موت ہمارے لیے چلتی پھرتی تعلیم گاہ ہے: میاں مقصود احمد

داؤدخیل(ذوالفقارخان) موت ہمارے لیے چلتی پھرتی تعلیم گاہ ہے۔ آج جنرلز کے لشکر ہیں ، ملک آدھا چھاؤنی بن چکاہے۔ تھانے اور جرائم بڑھ گئے۔ دِلوں میں اللہ کا خوف کی چوکی بنانا ہوگی۔ حکمرانوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرتا۔اپنی انڈسٹری تباہ کی جارہی ہے۔کالاباغ ڈیم پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔میڈیا شتربے مہار اور سیل فون بے حیائی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کو پھانسیاں دراصل پاکستان کو پھانسیاں ہورہی ہیں۔کسان کے ساتھ ہونی والی زیادتیوں پر جلد تحریک چلائیں گے۔ یہ باتیں امیرجماعت اسلامی میاں مقصود احمد نے گزشتہ روز داؤدخیل میں شفااللہ خان کنوارے خیل کے والد کی وفات پر کسان راہنما سردار ظفرحسین، پی پی چوالیس کے گروپ لیڈر عبدالوہاب نیازی کے ہمراہ لواحقین اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہیں۔ میاں مقصود احمد نے کہاکہ ہمیں اپنی تھوڑی سی زندگی میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا ذخیرہ کرنا ہوگا۔قائداعظم نے اور مولانا عبدالستار نیازی سیاست سے کوئی جائیداد نہیں بنائی۔ اب ہمارے حکمرانوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرتا یہ عوام کو کیا دیں گے۔ یہ اپنا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں اور لوگوں کو یہاں پیسہ لانے کا درس دیتے ہیں۔ یہ سب پیسے کی ہوس ہے۔ پی آئی اے، ریلوے اور واپڈا صرف اور صرف پیسے کے چکر میں تباہ کیے جارہے ہیں۔ کالاباغ ڈیم کے بغیر پٹھان، سندھی اور پنجابی وغیرہ کی بقا مشکل ہے۔ پاکستان کھپے والے صدر نے سندھیوں کو ڈیم پر راضی نہ کیا۔ فوجی اور سول حکمران بھی ڈیم کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔ امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے مزید کہاکہ میڈیا کی شتر بے مہار آزادی نے ہماری روایات تباہ کردی ہیں۔ سیل فون کمپنیز بے حیائی پھیلا رہی ہیں۔ ہم میرٹ کے بجائے تعصبات کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ پاکستان کے حالات اللہ سے ڈرنے والی قیادت ہی ٹھیک کرسکتی ہے۔جماعت اسلامی کو پذیرائی نہ ملنے کے سوال پر کہاکہ ملک میں کرپشن کا راج ہے۔ الیکشن میں دھاندلی اور فراڈ ہی فراڈ کا چکر ہے۔ بے ایمانی کو مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ آمروں اور جمہوری حکومتوں نے سسٹم کے بجائے کرپشن کو تقویت دی۔ جماعت اسلامی ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے نہ کرپشن کا پیسہ رکھتی ہے۔جب تک ہمارا نصاب ، میڈیا اور قوم کی تربیت نہیں ہوتی دیانتدار لوگوں کے لیے مشکلات ہیں۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو ملنے والی پھانسیوں کے سوال پر کہاکہ ہم نے تو آواز بلند کی۔ امیرجماعت سراج الحق نے بھی سرتاج عزیز کو جنازہ میں شریک ہونے کے لیے بنگلہ دیش جانے کو کہا مگر حکومت سرد مہری کا مظاہرہ کرتی آرہی ہے۔ جبکہ فوج کی طرف سے بھی مکمل خاموشی ہے۔ ہمارے حکمران عالمی دباؤ کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ کراچی کو استنبول بنانے کی بات کا مطلب یہ تھاکہ ہم اسے امن کا گہوارہ بنائیں گے اور خوشحالی واپس لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم کراچی کی طرح پنجاب میں بھی دیگر جماعتوں کے ساتھ بلدیاتی الیکشن میں اتحاد کے حامی تھے مگر پی ٹی آئی کے اندر سے کچھ لوگ سولو فلائٹ کے حق میں تھے اس لیے پنجاب میں ہمارا پی ٹی آئی سے اتحاد نہ ہوسکا۔انہوں نے کہاکہ گنے کا کسان رُل گیاہے۔ 180 روپے کے بجائے 120 روپے من کے حساب سے گنا خریدا جارہاہے۔ ہم اس کے لیے جلد ایک زبردست تحریک چلائیں گے۔ اس موقع پر محمدعظیم خا ن کنوارے خیل، بشیرخان، سابق چیئرمین عبداللہ خان، کونسلر محمد ممتاز، کونسلر عبداللہ خان،کونسلر غضنفراللہ خان، منصب دارخان ،اکرم نیازی، ملک عبدالرحمن ایڈووکیٹ،منیب الرحمن چغتائی اور دیگر درجنوں افراد بھی موجود تھے۔

Short URL: http://tinyurl.com/zfknvbv
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *