تاریخی دن یوم مزدور

تحریر: رحمت اللہ بلوچ
تاریخی دن یکم مئی پوری دنیا میں یوم مزدور کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا مقصد مزوروں کی قربانی اور مزدورو نے اپنے حقوق کیلٸے جو أواز بلند کیا اس جدوجہد کو تازہ کرنا ہے جو 1886 پیش أیا یہ سرمایہ دارانہ اور ظالمانہ نظام کا خاتمہ تو نہیں ہوا البتہ ان نظاموں کی خاتمہ کا راستہ ہموار کردیا کچھ کارنامے تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جن کو مٹایا نہیں جاسکتا۔۔ 1886یکم مئی امریکہ کے شہر شکاگو کی فیکٹریوں اور کام کرنے والوں مزدورں نے غیر اخلاقی و غیر انسانی اوقات کار اور تنخواہوں میں اضافے کے حصول کیلٸے یہ تحریک انیسویں صدی کے آغاز سے شروع کیا یہ مزدور تحریکوں کا تسلسل تھا، 1806 میں امریکہ کے مزدور طبقے نے اوقات کار میں تبدیلی کے لئے تحریک کا آغاز کیا،1827 میں فلاڈیلفیا 15 مزدور یونین کے اتحاد سے دس گھنٹے اوقات کار کے لیے تحریک چلائی گئی۔ انیسویں صدی میں مزدوروں کی 20 تنظیمیں بن چکی تھی جو آٹھ گھنٹے کام کرنے کے لیے ہم آواز تھی۔20 اگست 1866 کو امریکہ بھر کے مزدور یونین کے سربراہان نے بالٹی مور میں جمع ہو کر ایک تنظیم بنائی اس تحریک نے آٹھ گھنٹے کرنے کا مطالبہ کیا، اس تحریک کو دبانے کے لئے بہت سے حربے استعمال کیے گئے اور حکومت کی جانب سے تشدد بھی کیا گیا پر اس تحریک کو دبایا نہ جاسکا۔۔ 80 کی دہائیوں میں امریکہ میں کئی مزدور تحریکیں چلیں اور کئی ہڑتالیں کی گئی،1875 میں مزدورں کی یونین کے دس کارکنان کو سزائے موت دی گئی۔ اکتوبر 1884 میں فیڈریشن آف ٹریڈ یونین نے ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں اعلان کیا گیا کہ اگر یکم مئی 1886 تک کام کے اوقات آٹھ گھنٹے نہ کئے گئے تو تمام مزدور کام کرنا بند کر دیں گے۔ یکم مئی 1886 تک مطالبات کو نہ مانا گیا اس کے نتیجے میں تمام مزدورں نے کام کرنا بند کردیا اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہو تین مئی کو شکاگو میں امریکی پولیس نے مزدوں پر تشدد کیا ساتھ فائرنگ بھی شروع کردی فائرنگ سے 4 مزدورجانبحق ہو گئے اس سانحے نے مزید مزدوروں اتحاد کا فضا پیدا کیا شدید ردعمل سامنے آیا اور تحریک زیادہ مضبوط ہوگٸی شکاگو میں مزدور رہنماؤں کے خطاب کو روکنے کی بھر پور کوشش کٸی گٸی مگر مزدوروں نے اپنے جلسے کو کامیاب بنایا حکومت کی ناکامی پر پولیس کی جانب سے دستی بم پھینکا اسکی زد میں پولیس اہلکار ہلاک ہونے پر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی فائرنگ سے 50 مزدور مارے گئے اور کئی زخمی ہوگئے، اس سانحے میں ایک مزدور نے اپنے شہید ساتھی کی سفید قمیص جو خون سے تر تھی فضا میں لہرا دی تب سے سرخ پرچم محنت کشوں کا عالمی نشان وجود میں أیا اس تحریک میں شامل سربراہان اسپالس ، البرٹ، اڈولف ، جارج، انجیل اور دیگر کو 11نومبر 1887 کو پھانسی دے دی گئی۔۔ 1889 میں مزدوروں کا کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا اور 1890 سے اس کو پوری دنیا میں منانے کا فیصلہ کیا گیا مگر اب تک مزدور کو اسکا وہ حق حاصل نہیں جو انکو ملنا چاہٸے










Leave a Reply