سوزی حکومت وقت کیلئے لمحہ فکریہ ہے پاکستان محمدی پارٹی کے سربراہ عبدالغفور میاں نے چیف ایگزیگٹیو لیسکو کو اس واقعہ کے متعلق آگاہ کرنے اوراسکے خلاف احتجاج ہونے کے باوجود بھی لیسکو چیف حرکت میں نہیں آئے جوکہ افسوس ناک بات ہے فاروق آباد کی سیاسی ،سماجی اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے وزیر اعظم نواز شریف ،چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ،وفاقی وزیر پانی وبجلی سے پر زور مطالبہ کیا ہے کرپشن کے بے تاج بادشاہ ایس ڈی اوواپڈاحبیب الرحمن کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے اسے کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hegeybc
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *