اُستاد چوکیدار نہ طالب علم چور ۔۔۔۔ تحریر: ذوالفقارخان، داؤد خیل

Zulfiqar Khan

آرمی پبلک سکول پشاور کی پرنسپل طاہر ہ قاضی کو اپنے طلبہ پر جان نچھاور کرتے دیکھتاہوں تو استاد کی جرات پر رشک آتاہے۔ گجرات میں بچوں کو آگ سے بچاتے بچاتے شعلوں کی نذر ہوجانے والی استاد سمیعہ نذیر کا کردار دیکھتاہوں تو آنکھیں چمک اُٹھتی ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے نصراللہ شجیع کا اپنے ڈوبتے شاگرد کو بچانے کے لیے دریائے کنہار میں چھلانگ لگاکر شہید ہوجانے کاواقعہ دیکھتاہوں تو استاد کی قربانی کی مثال میں ڈوب جانے کو جی چاہتاہے۔
جب محمدرسول اللہ ﷺ کی زبانِ اقدس سے نکلا ہوا یہ جملہ پڑھتاہوں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے تو استاد کے لیے آنکھیں فرش راہ کرنے کو جی چاہتاہے۔ استادکا رتبہ دیکھنا ہو تو سیدنا علیؓ کا یہ قول ذہن نشیں کرلیں: جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا اُس نے مجھے اپنا غلام بنالیا۔ استاد کی اہمیت اور عظمت سیدنا عمرؓ کے اس جواب میں بھی پنہاں ہے کہ جب اُن سے سوال کیا گیا : اتنی بڑی سلطنت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے ؟تو آپؓ نے فرمایا :کاش میں ایک معلم ہوتا۔
مفکرِ پاکستان شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمداقبالؒ نے استاد کی شخصیت کو اس طرح اُجاگر کیا۔ آپ نے فرمایا : استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انھیں کے سپرد ہے۔
اسی طرح استاد کی عظمت بارے دُنیا جہان کے عظیم انسانوں کی زبان سے نکلے اور ہاتھ سے لکھے جملے لکھنے بیٹھیں تو دیوان بن جائے۔ جو استاد پیغمبرانہ پیشے کا نمائندہ ہے۔ اُسے کس حالت میں لاکھڑا کیاگیاہے۔
سب سے پہلے تو اس پیشے کی اہمیت معاشرے کی نظروں میں اس طرح گرانے کی کوشش کی گئی کہ اس شعبہ پہ حکومت نے خرچ کرنے کو گناہ کبیرا سمجھ لیا۔ مراعات اتنی کم کہ کوئی ذہین، پڑھا لکھا اور معزز نوجوان شعبہ تعلیم کو ترجیح میں سب سے آخری درجہ پہ رکھتاآیاہے اور آج بھی ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ البتہ بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی ، سفارش ورشوت کے چلن اور ملک میں کم ہوتے روزگار کے مواقع سے مجبوراََ پڑھے لکھے نوجوانوں کو سکول میں معلمی اختیار کرنے کی طرف راغب ہونا پڑا۔ مگر جب بھی اسے کسی دوسرے شعبے یا کالج ، یونیورسٹی کی معلمی ملتی ہے سکول کو فوری خیرآباد کہہ دیتاہے۔
مراعات کی کمی کے ساتھ حکومتوں نے دوسرا ظلم یہ ڈھایا کہ اکثر ادوار میں استاد کی بھرتی کلاس فور کی بھرتی کے معیار سے بھی نچلے درجے پہ رکھی۔ کلاس فور رکھتے ہوئے بھی بندے کے دل، دماغ اور جسمانی فٹنس کو مدِنظر رکھا گیا مگر استاد کے لیے مڈل، تھرڈویژن میٹرک پاس سند سامنے رکھی اور علاقے کے نمبردار، کونسلر یا وڈیرے کی سفارشی پرچی پہ بھرتی لیٹر جاری کردیا۔ نوجوان کی شکل دیکھی نہ عقل۔ آج بھی ایسے سفارشی لوگ استاد کے نام پر دھبہ ہیں۔ استاد کا یہ معیار نہیں کہ وہ طالب علم سے زیادہ کسی وڈیرے یا سیاستدان کی فکر کرے۔ بچوں کو پڑھانے کے بجائے محکمہ تعلیم کے افسران کی خوشامدیں اور خدمتیں بجا لاتا پھرے۔
شعبہ تعلیم کے ساتھ تیسرا ظلم یہ ہوا کہ استاد کو ذہنی طور پہ اطمینان بخش ماحول بھی مہیا نہیں کیا گیا۔ اکثر سکول ہیڈ استاد کے کلاس ورک پہ کم اور اُس کی جی حضوری پہ زیادہ توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ مانیٹرنگ والوں کا سارا نزلہ بھی استاد پہ گرتاہے ۔ استاد کی کارکردگی سے زیادہ اُس کے چھ گھنٹے سکول میں پانبد رہنے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ کئی قسم کی دیگر ڈیوٹیز سے بھی استاد کا کام اور وقار متاثر ہوتاہے۔ اس سے اور شرم کی بات کیا ہوگی کہ ایک استاد برش اٹھائے اور رجسٹر تھامے دَر دَر پہ کھڑا نمبرنگ کرتا اور فیملی ہسٹری کے فارم پُر کرتا پھرے۔ کیا ہمارے ملک میں اولادِ آدم کی اتنی کمی ہوگئی ہے جو ہر کام کے لیے استاد ہی کو نہایت کم اجرت کے عوض کرایہ پر لے لیاجاتاہے۔
نئے نئے تجربات نے بھی تعلیم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیاہے۔ اگر میڈیم انگلش ضروری ہے تو اس کے لیے نرسری سے آغاز کیا جائے۔ سب سے قابل استاد نرسری کے لیے مقرر ہو۔ نرسری کے استاد کو سب سے زیادہ مراعات دی جائیں۔ پرائمری سکولز میں کم ازکم ایک کلاس ایک استاد کے اصول کو سختی سے اپنایا جائے۔مگر یہاں تو اتنا ظلم ہے کہ آج بھی بے شمار سکولز ایک اور دو اساتذہ کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پرائمری کلاسز کے لیے بھرتی کیے گئے انگلش ٹیچرز کو بھی ای ایس ٹی کا درجہ دے کر ایلیمنٹری سطح پر مڈل اور ہائی سکولز میں بھیج دیاگیاہے۔پرائمری سطح پر مثالی تعلیم کے لیے کلاس کا حجم پچیس، تیس طلبہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
مضاحقہ خیز اور زیادتی والی ایک بات یہ بھی ہے کہ پرائمری اور ای ایس ٹی استاد اگر ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی ہے تو وہ بالترتیب گریڈ 9 اور 14 میں سال ہا سال سے پڑا ہے جبکہ ایک ایس ایس ٹی اور ایس ایس اور کالج لیکچرار کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بڑے گریڈ اور مراعات سے لطف اندوز ہو رہاہے۔ پرائمری استاد کو ڈی گریڈ کرنے اور رکھنے سے یہی ہونا تھا جو اب ہو رہاہے۔ سرکاری سکول کے اکثر طلبہ میٹر ک میں پہنچ کر بھی اُردو اور انگر یزی کا ایک پیراگراف بھی ڈھنگ سے نہیں لکھ پاتے۔
استاد کو مراعات دینے کے بجائے سزا کے ہتھیار سے معیارِ تعلیم کو بلند کرنے کی کوشش نے اُلٹا ستیاناس کر دیاہے۔ پیک کے امتحانات کی پیکنگ ہی آج تک نہیں ہوپائی۔ اکثراساتذہ اور ہیڈماسٹرز سزا کے خوف سے ملی بھگت سے امتحانی نتائج اپنے حق میں کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ امتحانی مراکز پہ تختہ تحریر پہ پرچہ کا حل تحریر کردیاجاتاہے۔ رہی سہی کسر مارکنگ سنٹرز پہ پوری کرلی جاتی ہے۔
میٹرک کے امتحانات پہ بورڈز کی پالیسی بھی روایتی ہے۔ ہر سال مخصوص اور منظورِ نظر سفارشی قسم کے اساتذہ کی اکثریت ڈیوٹی لگوا لیتی ہے۔ کئی عشروں سے بار بار ایک مخصوص ٹولہ امتحانی ڈیوٹیاں دیتا آرہاہے۔ کسی کو شک ہو تو بورڈز کا ریکارڈ زندہ ثبوت کے صورت موجود ہے۔
اکثر امتحانی عملہ بے شرمی کی حد تک لالچی ہوتاہے۔ پرائیویٹ اور سرکاری سکولز نے عملہ کو کھانا کھلانے اور دیگر خدمات سیر تفریح ، تحفے تحائف وغیرہ کی باریاں بانٹ رکھی ہوتی ہیں۔ باضمیر امتحانی عملہ کو اس کے برعکس طرح طرح سے پریشان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتاہے۔ کلاس فور کے ذریعے اُن کو تنگ کیا جاتاہے۔
بورڈز کی طرف سے نقل روکنے کی بعض ہدایات بھی اخلاقی دائرے سے باہر کی ہیں۔ طالب علم کی تلاشی پرچہ شروع ہونے سے پہلے اس طرح لی جاتی ہے جیسے پیشہ ور چور کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے جو استاد کے ذریعے اپنے طالب علم کی اس طرح کی بدتہذیبی اور تذلیل کرائی جاتی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتاکہ طلبہ کو پہلے ہی خبر دار کردیاجائے اور پھر نگرانی کا عمل دیانتداری سے انجام دیاجائے۔ اگر کسی سے دوران پرچہ نقل پکڑی جائے تو اُس کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے۔ نگران عملہ اگر دیانتدار اور ہوشیار ہو، لالچی اور سستی و کاہلی کا شکار نہ ہوتو ایک کمرے میں ایک نگران بھی نقل پر کنٹرول کرسکتاہے۔ یہاں تو طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات کی تلاشی بھی ناشائستہ طریقہ سے اور عادی چور سمجھ کے لی جارہی ہے۔
سانحہ پشاور کے بعد سکولز کو ہنگامی صورت حال کا سامنا کرناپڑا۔ اس کے لیے اساتذہ نے حکومت کا بھر پور ساتھ بھی دیا اور آج تک دے رہے ہیں۔ انسانی جان کی حفاظت کو ضرور اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے مگر ایسے نہیں کہ دُشمن ہمیں کمزور سمجھ بیٹھے۔ ہنگامی صورت حال کے اقدامات چند دنوں کے لیے ہوتے ہیں ، پھر جلد حکومتیں کوئی مستقل لائحہ عمل ترتیب دے لیتی ہیں۔
ہنگامی صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے ڈے ماسٹر کے نام سے جو نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے اس میں روزانہ ایک استادکے ذمہ سیکورٹی معاملات کو چیک کرناہے۔ وہ سارے سکول کو اندر باہر سے چیک کرتاہے۔ پھر سارا دن داخلی دروازے پراپنے سامنے دو رجسٹر رکھ کے ہر آتے جاتے شخص کا ریکارڈ لکھتاہے۔ کئی سکولز میں تو ڈے ماسٹر اپنے ساتھی ٹیچرز کے داخلی دروازے سے داخلہ اور خارجہ کو بھی نوٹ کرتاہے۔ اپنے ہی ساتھی مشکوک بنا دیئے گئے ہیں۔اپنے ہی بچوں کو ایسے دیکھتاہے جیسے ان میں سے دہشت گرد کی تلاش ہو۔ اکثر بچے بھی حیرت میں ڈوبے دیکھتے اور عجیب مسکراہٹ چہرے پہ لائے گزرجاتے ہیں۔شہر سے طلبہ کے والدین داخلی دروازے پہ ایک استاد کو دیکھ کے پہلا سوال ہی یہی کرتے ہیں کہ استاد جی آپ یہاں؟
کہاں انسانی دِل و دماغ اور روحوں کا چوکیدار اور کہاں سکول کے داخلی دروازے کا چوکیدار۔ واہ رہے استاد تیری قسمت۔ تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا۔ استاد سکول ماسٹر سے ڈے ماسٹر میں بدل چکاہے۔روز ایک استاد اپنی عزتِ نفس کا سودا کیے مجبوراََ ڈے ماسٹر کے فرائض سرانجام دے رہاہے۔ تین ماہ کے بعد تو کوئی مستقل حل نکال لینا چاہیے تھا۔ حکومت علاقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو ڈے ماسٹر کے طور پر بھرتی کرے۔ اس طرح صرف پنجاب میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو روزگار بھی میسر آئے گا ، سکول کی سیکورٹی کی ذمہ داری بھی بہتر ہوگی اور استاد کی چوکیدارہ سے جان بھی چھوٹے گی۔ یاد رہے کہ کچھ سکولز میں میٹرک کے امتحانات کے دوران سیکنڈ ٹائم کے پرچے کے اختتام یعنی ساڑھے چار بجے تک ہیڈماسٹر صاحبان نے ڈے ماسٹر کو پابند کر رکھاہے۔
جہاں استاد کی نگرانی کے لیے اتنے نگران مقرر ہیں وہاں ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز کے لیے بھی تو کوئی مسلسل نگرانی کا سسٹم ہونا چاہیے۔ سربراہ ادارہ اپنے ماتحت اساتذہ اور دیگر سٹاف کو تو ایسے پابند رکھنا چاہتاہے جیسے فوج میں پابندی کا اطلاق ہوتاہے ۔ فوج میں آفیسر پہلے خود پابند ی کرکے دکھاتاہے پھر نوجوانوں سے پابندی کراتاہے۔ مگر سکولز میں ہیڈماسٹر خود کو ہر قسم کے قوانین سے بالاتر سمجھتاہے۔ سٹاف کو پیڈا ایکٹ اور دیگر اختیارات کے سبق یاد کراتا پھرتاہے۔ مہینے میں ایک بار مانیٹرنگ والا اور سال چھ ماہ بعد ڈی ای او وغیرہ کے پیشگی اطلاع والے دورے سے سکولز ہیڈز کی نگرانی نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس کے لیے سکول کے اندر سے ہی مستقل نگرانی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔
ایک اور خرابی یہ ہے کہ اگر کسی سکول میں استاد اور ہیڈ کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوجائے، جھگڑا ہوجائے تو انکوائری آفیسر کسی دوسرے سکول کے ہیڈماسٹر وغیرہ کو مقرر کر دیاجاتاہے۔ ہیڈماسٹرز اپنی الگ یونین کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہیڈ اور استاد کی انکوائری میں اکثر فیصلہ استاد کے خلاف ہی آتاہے۔ انکوائری کمیٹی میں اساتذہ کا نمائندہ بھی ضرور شامل ہونا چاہیے۔
اساتذہ تنظیموں کا جس طرح اتوار بازار لگا ہواہے ، اگر ان کے عہدیداران ہی صوبائی سطح پر منظم احتجاج کرلیتے تو بہت سے جائز مطالبات پورے کرا لیتے مگر ہر سال بلا مقابلہ فتح کے جھنڈے گاڑنے والے عہدیداران شاید علامہ اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹر کِٹ اور امتحانی ڈیوٹی کو ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہ بلامقابلہ منتخب ہونے والے عہدیداران کا کمال ہے کہ آج استاد روزانہ خوف کے لمحات سے گزرتا ہے ۔ پندرہ بیس بیس سال سے استاد ایک ہی گریڈ میں پڑے بدبودار ہوچکے ہیں۔ سکول ہیڈ سے لے کر دفتر کے کلرک ، مانیٹرنگ میٹرک پاس اہلکار ، ڈی ٹی ای، اے ای او، ڈپٹی ڈی ای او، ڈی ای او، ای ڈی او کا خوف ہر لمحہ سر پہ منڈلاتا رہتاہے۔ اوپر سے طلبہ کے والدین کی اُمیدیں الگ سے۔ اپنے بیوی بچوں کی فکر بھی۔ سفید پوشی کے بھرم میں قبل ازوقت سر کے بال سفید نہ ہوں تو کیا ہو؟
