غیرت برگیڈ ،بے غیرت برگیڈ۔۔۔۔ تحریر: ذوالفقار خان، داؤد خیل

Zulfiqar Khan

جب سے میڈیا پرنٹ، تھیٹر اور سینما سے آگے بڑھ کر ریڈیو اور ٹیلی ویژن تک پہنچا انسانی سماج میں تبدیلی کا عمل تیز ہوگیا۔ ریڈیو کی مذمت و مزاحمت تو سننے کو نہیں ملی البتہ ٹی وی کی بہت ہوئی۔ آج بھی ایک طبقہ میں اس بارے خوب نفرت پائی جاتی ہے۔
پہلے ٹی وی صرف بڑے شہروں کے چند باوسائل افراد تک محدود تھا مگر اس کا یہ سفر دو دہائیوں کے اندر اندر گاؤں سے خانہ بندوش کی جھونپڑی تک طے ہوگیا۔
پہلے پہل جس گھر میں ٹی وی داخل ہوتااِسے گردونواح کے لوگ بہت بڑی بے غیرتی اور غیر اخلاقی جسارت سے تعبیر کرتے۔ٹی وی کے بارے ایک خاص حد تک نفرت تھی مگر وی سی آر نے تو اس حوالے سے اودھم مچا دی۔ایسی ایسی فلمز گھروں کی دہلیز پار کر گئیں جو بداخلاقی و بے حیائی کی آخری حدود سے بھی آگے نکل ہوئی تھیں۔
وی سی آر سے پیدا ہونے والے ہیجان کی تھکاوٹ نہ اُتری کہ ڈش نے جست لگا دی۔ ڈش والی چھت پہ کنجر خانے کا لیبل تھوپ دیا گیا۔ مذمت و مزاحمت ہوتی رہی اور یہ چیزیں آگے بڑھتی رہیں۔
ٹیلی فون جو کافی عرصہ سے بڑے بڑے اداروں یا چند امیرزادوں کے گھروں کی زینت رہا آہستہ آہستہ شہر سے گاؤں کے اکثر گھروں تک پہنچ گیا۔ پی ٹی سی ایل نے تہلکہ مچا دیا۔ ٹیلی فون لگوانے کی دوڑ شروع ہوئی۔ لوگ تھانیدار ااور پٹواری سے زیادہ پی ٹی سی ایل کے اہلکاروں کو سلام کرنے لگے۔
اس کے ساتھ ہی رانگ کالز کا سلسلہ جاری ہوا اور معاملہ انسانی جانوں کے ضیاع تک جا پہنچا ۔ سخت گیر اور محتاط خاندانوں کے سربراہان نے خواتین کے کال اٹینڈ کرنے پر پابندی لگا دی۔ سی ایل آئی نے کچھ ریلیف دیا مگر گھر کے فون پہ کب تک پہرے لگائے جاتے، سو حالات کو بدلنے سے نہ روکا جاسکا۔
ابھی ڈش اور ٹیلی فون کا شوق اور قباحتیں تھمی نہ تھیں کہ کیبل اور موبائل فون نے دھماکہ کر دیا۔ اسی دوران ڈی ایس ایل کی صورت میں انٹر نیٹ کی سہولت، WiFi کی صورت اور پھر سیلولر کمپنیز کی طرف سے ہر بغل اور جیب میں ایک ایسا ٹی وی گھس گیا جس کے پروگرامز کی کوئی انتہا نہیں۔
اب گھر کے ہر کمرے اور انسان کی دو تین جیبوں میں ٹی وی کا مستقل بسیرا ہے۔ حکومت کچھ غیر ملکی چینلز پہ پابندی لگاتی ہے تو خود اپنے ملک کے کئی چینلز تفریح کے نام پہ اسلامی و علاقائی اخلاقیات کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ ٹی وی کو اگر گھر میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو بچے پڑوس کے گھر میں جاکر یہ شوق پورا کرلیتے ہیں جو اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ٹی وی کے جن پر قابو پایانہیں جاتا تو موبائل پہ بندہ کیسے قابو پائے؟
اب تو میٹرک، انٹر میڈیٹ کی معیاری تعلیم کے لیے بچے کو انٹرنیٹ تک رسائی دینا بھی مجبوری اور ضروری ہو گیاہے۔
