اندھا حافظ ہوسکتا ہے عقل کے اندھے حافظ نہیں ہو سکتے

Rehmat Ullah Baloch
Print Friendly, PDF & Email

Blind of Intellect Blind of Intellect Blind of Intellect Blind of Intellect Blind of Intellect Blind of Intellect Blind of Intellect Blind of Intellect

تحریر: رحمت اللہ بلوچ

یہ جو اندھے انسانوں کی قطار نظر آتے ہیں۔بلکہ یہ اندھے نہیں ہیں۔اور نہ کوٸی نٸی چیز تماشا ہے۔بس ان کے ذہن کو اندھا بنا دیا گیا ہے۔یہ بچپن سے اسی طرح چلتے آرہے ہیں۔بس فرق اتنا ہے۔زمانہ قدیم میں انکی افرادی تعداد کم تھی۔ اب تعداد میں اضافہ ہوا۔سب سے آگے چلنے والے کو بیناٸی ہے۔بلکہ سب کو آنکھیں ہیں۔ سب کو بیناٸی ہوتے ہوٸے نابینہ کی مانند ہیں۔جو پہلے آگے ہوکر چلتا تھا ۔ باقی اسی کی لاٹھی کو پکڑ کر چلتے تھے۔وہ مرجاٸے تو آگے چلنے والے اندھے کا اہلخانہ سے دوسرا اندھا منتخب کرتے،لاٹھی اسی خاندان کی میراث تھی۔ اور ابھی تک ہے۔وہی انکا رہنما بن جاتا، جیسے ریل گاڑی کی ڈبے جس طرف انجن موڑے سارے بوگی اس طرف مڑ جاتے ہیں۔قطار میں جو پہلا اندھا تھا۔وہ مرگیا پھر اسکے پچھلے اندھے کو لاٹھی کا مالک منتخب کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔اگلے کی لاٹھی پچھلے کیلٸے” دلیل راہ“ یا ہدایت کی بتی“بن گٸی۔جس طرف اگلا مڑا پچھلے بھی مڑ گٸے۔جہاں وہ رکا سارے وہاں رک گٸے۔”جس طرح کی آواز اگلا اندھا نکالے جٸے فلاں پچھلے چلنے والے اندھے وہی آواز نکالتے ہیں۔ جٸے فلاں“نہ رستوں کی تبدیلی، نہ انکی آواز بدلی ہے۔نہ رفتار میں کوٸی کمی بیشی نہ گفتار میں کمی بیشی،اگر پچھلے سے پوچھا جاٸے، کہ تم اس راستے پر کیوں چلتے ہو۔انکا ایک جواب ہم سے پہلے والے اسی راستے پر چلتے رہے۔سب سے آگے والے سے پوچھٸیے تو وہ کہے گا۔میں نے جسکی جگہ لی ہے۔وہ اسی لاٹھی کا مالک تھا ۔میں اسی لاٹھی کی حقدار ہوں۔جب کوٸی آنکھوں والا ان سے کہتا ہے۔کہ تم جس راستے پر جارہے ہو یہ راستہ غلط ہے۔تو وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کہ ہم نے اپنے بڑوں کو اسی راستے پر چلتے اسی لاٹھی کو پکڑتے دیکھا ہے۔اس لٸے ہم اس لاٹھی کو پکڑ کر جو اگلا اندھا رہنما ہے۔ اسی راستے پر چلتے جاٸینگے ۔حضرت نوحؓ آتے ہیں۔خطاب کرتے ہیں۔کہ تم صرف قوانین خداوندی کی اطاعت کرو اور اللہ پاک کی محکومی اختیار کرو۔اسکے سوا کوٸی صاحب اقتدار نہیں،جسکی تم اطاعت کرو۔ کوٸی دلیل دٸیے بغیر وہی اندھے کہتے ہیں ہم نے اپنے آبا ٕ و ٕاجداد میں کسی سے یہ بات نہیں سنی،حضرت صالحؓ حضرت ہودؓ ،دعوت دیتے ہیں۔وہی بات کہ ہمارے اجداد نے ہم کو جوسکھایا بتایا ہمارے لٸے یہی سند اور دلیل ہے۔صحیح روش اختیار کرنے سے انکار کردیا گیا۔ اسکا مطلب یہ ہے۔جو اندھا پہلے مرجاٸے اسکی نسل سے بعد میں آنکھوں والا بن جاتا،حضرت ابراہیمؓ آتے ہیں دین کی دعوت دیتے ہیں۔قوم سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ہاتھ کے تراشے ہوٸے بتوں مورتیوں کی سامنے سجدہ ریز ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔انکی حیثیت کچھ بھی نہیں،سوچو کہ اس روش میں عقل اور انسانیت کوٸی رمک تک بھی ہے؟اس کے جواب میں ان انھوں نے وہی کچھ کہا جو ان سے پہلے اندھے کہتے تھے۔ہم اپنی اسلاف کے راستے کو چھوڑ کر کوٸی اور راستہ اختیار کرنے کیلٸے تیار نہیں ہیں۔حضرت نوحؓ ہو،حضرت صالحؓ ہو،حضرت شعیبؓ ہو،حضرت موسیٰؓ ہو یا ہمارے نبی آخرالزماںﷺ سب کو یہی جواب ملتا رہا۔انکے رسول انسے کہتے رہے۔ کہ جس راستے کی طرف ہم دعوت دیتے ہیں۔وہ راستہ تمھارے اسلاف کے راستہ سے زیادہ واضع صحیح روشن اور یقینی طور پر درست فاٸدہ مند منزل کی طرف لے جانے والا ہو۔تو کیا تم پھر بھی اسلاف ہی کے راستے کو ترجیح دوگے؟وہ کہتے کہ ہمارے لٸے مقابلہ اور انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور ہم کوٸی اور بات سننا نہیں چاہتے۔ ہمارے اطمینان کیلٸے یہ کافی ہے کہ ہم اپنے آبا ٕ و اجداد کے راستے پر چل رہے ہیں۔ ہمیں اس سے زیادہ اور کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں۔شاہراہ انسانیت پر کسطرح اندھوں کی ایک قطار ہے۔ جو متواتر اور مسلسل ایک راستے پر سفر جاری رکھے ہوٸے ہیں۔پچھلا اندھا اگلے اندھے کو اپنا ہادی اور رہنما سمجھتا ہے۔اور اسکی لاٹھی کو اپنی روش کے برسر حق ہونے کی دلیل حجت قرار دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ لوگ آنکھے رکھنے کے باوجود،اس قسم کی اندھی روش کو پسند کیوں کرتے ہیں؟قرآن نے اسکا جواب ایک لفظ میں دے دیا۔قرآن کہتا ہے،اسی طرح ہم نے جس قوم کی طرف بھی کوٸی رسول بھیجا،تو اس قوم کے مترفین نے یہی کہا، کہ ہم نے اپنے آبا ٕ و اجداد کو ایک روش پر چلتے پایا ہے۔ اور ہم انہں کے نقش قدم پر چلتے جاٸنگے”مترفین“ کے معنیٰ ہیں۔وہ لوگ جو خود کچھ کام کرنا نہ چاہیں،اور دوسروں کی کماٸی پر عیش اڑاٸیں۔پہلی بات تو یہ کہ اندھی تقلید میں انسان کے ذہن کو ذرا بھی محنت نہیں کرنی پڑتی،سوچ سمجھ کر راستہ اختیار کرنے کیلٸے انسان کو ذہنی کاوش اور فکری جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔یہ کچھ آسان کام نہی…

Short URL: https://tinyurl.com/2gbpmw6m
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *