دریاکنارے پیاسی زندگی۔۔۔۔ ذوالفقار خان، داؤد خیل

زمین کا حُسن اور زندگی کی نمو پانی کے دَم سے ہے۔ پانی کے بغیر زمین اور چاند ایک ہی سکے کے دو رُخ ہی ٹھہریں گے۔ یہ پانی ہے جو زمین کو باقی سیاروں سے ممتاز کرتاہے۔ اللہ نے انسان کو شعور دیا۔ وہ زمین میں فصلیں کاشت کرتاہے۔ بارش کا پانی ہو ، دریاؤں کایا ٹیوب ویل اور کنوؤں کا ، وہ اس کے حصول کے لیے ان تمام ذرائع کواستعمال کرتاہے۔اپنی زمینوں کو سیراب کرتا اور فصلیں پیدا کرتا ہے۔دریاؤں پر بند باندھ کر اور جدید آہنی دروازے لگا کر نہریں نکالتاہے۔ اس طرح وہ لاکھوں ایکڑ زمین کو دریائی اور سیلابی پانی سے سیراب کرتاہے۔
پاکستان میں دُنیا کے چند بہترین نہریں نظاموں میں سے ایک نظام موجود ہے۔ حتیٰ کہ ایشیا کی سب سے بڑی لفٹ ایری گیشن سکیم بھی پاکستان کے نہری نظام میں لفٹ سکیم میانوالی کے نام سے تری خیل کے مقام پر بنائی گئی ہے۔ یہ سکیم 1963ء میں گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالاباغ کے دور میں بنائی گئی۔ جب میانوالی سے تھل کینال نکالی گئی تو اس کا پانی بھکر، لیہ اورخوشاب کے علاقوں کودیاگیا جبکہ میانوالی میں تھل کے آغاز پر موجود علاقہ جات کی زمین کو تھل کینال کے زیرِزمین ہونے کی وجہ سے پانی کا خاص کر مشرقی طرف پانی کا پہنچناممکن نہیں تھا۔ اس کے ازالہ کے لیے مذکورہ لفٹ سکیم بنائی گئی۔ یہ 200 کیوسک پانی مہیا کرتی ہے۔ اس سے سیراب ہونے والا رقبہ تقریباََ 4,40,000 کنال یعنی 55ہزار ایکڑ ہے۔ یہ حلقہ این اے 71 اور 72 کے 30کلومیٹر لمبے اور تقریباََ 10 کلومیٹر چوڑے رقبے کو سیراب کرتی ہے۔
لفٹ سکیم میانوالی، پائی خیل سے شروع ہوکر مظفر پور شمالی تک جاتی ہے۔ اس سکیم کی چھ موٹرز ہیں۔ چار ہر وقت چلتی ہیں جبکہ دو تیار رہتی ہیں۔اس لفٹ سکیم کو لگاتار چلانے کے لیے گرڈ اسٹیشن میانوالی سے مخصوص بجلی لائن لفٹ سکیم کے لیے بچھائی گئی جبکہ اس کے ساتھ ایک ریزرو بجلی لائن بھی لگائی گئی تاکہ اگر ایک لائن میں کوئی نقص پیدا ہو تو بجلی کی فراہمی میں تعطل نہ آئے۔ یہ لفٹ سکیم سن دوہزار تک چلتی رہی۔اس دوران گرڈ اسٹیشن سے تری خیل لفٹ سکیم تک آنے والی مخصوص بجلی لائن سے سابق وزراء گل حمید خان روکھڑی، اکرام اللہ خان شہید اور مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی نے اپنے اپنے حمایتیوں کو بجلی کنکشن دلوا دیئے۔ آج سے تقریباََ پندرہ سال پہلے جب لوڈشیڈنگ کا سلسلہ چلا تو یہ لفٹ سکیم بھی لوڈشیڈنگ کی زد میں آگئی۔
پندرہ سال پہلے اس لفٹ سکیم کی وجہ سے کسان خوش حال تھا۔ مگر لوڈشیڈنگ کے بعد کھیتوں میں کھڑی فصلیں اور کسانوں کے چہرے د ن بدن مرجھانے لگے۔ اس دوران اللہ نے موچھ کے علاقہ کے خدا ترس اور دردِدِل والے انسان مولوی عظمت اللہ خان (جو خادم موچھ سے خادم میانوالی کے نام سے معروف ہوچکے ہیں)کو بنجر زمینوں پر ہریالی اور مرجھائے چہروں پر خوشحالی لانے کے لیے میدان میں لاکھڑا کیا۔ اس مردِ مجاہد نے پندرہ سال پہلے تری خیل لفٹ سکیم کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کرانے کی جدو جہد شروع کی۔
پہلا مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ریزرو لائن کی تاریں جگہ جگہ سے چوری ہوچکی تھیں۔ سب سے پہلے یہی ریزرو لائن بحال کرائی گئی۔ تری خیل لفٹ سکیم پر لگائے گئے شہری کنکشن جن میں شہبازخیل طرہ بازٹاؤن میں موجودایک آٹا ملز، وانڈھی آرائیاں والی ،بیرولی،مجاہدملت کمپلیکس اور گردونواح کی آبادی کو دیئے گئے سینکڑوں کنکشنز وغیرہ شامل تھے کو ختم کرایا۔ مذکورہ علاقوں کو واپڈا نے قریب کی شہری لائنز سے کنکشن دیئے۔
جب دونوں لائنز بحال ہو گئیں تو مولوی عظمت اللہ خان نے درجنوں کسانوں سمیت کبھی واپڈا تو کبھی محکمہ انہار ہر دفتر کا درواز ہ کھٹکھٹانا شروع کردیا۔ کئی بار احتجاج کیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ستمبر 2014ء میں جب دونوں لائنز پرائیویٹ کنکشنز سے پاک ہوگئیں تو واپڈا نے کہاکہ محکمہ انہار لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کی باقاعدہ درخواست دے۔ 11 دسمبر کو میانوالی اور پھر یہاں سے منظوری کے بعد مولوی عظمت اللہ خان نے اپنے ساتھیوں سمیت 18 اپریل کو درخواست سرگودھا جمع کرادی۔
درخواست کی منظوری کے لیے بھی پہلی شرط یہی تھی کہ اپنے حلقے کے ایم این اے کی منظوری اور رضامندی بھی لی جائے۔مسلم لیگی ایم این اے عبیداللہ شادی خیل نے دو تین ماہ کی تاخیر کے بعد درخواست پر اپنے دستخط ثبت کردئیے۔سرگودھا کے بعد یہ درخواست فیسکو کے چیف ایگزیکٹو اسلم رشید کے پاس پہنچ گئی۔ انہوں نے سارا پراسس مکمل کرکے درخواست متعلقہ منسٹری بھجوا دی ہے۔ پانی و بجلی کی منسٹری کے وفاقی وزیرخواجہ آصف اور وزیرمملکت عابد شیر علی دیکھیں کب دستخط کرتے ہیں اور لفٹ سکیم میانوالی بمقام تری خیل لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہوتی ہے۔
ایری گیشن ایکٹ میں یہ واضح لکھا گیاہے کہ جہاں سے نہر نکلتی ہے سب سے پہلے ابتداء کے علاقوں کو پانی دیا جائے۔ ٹیل پر بعد میں چھوڑا جائے۔ محکمہ انہار کے ذمہ داران نے سب سے پہلا ظلم یہ کیا کہ تھل کینال کی آغاز کی اراضی کو پانی کے حق سے محروم کردیا۔ صرف فلڈ سیزن میں پانی میسر آتاہے۔
ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ جہاں گاؤں ، قصبہ اور شہر کو متاثرکر رہی ہے وہاں ایشیا کی سب سے بڑی لفٹ سکیم کو بھی بجلی کی مسلسل فراہمی نہیں کی جارہی۔ حالانکہ 1000میگا واٹ بجلی ضلع میانوالی میں پیدا ہورہی ہے۔
اس لفٹ سکیم کے ساتھ ایک بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ایک شخص کی کوششوں سے جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیاکہ ہر کسان کی زبان پرخادم موچھ کا نام لیاجانے لگاتو حکومتی نمائندوں نے لفٹ سکیم کی بحالی میں عدم دلچسپی دکھانا شروع کردی۔ اُن کے کئی مقامی سپورٹرز نے بھی ٹانگ اڑانے اور کھینچنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اکتیس مارچ دوہزار پندرہ کو ڈی سی او میانوالی کے دفتر کے سامنے مولوی عظمت اللہ خان نے دیگر کسان راہنماؤں سمیت تین گھنٹے دھرنا دیا۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے ڈاکٹر صلاح الدین خان نیازی کو بھی دھرنا میں شریک کیاگیاتاکہ احتجاج موثر ثابت ہو۔ ورنہ تو پی ٹی آئی کے ضلع میانوالی سے منتخب ایم پی اے سردار سبطین خان اور ایم این اے امجد علی خان مفادِ عامہ کے کاموں کی نسبت پرانے طرز کی دھڑا بندی، گروہ بندی کی سیاست میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ایم پی اے احمد خان بھچر ہزاروں ایکڑ زرعی رقبے کا مالک جاگیردار ہے۔ یہ لوگ پی ٹی آئی میں بھی صرف انتخابات میں حصہ لینے کی حد تک شامل ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صلاح الدین نیازی پارٹی منشور کے مطابق کچھ چلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ بھی تب جب اُنہیں چلانے کی کوشش کی جائے۔ دوسری طرف حکومتی ایم این اے عبیداللہ خان شادی خیل دو تین بار مختلف پریس کانفرنسز میں اعلان کرچکے ہیں کہ لفٹ سکیم تری خیل کو لوڈشیڈنگ سے جلدمستثنیٰ کرادوں گا۔لیکن کافی عرصہ بعداس اعلان کے پورا نہ ہونے پربالآخر کسانوں کو احتجاج کے لیے اکٹھا ہونا پڑ ا۔
تین گھنٹے کے احتجاج کے بعد ڈی سی او میانوالی نے کسان نمائندوں اور ایم پی اے سے مذاکرات کیے۔ اور لفٹ سکیم تری خیل کو بلا تعطل اٹھارہ گھنٹے بجلی فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی جبکہ باقی چھ گھنٹوں کے لیے سمری حکام بالا کو بھیج کر ایک ماہ کے اندر اندر لفٹ سکیم تری خیل کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ دلانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ راہنماؤں نے کہاکہ اگر انتیس اپریل سے پہلے تک وعدوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو ایک ہزار کسان احتجاج کریں گے۔
تھل کینال پر موجود داؤدخیل لفٹ سکیم، موچھ لفٹ سکیم پر تو لوڈشیڈنگ نے بہت ہی بُرا حال کررکھا ہے۔ایک گھنٹہ بجلی ہوتی ہے تو دو گھنٹے غائب، دو گھنٹے ہوتی ہے تو تین گھنٹے لوڈشیڈنگ۔ ان لفٹ سکیمز کا کسان تو بُری طرح پِٹ رہاہے ۔لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ٹیوب ویل کی مد میں سالانہ کسان کو اضافی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
داؤدخیل کچا اور موچھ کچا کے علاقوں کو تھل کینال سے صرف سیزنل پانی ملتاہے۔ بخارا مائنر اور پائی خیل مائنر کو سیزنل سے سالانہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے بھی خادم موچھ کی تنِ تنہا کوششیں کئی سالوں سے جاری ہیں۔ حالانکہ یہ کام ہمارے منتخب عوامی نمائندوں کا ہے مگر کچھ نمائندے اپوزیشن میں ہونے کا رونا روتے ہیں تو کچھ انتقامی سیاست میں مفادِ عامہ کے کاموں کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔
اگر لفٹ سکیم میانوالی(تری خیل) کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ مل جاتاہے تو یقین کریں چار لاکھ چالیس ہزار کنال زرعی اراضی پر ہریالی اور خوشحالی آئے گی۔ کسان خوشحال ہوگا۔ حکومت کو لاکھوں ، کروڑوں روپے ریونیو حاصل ہوگا۔
یقین کریں پچھلے کئی سالوں سے میں خود اس سارے ایشو کا عینی شاہد ہوں۔ پورے علاقہ سے بس ایک ہی شخص ہے جو بلاغرض دن رات لفٹ سکیمز اور راجباؤں کو سیزنل سے سالانہ کرانے اور سالانہ بھل صفائی کے کاموں کے لیے تگ و دو کرتانظر آتاہے۔ آئے روز محکمہ انہار کے ایکسیئن، ایس سی کے دفاتر کے سامنے احتجاج کرتانظر آتاہے۔ چالیس پچاس کسانوں کو ساتھ لے کر ڈویژنل ہیڈکوارٹر تک احتجاج کے لیے پہنچ جاتاہے۔ستر سی سی موٹر سائیکل اِ س کی سواری ہے۔ اگر لفٹ سکیمز کے مسائل حل ہوتے ہیں تو یقین کریں اس کا سہرا مولوی عظمت اللہ خان کے سر سجتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات نہ کراکے ایسے عوام دوست لوگوں کا دراصل راستہ روکا گیاہے۔ ایسے مخلص لوگ وسائل کی کمی کی وجہ سے ایم این اے اور ایم پی اے کا انتخاب لڑنے کا تو سوچ ہی نہیں سکتے۔
خادم موچھ بلکہ خادم میانوالی کی بہت سی خدمات ہیں جن پر کبھی خصوصی طور پر قلم اُٹھانے کی کوشش کروں گا۔2009-10 ء میں موچھ لفٹ سکیم کو پرائیویٹ سے سرکاری کرا کر 28 ہزار کنال رقبہ کو مفت پانی میسر آنا بھی خادم موچھ کا کارنامہ ہے۔لفٹ سکیم تری خیل کے بعد لفٹ سکیم داؤدخیل، پائی خیل، موچھ اور گلمیری کو بھی اسی لائن سے بجلی دلواناخادم موچھ کا اگلا مشن ہے۔ ابھی بس لفٹ سکیم کا مسئلہ زیرِ بحث لانا تھا۔ اگر موجودہ تازہ تازہ مسلم لیگ ن دوبارہ جائن کرنے والے ایم پی اے انعام اللہ نیازی، سابق ایم پی اے علی حیدر نور خان،مسلم لیگ ن کے حلقہ این اے اکہتر سے ایم این اے عبیداللہ خان شادی خیل، ایم پی اے امانت اللہ شادی خیل اور صوبائی وزیر محترمہ ذکیہ شاہ نواز صاحبہ اس طرف خصوصی توجہ فرمائیں تو تھل کینال پر موجود تمام لفٹ سکیمز کا ایشو فی الفور حل ہو سکتاہے۔










Leave a Reply