اکثر والدین نے اپنی اوراپنے بچوں کی خواہشات کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اور نہیں تو ٹی وی ، کیبل تو بہرحال مہیا کردیئے ہیں۔ کم عمر لڑکے کبھی والدین سے اور اکثر اپنی مدد آپ کے تحت موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرچکے ہیں۔ لڑکوں کے آگے تو والدین بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔کئی والدین اپنی اولاد سے اندھی محبت کے جذبے میں ڈوب کر اپنے بچوں، بچیوں کو بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے موبائل اور انٹر نیٹ تک رسائی دے چکے ہیں۔گھر میں کھانے کو ڈھنگ کی خوراک ہو نہ ہو مگر ٹی وی کیبل، موبائل موجود ملیں گے۔
میڈیا کے اس سیلاب نے سماجی و اخلاقی ڈھانچے کو ہلا کے رکھ دیاہے۔ اقدار بدل کے رہ گئی ہیں۔ اولاد اور والدین کے درمیان دُوریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کے پاس ایک دوسرے کے پاس بیٹھنے کو وقت ہی نہیں بچتا۔ کوئی موبائل کے ساتھ مصروف ہے تو کوئی کیبل کے سامنے اور کوئی کمپیوٹر پہ انٹرنیٹ کی بھول بھلیوں میں کھویا ہوا ملتاہے۔ نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔ بچوں کی توجہ تعلیم اور کھیل کے میدان سے کیبل ، انٹرنیٹ اور موبائل کی طرف مبذول ہو چکی ہے۔ تفریح کے نام پر میڈیا پر ایسے ایسے پرکشش اور سطحی پروگرامز پیش کیے جاتے ہیں کہ ساٹھ والا خود کو آٹھ کا اور سڑسٹھ والا خود کو سترہ سال کا سمجھنے لگتاہے۔آج کا نوجوان تو اَن دیکھی اور خیالی دُنیا کا شہزادہ بنا پھرتاہے۔
کیبل ، موبائل، انٹرنیٹ کے منفی اثرات کی وجہ سے آج ہر شریف اور کثیف والدین پریشان دکھائی دیتاہے۔ اولاد کے کارناموں نے اچھے اچھے گھرانوں کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔ اورسخت گیر والدین کی بے بصیرتی نے اولاد کو گھٹن میں مبتلا کر دیاہے۔
میڈیا کے تمام ذرائع اپنی اصل میں اپنے وقت کی اچھی ایجادات ہیں۔ یہ مشینیں ہیں۔ ان کا اپنی ذات میں کوئی جرم نہیں کہ ان کو تمام اخلاقی برائیوں کا سبب جان کر ان کا خاتمہ بالخیر کردیاجائے جو کہ ممکن بھی نہیں۔ جہاں ان کا استعمال منفی اور غیر اخلاقی دائرے میں ہورہاہے وہاں سوائے بربادی کے ان سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا اور دوسری طرف ان ایجادات کی وجہ سے انسان کی زندگی بہت آسان ہوگئی ہے۔ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے انسان آپس میں گلوبل ویلج کی صورت جُڑ گئے ہیں۔علاج معالجہ اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی بہت آسان ہوگئی ہے۔ وقت کی بچت اور کاروباری دُنیا میں انقلاب برپا ہوگیاہے۔ ان کا مثبت استعمال انسان کے لیے بہت بڑی نعمت سے کم نہیں۔
میڈیا کے اس ندی نالوں، نہروں، دریا، سمندر اور سیلاب سے دو قسم کے والدین خاص کر شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی اولاد کو تیراکی سکھائے بغیر میڈیا کے گہرے پانی میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر اس سیلاب نے تیراکی سیکھنے یا سکھانے کا موقع ہی نہیں دیا تو کم ازکم لائف جیکٹ ہی پہن اور پہنا لیتے تو کچھ وقت میں تیراکی خود ہی سیکھ لیتے۔ دوسرے وہ والدین ہیں جو میڈیا کی تمام سہولیات تو گھر میں لے آئے۔ اولاد کو ہر قسم کی آزادی بھی عطا کردی۔ نئی نسل نے میڈیا کا اثر لینا ہی ہوتاہے۔ اولاد کو بغیر نگرانی کے اس میڈیا کے حوالے کردیا۔ بچے نے میڈیا والے طور اطوار اپنالیے۔ بچی نے میڈیا کی رنگینی میں خود کو رنگ لیا تو اب والدین پریشان ہیں کہ اولاد کو کیا ہوگیا ہے۔ اولاد اپنی نوجوانی کے دور میں دماغ کی کم اور دِل کی زیادہ مانتی ہے۔ عقل سے کم جذبات سے زیادہ کام لیتی ہے۔ میڈیا بھی دِل کی آواز کو بڑھاوا دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ان حالات میں اب والدین کے پاس سوائے شرمندگی، بے بسی اور پچھتاوے کے کچھ نہیں بچتا۔
اگر والدین بغیر تربیت اور نگرانی کے اولاد کو اس سمندر میں اُتارنے کے لیے مواقع مہیا کرتے ہیں تو پھر خود کو بھی اس بات پرآمادہ کر لیں کہ یقیناًاُن کی اولاد ڈوبے گی۔کیونکہ انسان کوئی مینڈک اور بطخ کا بچہ نہیں کہ بغیر تربیت کے فطرت کے قوانین کے تحت خود بخود ہی تیرنا شروع کردے گا۔
اب پھر اولاد سے گلہ کرنے اور رونے دھونے کی ضرورت نہیں۔ بہتر ہے اپنے خیالات کو ان نوجوانوں کے خیالات و اعمال کے ساتھ ہم آہنگ کرلیں اور کف افسوس ملنے اور غیرت برگیڈ کا نمونہ بننے سے بچیں۔ اگر آپ اپنی سستی اور لاپرواہی کی بدولت ان حالات کو نہیں بدل سکتے تو اپنے خیالات ہی بدل لیں۔
میری دانست میں معاشرے کے لیے بہتر یہ ہے کہ والدین ہر کام کو سنجیدگی سے لیں۔ سب سے پہلے اپنے بچوں کی تعدادکو اپنے اور معاشرے کے حالات کے مطابق رکھیں۔ بچوں کی پیدائش میں کم ازکم پانچ سال کا وقفہ رکھیں۔ تاکہ ان کی تربیت کے لیے مناسب وقت مل سکے۔ بچہ پہلے ہی چند سالوں میں بن یا بگڑنے کی راہ پر چل پڑتاہے۔اور پھر جیسے جیسے اُسے جیسے مواقع ملتے جاتے ہیں وہ آگے بڑھتا جاتاہے۔
عام آدمی کو یہ بات بہت زیادہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ فکرِ معاش میں اتنا غرقاب ہے کہ اپنی اولاد کو مناسب وقت دے ہی نہیں پاتا۔ فکرِ معاش نے والد کے ساتھ ساتھ والدہ کو بھی پریشان حال کررکھاہے۔ ان حالات میں درجن یا نصف درجن بچوں کی تربیت ان سے خاک ہوپائے گی۔ معاشرہ کی تو ایسی حالت نہیں کہ بچہ وہاں سے ہی تربیت حاصل کرلے۔
کتنی حیرت اور اچھنبے کی بات ہے کہ دس ہزار ایکڑ کے مالک جاگیردار کے تو ایک یا دو بچے ہیں اور اس کے دس ہزار روپے والے باڈی گارڈ کے دس۔
عام آدمی جو ہمیشہ عزت و غیرت کو دھن دولت اور عہدوں پر ترجیح دیتاہے۔ جب وہ اتنا غیرت مند بنتاہے تو پھر اپنی اولاد کے بارے بھی پوری پوری غیرت کامظاہرہ کرے ۔ اُس کی پرورش کا حق ادا کرے۔ اگر یہ سب کچھ کرنے کو تیار نہیں تو پھر غیرت برگیڈ کی وردی اُتار کر بے غیرت برگیڈ کا چولا پہن لے۔ ویسے بھی آج کل معاشرے میں بے غیرت برگیڈ کا راج ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/jlo8suj
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *