بھری پنچائت میں لگنے والے کلاشنکوف کے فائر کو ڈاکٹر نے ڈنڈے کا زخم قرار دے کر ظلم کی انتہاکردی

داؤدخیل(نامہ نگار) بھری پنچائت میں لگنے والے کلاشنکوف کے فائر کو ڈاکٹر نے ڈنڈے کا زخم قرار دے کر ہم پر ظلم کی انتہاکردی۔ اس واقعہ کے پنچائت میں موجود درجنوں افراد عینی شاہد ہیں۔ فائرنگ سے صلح کی پنچائت میں بھی بھگدڑ مچ گئی۔ ملزمان اب بھی شہرمیں کلاشنکوفیں لیے دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ باتیں نواحی علاقہ ملاخیل تحصیل عیسیٰ خیل کے رہائشی زاہد اقبال نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران بتائیں۔ انہوں نے کہاکہ تیس ستمبر ۲۰۱۵ء کوہمارے مشترکہ رشتہ دار عزیزالرحمن ملاخیل کی بیٹھک پر ہمارے خاندان اور محمدیونس ملاخیل خاندان کے درمیان صلح کی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں فریقین کو آپس میں گلے ملاکر دُعاخیر کرائی گئی۔ تقریب میں درجنوں معززین علاقہ شریک تھے۔ جیسے ہی صلح کی تقریب ختم ہوئی کہ اچانک کچھ فاصلے پر گھات لگائے محمد یونس کے دو چھوٹے بھائی محمدادریس اور محمدحنیف نے کلاشنکوفوں فائرنگ کردی۔خوف و ہراس سے لگو ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اس دوران ملزمان نے میرے بھائی خلیل اقبال ولد پنوں خان کو نشانہ بنایا، جس سے ایک گولی خلیل اقبال کے دائیں بازو میں لگی۔ فائرنگ فاصلے سے ہونے کی وجہ سے گولی بازو میں پوست ہوگئی۔ مذکورہ شدید فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے۔ زاہد اقبال نے بتایاکہ ہم نے واقعہ کی ایف آئی آرزیردفعات 324/34 تھانہ مکڑوال میں درج کرادی۔ ہم اپنے مضروب بھائی کو ٹی ایچ کیو عیسیٰ خیل لے گئے۔ وہاں پر موجود ڈاکٹر ساجد ندیم نے زخمی کا علاج کیا ۔ مضروب تین روز ہسپتال میں داخل رہا۔ زاہد اقبال نے بتایاکہ ہم پر ظلم و زیادتی یہ کی گئی کہ مذکورہ ڈاکٹر نے اپنی میڈیکل رپورٹ میں کلاشنکوف کے فائر سے ہونے والے زخم کو ڈنڈے کا زخم قرار دے دیا۔ ہم نے ڈاکٹر سے انصاف کی اپیل کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ صلح کی تقریب میں موجود برادری کے متعدد افراد اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ زاہد اقبال نے کہاکہ میرے بھائی محمداسماعیل نے ڈاکٹر ساجد ندیم کے خلاف سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، ای ڈی او ہیلتھ میانوالی، ضلعی محتسب اور صوبائی وزیر صحت پنجاب کو تحریری درخواست بھی دے دی ہے۔ تاکہ ہمارے ساتھ انصاف کیاجائے۔زاہد اقبال نے بتایاکہ ہم نے میڈیکل کو چیلنج بھی کردیاہے۔ اور ہماری ڈی سی او میانوالی اور ڈی پی او میانوالی او محکمہ ہیلتھ کے افسران بالا سے بھی اپیل ہے کہ وہ ہمیں انصاف دلائیں۔تحقیق کے بعد مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوسری طرف مذکورہ ڈاکٹر ساجد ندیم نے رابطہ پر بتایاکہ مضروب خلیل اقبال کازخم خودساختہ ہے۔ میں صحیح رپورٹ دی ہے۔ اگر ان کو میری رپورٹ پر شک و شبہ ہے تو میڈیکل بورڈ کرلیں، سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

Short URL: http://tinyurl.com/h9maxed
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *