ریاست کا دائرہ عمل

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: رحمت اللہ بلوچ

گرین کہتا ہے کہ کیونکہ فرد اور ریاست ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہیں اسوجہ سے ریاست کے دائرہ عمل کو معتین نہیں کیا جاسکتا ریاست ایک قدرتی ادارہ ہے جو افراد کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے بے حد ضروری ہے ریاست کا اولین ہے کہ وہ افراد کے حقوق کا تحفظ کرےاور ایسے مواقع فراہم کرے جوفرد کی خوشحالی اور اچھی زندگی کی ضامن ہوں گرین کہتا ہے کہ ریاست نہ تو مطلق العنان اور نہ ہی قادر مطلق ہے ریاست پر چند اندرونی(داخلی)اور بیرونی(خاجی) پابندیاں عائد کی گئی ہیں کو ئی بھی ریاست مطلق العنان نہیں کیونکہ اندرونی طور پر اس پر سب سے بڑی پابندی یہ ہے کہیہ ان تمام رکاوٹوں کو دور کرتی ہے جو افراد کے شخصیت کے ارتقا میں حائل ہوں اسکے علاوہ غیرمعمولی حالات میں افراد ریاست کے خالاف قانونی مزاحمت استعمال کر سکتے ہیں اسوقت کہ غیر معمولی حالات میں ریاست افراد کی مدد نہ کرے جسطرح ریاست متلق العنان نہیں کہی جا سکتی اسی طرح ریاست قادر مطلق بھی نہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی اطاعت کیوجہ سے بیرونی طور پر محدود ہے گرین کہتا ہے کہ ریاست معاشرروں کا معاشرہ ہے ریاست کے اندر تمام معاشروں کے حقوق کا طریقہ جداگانہ ہوتا ہے ان معاشروں کو ریاست نے تخلیق نہیں کیا بلکہ انکا اپنا انتظام ہے اندرونی طور پر ریاست ان تمام معاشروں کے نظام حقوق سے مطابقت رکھتی ہے اور عالم اقوام کی برادری میں ریاست کی حیثیت ایک چھوٹی سی انجن کی مانند ہے حالانکہ ریاست اخلاقی اور منفی کام انجام دیتی ہے لیکن چند امور ایسی ہیں جن میں ریاست کو مداخلت کرنی چاہئے اور انکے انسداد کیلئے ریاست طاقت کا استعمال بھی بجا طور کر سکتی ہے شراب نوشی اور جائیداد کے مسائل میں ریاست کو مداخلت کرنی چاہئیے ریاست کا اولین فرض ہے کہ تعلیم کو عام کرے اور اسکو لازمی قرار دے کیونکہ تعلیم فرد کی شخصیت کے ارتقاء کیلئے بے حد زروری ہے لہذا تعلیم کو عام کرنے کیلئے ریاست طاقت کا استعمال کر سکتی ہے

 417 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y69jbsu2
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *