خوش آمد کی خرابی

Rehmat Ullah Baloch

تحریر: رحمت اللہ بلوچ
ساری خرابی عوام میں خوش آمدی سے پیدا ہوتی ہیں لوگ ہندوں سے اتحاد کرنے کیلئے لچر باتیں نکالتے ہیں اتحاد و اتفاق کا بہت جوش ہے اسی جوش میں ایسے عالی مضامین اور باریک نکات سوجھتے ہیں میں نے کسی پرانے رسالے میں پڑھا کہ مظفر گڑ میں ایک ہندو نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جب تک ہم میں اتفاق نہ ہوگا کامیابی نہیں ہوسکتی پھر کیا جانتے بھی کہ ہم کے معنی کیا ہوتے ہیں ہم کے معنی ہندو اور مسلمان ہا سے مراد ہندو اور م سے مسلمان پھر کہا کہ ہمارے ہندو بھائی نا خوش نہ ہوں کہ ہا تو ذراسی ہے اور میم لمبا ہے بات یہ ہے کہ ہندو تو ہندوستان ہی کے اندر اندر ہیں یہ کہیں باہر سے نہیں آئے مسلمان عرب ایران وغیرہ بہت دور سے آئے ہیں تو انکی مسافت بہت لمبی ہے اسلئے مسلمانوں کے واسطے میم اختیار کیا گیا اور اسکو لمبا لکھا گیا مگر اس شخص نے مسلمانوں کی بابت یہ خیال نہ کیا کہ شاید وہ یہ شبہ کرنے لگیں کہ ہا کو پہلے لکھا گیا اور میم کو پیچھے اور ہا کو میم کے سرپر سوار کیا گیا اسکی کیا وجہ ? شاید اسکا یہ جواب دیا جائے ہندو یہاں پہلے سے رہتے ہیں اور مسلمان بعد میں آئے ہیں اسلئے ہا کو پہلے اور میم کو پیچھے لایا گیا مگر یہ شبہ پھر بھی باقی رہا کہ ہا کو میم کے سرپر سوار کیوں کیا گیا اسکو پہلے ہی لکھا ہوتا مگر میم سے الگ لکھا ہوتا مگر اتحاد و اتفاق ظاہر کرنے کیلئے خلط کی ضرورت پڑی ہو اسلئے ایسا کیا گیا واہیات خرفات یہ آجکل کے نکات ہیں جنکی سر نہ پاؤں ستم یہ کہ مسلمان بھی اس تقریر کی مداح تھے بلکہ یہاں نکات و معارف ایسے ایسے عالی ہیں دوسری قوموں کو انکی ہوا بھی نہیں لگی اسلامی علوم و نکات کے ہوتے ہوئے یہ واہیات باتیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انکی تعریف کریں مگر ہماری قوم میں ایک مرض یہ بھی ہے یہ دوسری قوموں کے افعال مدح کیا کرتے ہیں اور اپنے گھر کی چیزوں پر انکو ترجیح دیتے ہیں ایک زمانہ تھا جب انگریز تھے انکی افعال و معاشرت مدح سراہی ہوتی تھی مسلمان انکی ہر طرز کو ترجیح دیتے تھے اب ہندوں کی رسم ورواج طرز طریقے کو اپنے طرز طریقے سے زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے غرض مسلمانوں کے اندر بڑا مرض پیدا ہوگیا کہ دوسری قوموں کی چیزیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں نیز اپنے علماء کو چھوڑ کر یہ دوسری قوموں کے افراد کی عظمت کرنے لگتے ہیں اپنی تعلیم پر دوسروں کی تعلیم کو ترجیح دینا اپنے ملک کی چیز کو نکلی اور دوسروں کی ملک کی چیز کو اصلی اسلامی تعلیم پر دوسری قوموں کی تعلیم کو ترجیح ہم کو چاہئے کہ ہم اپنی ہرچیز تعلیم زبان لباس رسم و رواج کی مداح بنیں تاکہ غیر قوم مجبور ہوکر ہماری مداح کریں اور ہر میدان میں مگر ہم میں دوسروں کی مداح کی مرض جگہ کرچکی ہے اسکو نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/y6now3ts
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *