جہاد

Rehmat Ullah Baloch
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: رحمت اللہ بلوچ

جہاد کیلئے آمدگی پیدا کرنے کیلئے یہاں پہلے ایک واقعے کی ذکر ضروری ہے مگر اسکی تفصیلات کا تعین کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں/ موت سے فرار ممکن نہیں معارف القرآن میں تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بنی اسرئیل کی ایک بستی میں طاعون پھوٹ پڑا لوگ تیزی سے مرنے لگے اس بستی کے کوئی 10 ہزار افراد موت کے ڈر سے بستی سے نکل بھاگے اللہ تعالی نے انھیں سبق سکھانے کیلئے ان سب پر موت طاری کردی آخر ایک زمانہ دراز کے بعد بنی اسرائیل کے ایک اور نبی حزقیل کی دعا سے اللہ تعالی نے ان سب کو دوبارہ زندہ کر دیا مولانا امین احسن اصلاحی تحقیق کے مطابق جس موت وحیات کا یہاں ذکر ہے اسکی حیثیت طبعی نہیں بلکہ ایمانی اخلاقی سیاسی ہے وہ فرماتے ہیں کہ سیموئیل نبی کے ظہور کے ابتدائی دور میں بنی اسرائیل 3 لاکھ کی تعداد میں ہونے کے باوجود سخت منتشر بزدل ہوچکے تھے فلسطینی انھیں قتل و غارت انکا تابوت سکینہ بھی چھین کر لےگئے تھے جسے وہ اپنی عبادات اور جنگی مہمات میں اپنے آگے رکھ کر فتح کی دعا کیا کرتے تھے فلسطینیوں کے ہاتھوں اس غارت گری اور ذلت کی موت سے ڈر کر انھوں نے اپنے عقرون سے لیکر کرجات تک کے علاقے بھی خالی کر دئیے تھے بزدلی اور خوف کی صورت میں یہ سیاسی موت ان پر 20 سال تک طاری رہی آخر سموئیل نبی کی تجدید و اصلاح کی کوششوں سے ان میں زندگی کی رمق پیدا ہوئی اور سیاسی طور پر منظم ہوکر انھوں نے فلسطینیوں سے اپنے علاقے واپس لے لئے(تدبرقران 564/1) مولانا مودودی کی تحیق کے مطابق یہ وہی واقعہ ہے جس کی تفصیل سورة الما ئدہ کی آیات 19 تا26 بیان کی گئی ہے نبی اسرئیل کا یہ خروج حضرت مواسی کی سرکردگی میں مصر سے ہوا تھا جب بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ کنعانیوں سے جہاد کرکے انھیں فلسطین سے نکال باہر کرو تو یہ بزدل قوم جہاد کیلئے آمادہ نہ ہوئی اور کہنے لگی کہ تو اور تیرا رب جاکر ان سے لڑو ہم تو یہی بیٹھتے ہیں اللہ تعالی نے انکو انکی پست ہمتی کی یہ سزادی کہ وہ 40 سال تک بیابان تئیہ بھٹکتے رہے یہاں تک کہ انکی ایک نسل ختم ہوگئی نئی نسل سہراؤں کی گود میں پروان چڑھی انھوں نے کنعانیوں کے خلاف(یوشع بن نونؑ کی سرکردگی میں) جہاد کیا اور کامیاب ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے کو موت اور دوبارہ زندگی کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے(تفہیم القران1/184) ہم بھی آجکل اس موت کے شکار ہیں ہمارا اور نسل پشت سے پیدا ہوگا تب کوئی انقلاب آنے کا امید ہے**

Short URL: http://tinyurl.com/y4osthgj
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *