بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ

Rehmat Ullah Baloch
Print Friendly, PDF & Email

flood victims’ difficulties in Balochistan flood victims’ difficulties in Balochistan flood victims’ difficulties in Balochistan flood victims’ difficulties in Balochistan flood victims’ difficulties in Balochistan flood victims’ difficulties in Balochistan flood victims’ difficulties in Balochistan

تحریر: رحمت اللہ بلوچ

سیلاب متاثرین مشکلات میں گھرے ہوٸے ہیں۔سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا بلوچستان متاثر ہوا۔ابھی تک سیلاب متاثرین جیسے دوران سیلاب مشکلات میں تھے۔اب تک اسی حالت میں ہیں۔راشن کی قلت صاف پینے کا پانی نہ ہونا، اور مزید مصاٸیبت نے حملہ شروع کردیا۔ ملیریا میں متاثرین میرے اندزے میں سو فیصد نہیں تو نوے فیصد مبتلا ہیں۔علاوہ ٹاٸفاٸڈ سینے اور جلد کی امراض سے متاثرینِ سیلاب، متاثر ہو چکے ہیں۔جہاں بلوچستان حکومت کی بلند بانگ دعوے ہیں۔ان میں صداقت نہیں پاٸی جارہی ہے۔بھوک خوراک کی قلت سے بیماریاں مزید زور پکڑ رہی ہیں۔سب سے زیادہ انسان کی صحت کیلٸے خوراک اہم ہے۔ادویات اہم نہیں۔خوراک سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بیمماریاں اتنی حملہ آور نہیں ہوتیں۔جتنی خوراک کی کمی سے انسان پر بیماریاں اثر انداز ہوتی ہیں۔
مثلاً فصلات باغات کو پانی نہ دیا جاٸے۔ان پر ہزاروں اعلی قسم کی اسپرے کٸے جاٸیں کوٸی امید نہیں کہ فصلات یا باغات سرسبز رہ سکیں،بلکہ خشک ہوسکتے ہیں۔متاثرین سیلاب تپتی دھوپ کھلے آسمان تلے یادرختوں کے ساٸے مچھروں کی میزبانی کررہے ہیں۔نہ راشن نہ ٹینٹ نہ صاف پینے کی پانی اور نہ بسترے برتن،اسی حالت میں بیماریوں سے بچنا ناممکن ہے۔دوسری جانب نان گورنمنٹ ادارے (این جی اوز) بھی بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلٸے مختلف اضلاع میں داخل ہوچکے ہیں۔نیشنل سطح کے اور انٹرنیشنل آرگناٸزیشن،یہ بھی وہی کردار ادا کررہے ہیں۔جو کردار ہمارے بلوچستان کے حکمرانوں نے کیا۔بااثر افراد سے ملاقاتیں کرکے انکی خوش آمد حاصل کرکے انکی حکم کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر نہیں بلکہ پارٹی بنیادوں پر ان اداروں سے کام لیا جارہا ہے۔کیونکہ غریب سے انسانیت کی حیثت بھی چھین لی گٸی ہے۔حالانکہ جو این جی اوز نشنل یا انٹرنیشنل یہ فلاح کیلٸے قاٸم کی گٸی ہیں۔مگر مقامی افراد ان میں تعینات ہیں۔اسوجہ سے سیلاب متاثرین کو ان اداروں سے بھی فاٸدہ نہیں ہو رہا ہے۔مشاہدے کی بات ہے۔ جن افراد کے پاس این جی اوز میں تعیناتی سے پہلے سواری کیلٸے ساٸیکل نہیں تھی۔بعد میں انکے پاس قیمتی گاڑیاں بنگلے دیکھنے میں آٸے۔یہ پیسہ کہاں سے آیا، نہ وہ جاگیر رکھتے تھے۔ نہ انکا بڑا کاروبار کسی نے دیکھا۔جو فلاحی ادارے رقم متاثرین کی فلاح کیلٸے دیتے ہیں۔انہیں پیسوں کو بدعنوانی کا شکار کیا جارہا ہے۔علاوہ اب سردی کا موسم شروع ہوا ہے متاثرین سیلاب کی کسی نے کوٸی مدد نہیں کی ہے۔اصل معاملہ یہ ہے کہ جو امدادی سامان فاحی اداروں نے دیا این جی اوز نے لایا بلوچستان سرکار نے امداد بھیجا یہ گٸے کہاں کس کو ملے۔اس بارے میں تحقیقاتی ادارے بھی خاموش ہیں اور ضلعی انتظامیہ بشمول عوامی نماٸندے سب چپ کی روزہ رکھے ہوٸے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو کچھ نہ ملا تو تحقیقاتی اداروں عوامی نماٸندوں اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی یہی ثابت کرتی ہے۔امدادی سامان بدعنوانی کی شکار ہوٸی۔البتہ سیلاب متاثرین کی یہ مشکل وقت بھی گزر جاٸیگی۔بدعنوانوں کیلٸے بدعنوانی ایک عنوان ضرور بنے گا۔کیونکہ حرام خود ایک بیماری ہے۔جو اس بیماری میں مبتلا ہوا۔اس کا نتیجہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں سامنے آٸیگا۔

Short URL: https://tinyurl.com/2mcduepz
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *