ریسکیو1122ضلع میانوالی کے زیراہتمام پری فلڈاریجمنٹ (ٹریننگ ورکشاپ)کا انعقاد

پائی خیل (نامہ نگار)انسانی جان کی حفاطت بہت ضروری ہے ایک جان چلی جائے کروڑوں روپے سے واپس نہیں آسکتی تفصیلات کے مطابق ریسکیو1122ضلع میانوالی کے زیراہتمام پری فلڈاریجمنٹ (ٹریننگ ورکشاپ)نواحی علاقہ محمدشریف والی میں منعقدہوئی اس ٹریننگ ورکشاپ کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنرمیاں عبدالقادرشاہ تھے جبکہ قیادت ریسکیو 1122ضلع میانوالی کے انچارج عدنان نوازخان نے کی ۔بم ڈسپوزل کے انچارج خالقدادخان،سول ڈیفنس کے ڈی اوثناء اللہ خان ،امتیازقریشی چیف آفیسر ٹی ایم اومیانوالی ودیگرفورس کے انچارج اورعملہ نے شرکت کی ۔اس پری فلڈاریجمنٹ میں ریسکیو1122کے ساتھ سول ڈیفینس،بم ڈسپوزل،ٹی ایم او،محکمہ لائیوسٹاک ،محکمہ ہیلتھ کے اہلکاروہاں پرموجودتھے۔اس موقع پراسسٹنٹ کمشنرمیانوالی میاں عبدالقادرشاہ نے کہاکہ انسانی جا ن کی حفاظت ضروری ہے ۔جب ایک انسان کی جان چلی جائے توہم کروڑوں روپے لگاکراس قیمتی جان کاازالہ نہیں کرسکتے ۔اس لئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے میں نے سرکاری کے علاوہ تمام پرائیویٹ کشتی بان کوکشتی میں سوارافرادکی تعدادکے مطابق اپنے پاس حفاظتی جیکٹ رکھنے لازمی قراردیے ہیں جس کانوٹیفیکشن ضلع بھرمیں جاری کردیاگیاہے جبکہ ہمارایہ حق ہے کہ ہم سرکاری اداروں کوتمام سہولیات فراہم کریں ۔انہوں نے ریسکیو1122کے انچارج عدنان نوازخان کویقینی دہانی کرائی کے 10سے15روزمیں آپ کوتمام ترضروری سامان فراہم کیاجائے گا۔اس موقع پرمحمدشریف والی کے معززین شہریوں نے اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنرمیاں عبدالقادرشاہ کوبتایاکہ سیاسی ہمارے پاس ووٹ کی حدتک آتے ہیں جب ہم پرسیلاب کی صورت میں قدرتی آفت آجاتی ہے یہ آفت زدہ علاقے کادورہ کرنابھی گوارہ نہیں کرتے اس لئے ضلعی انتظامیہ ہونے کے ناطے آپ ہمیں دریائے سندھ کے کنارے محمدشریف والی اوردیگرملحقہ علاقہ جات میں ٹھوکریں اوربندبنواکردیں کیونکہ 2010 کے سیلاب میں کم وبیش یہاں پر30ہزارسے زائدافرادمتاثرہوئے ۔ہمیں مجبورہوکر5کلومیٹردورجاکرڈیرہ لگاناپڑااب ہمیں اس جگہ بھی وارننگ مل چکی ہے اگریہاں پرحفاظتی انتظامات بروقت نہ کیے گئے توہماراسب کچھ تباہ ہوجائیگا۔اس موقع پرصحافیوں کے علاوہ معززین علاقہ نے کثیرتعدادمیں شرکت کی ۔شرکاء کے لئے خصوصی ریفریشمنٹ کابھی اہتمام کیاگیا۔



















Leave a Reply