گزشتہ روز داؤدخیل میں قتل ہونے والے احمد عبداللہ کو سُپردِ خاک کردیاگیا

داؤدخیل(نامہ نگار) گزشتہ روز داؤدخیل میں قتل ہونے والے احمد عبداللہ کو سُپردِ خاک کردیاگیا۔ نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ کی کثیر تعداد کی شرکت۔ فضا آہووں اور سسکیوں سے گونج اُٹھی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ناچاقی پر رحمت اللہ خان، ذیشان خان، قیصر خان، اسفند خان اور تین نامعلوم افراد کا احمد عبداللہ کے ساتھ جھگڑا ہوگیا۔ جس پر رحمت اللہ خان نے چاقو کے وار کرکے احمد عبداللہ کو شدید زخمی کردیا، طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو میانوالی لے جایاگیا مگر جانبر نہ ہوسکے۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔نمازِ جنازہ میں شہر اور گردونواح کے ہزاروں افراد اُمڈ آئے۔ ٹاؤن کمیٹی کا پورا گراؤنڈ شرکا سے بھر گیا۔فضا آہووں اور سسکیوں سے مزید سوگوار ہوگئی۔ ناحق اور بے گناہ قتل پر ہر فرد احتجاج کرتا پایا گیا۔ نمازِ جنازہ پڑھانے والے مولانا نے بھی معاشرے میں پھیلتی بے حسی، بے راہ روی اور والدین کی اپنی اولاد سے لاپرواہی پر خطاب کیا۔ بعدازاں مقتول احمد عبداللہ کو ریلوے اسٹیشن داؤدخیل قبرستان میں سپردِ خاک کردیاگیا۔ مقتول احمد عبداللہ خان کیمیکل انجینئر تھے اور ایک ماہ قبل بطورِ سیفٹی انسپکٹر بھرتی ہوئے تھے۔ مقتول کے والدسعادت اللہ خان کھاد فیکٹری داؤدخیل سے بطورِ اسسٹنٹ منیجر ریٹائر ہوئے ۔ پچھلے کئی سال سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔مقتول احمد عبداللہ سابق چیئرمین یوسی ماڑی حمیداللہ خان اور نائیک (ر) ظفراللہ خان کے بھتیجے تھے۔مقتول کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ لواحقین میں والدین کے علاوہ چار بہنیں اور ایک بھائی ہے۔



















Leave a Reply