مودی کا تو زبردست استقبال ہوا مگر سامراجیوں نے ہمیں گھاس نہیں ڈالی : ڈاکٹر احسان باری

ہارون آباد(ایف یو نیوز) قائد اللہ اکبر تحریک ڈاکٹر میاں احسان باری نے کہا ہے کہ نشستند ،گفتند،برخواستند کے مصداق ہمارے وزیر اعظم کا احسن انداز میں اپنا موقف پیش نہ کرسکنے کی وجہ سے دورہ کا کوئی خاطر خواہ فوری نتیجہ نہ نکل سکاہے مودی کا تو زبردست استقبال ہوامگر ہم ٹھہرے عوامی محبت سے عاری اسلیے سامراجیوں نے بھی ہمیں گھاس نہیں ڈالی اور ٹر خا ڈالااس لیے پوری قوم گہرے صدمہ سے دو چار ہے حالانکہ تمام سیاسی جماعتیں اور عوام ان کے دورہ کی کامیابی کے لیے دعا گو تھیں کروڑوں روپے کے چارٹڈ طیارے میں عزیز و اقارب اور کاروباری دوستوں کی فوج ظفر موج کو لے جاکر قومی خزانہ کوجو نقصان پہنچایا گیا ہے اس کی تلافی رہتی دنیاتک ممکن نہ ہے کسی ایک بھی خارجہ امور کے ماہر کو ساتھ نہ لے جاکرجناب نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکار کسی بھی ملک کے آج تک حکمران نہیں بن سکے مگر یہ “اعجاز “ہم پاکستانیوں کو ہی حاصل ہے کہ ہم نے پہلے پچاس سال تک جاگیرداروں کی حکومتوں کی غلامی کاٹی اور اب نااہل صنعتکاروں کی تابعداری کر رہے ہیں اور جاگیرداروں و صنعتکاروں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے والے خان کوبھی اپنا رہبر سمجھ رہے ہیں دوسری طرف ہندو بنیاہماری 1500لمبی مشرقی سرحد پر حملہ آور ہو چکا ہے اور ہم “صُمم بُکماً”سب برداشت کیے چلے جارہے ہیں جیسے جیسے ہمارے پاکستانی زیادہ شہید ہوتے ہیں ویسے ہی ہندو بنیامزید خونخواریوں پر اترآتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران زندہ درگورہیں اور حکمرانی نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی صرف مال کماؤ اور باہر لے جاؤ ہی ان کی پالیسی اور ماٹو ہے تمام اہم مگر کرپشن کنگ سیاستدانوں نے اپنا 95فیصد سرمایہ باہر شفٹ کیا ہو اہے اور بیشتر کاروباراور ملیں بھی بیرون ممالک لگا رکھی ہیں عوام ٹک ٹک دیدم کی طرح انکی حرکات کو دیکھ کردلوں میں کڑھتے ضرور ہیں مگر نااہل حکومتی قیادت اور گھسے پٹے اپوزیشنی سیاسی فنکاروں کی وجہ سے انھیں سب کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ڈاکٹر باری نے آخر میں کہا کہ تنگ آمد بجنگ آمدکے مصداق غریب مزدور کسان اور پسے ہوئے طبقات کی غیرت ایمانی جاگے گی اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے بپھرے ہوئے مظلوم لوگ اٹھیں گے اور بذریعہ بلٹ نہیں بلکہ بذریعہ بیلٹ ان کا تختہ الٹا کر ملکی فلاح و بہبوداور ان کے درینہ مسائل حل کرنے کی اصل دعوے دار تحریک کو اسی گائے کے نشان پر مہریں لگا کر کامیاب کرڈالیں گے جس گائے کی بھارت نے قربانی کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے حتیٰ کہ اس کا گوشت کھانے پربھی بیچارے مسلمانوں کو ہلاک کرنا شروع کردیا ہے ہندو بنیوں کا یہ عمل انتہائی شرمناک اور سخت قابل مذمت ہے ۔



















Leave a Reply