استاد استاد ہوتاہے ۔ چاہے پی ایس ٹی ہو ،ای ایس ٹی یا ایس ایس ٹی ۔ اساتذہ تنظیموں کی آپس میں زبردست قسم کی کوارڈی نیشن ہونی چاہیے۔ مرکز سے لے کر تحصیل، ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح تک باقاعدہ انتخابات کے ذریعے عہدیداران کا تقرر کیا جائے۔بلا مقابلہ والی شِق کو ہی شَق کر دیاجائے۔ اساتذہ بھی اپنی یونینز کی کال پر کان دھرا کریں۔ اکثراساتذہ فنڈ دینے میں بہت زیادہ کسرنفسی سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے معاشرہ اس کسر نفسی کو کنجوسی کا نام دیتاہے۔ یونینز کی کال پر اساتذہ فوری لبیک کہیں اور اپنے جائز مطالبات کے لیے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ یہ یکجہتی استاد کو اپنے فرائض سے غافل ہونے کا سبب نہیں ہونی چاہیے۔
جس طرح طلبہ کے لیے پینٹ شرٹ کو رواج دے کر ان میں نکھار اور انفرادیت پیدا کی گئی ہے، ایسے ہی اساتذہ کو بھی پینٹ شرٹ کا پابند کیا جائے تاکہ استاد کی بھی دھوتی سے جان چھوٹے اور وقت سے پہلے بوڑھے ہوجانے والے اساتذہ کافی عرصہ پھر سے متحرک نظر آئیں۔
استاد بھی طالب علم کو سزاکا خوف دے کر نہیں بچے کی تعریف اور انعام سے اُس میں تحرک پیدا کرے۔ بے رحمانہ مار پیٹ اور مرغا بنانے والی غیر اخلاقی و غیر شائستہ الفاظ سے نوازنے والی سزاؤں سے مکمل اجتناب کرے۔ طلبہ کو واقعی اپنی اولاد سمجھے۔ باشعور والدین جس طرح گھر میں اپنی اولاد کے ساتھ سلوک روا رکھتے ہیں ۔استاد سکول میں اپنے طلبہ سے ایسا ہی سلوک روا رکھے۔
محکمہ تعلیم میں ڈی ایس ڈی کا شعبہ اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے قابلِ تعریف کام سرانجام دے رہاہے۔ ڈی ٹی ای مقرر کرنے کا فیصلہ بہت احسن ہے۔ البتہ تین سال کی بجائے ڈی ٹی ای صرف دو سال کے لیے مقرر ہو۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ اساتذہ کو ڈی ٹی ای بننے کا موقع ملے گا اور وہ دو سال میں اس قابل ہوجائیں گے کہ کلاس میں معیاری تعلیم دے سکیں۔ سبکدوش ہونے والے ڈی ٹی ایز کو اگر پرائمری سطح پر فرائض سونپے جائیں تو طلبہ کی بنیاد بہت مضبوطی پر استوار ہوگی۔
حکومت کو چاہیے کہ استاد اور ہیڈماسٹر کے تقرر سے پہلے این ٹی ایس کے ساتھ ساتھ ان کا پورا پورا نفیساتی ٹیسٹ بھی کرائے۔ احساس کمتری اور احساس برتری کے مارے، نفسیاتی و ذہنی مریض شخص کو استاد یا ہیڈ کا عہدہ کسی صورت تفویض نہ کیا جائے۔جب قوم کے معمار ہی ایسے ہوں تو قوم کیسے سُدھرے گی۔
استاد ہو یا ہیڈماسٹر ایک سکول میں زیادہ سے زیادہ تین سال تک تعینات رہے ۔ پھر اُسے قریبی کسی اور سکول میں تبدیل کردیاجائے۔ سال ہا سال سے ایک ہی سکول میں رہنے سے استاد بھی اور وہ معاشرہ بھی جمود کا شکار ہوجاتاہے۔ دس کلومیٹر کے ریڈئیس سے دور سے آنے والے استاد کو اسپیشل کنوینس الاؤنس دیا جائے۔ ہفتہ وار دو چھٹیوں کا نظام بحال کیا جائے تاکہ استاد بھی اپنے پرائیویٹ معاملات بہ احسن سرانجام دے پائیں اور تعلیم عمل بے فکر ہو کر جاری رکھ سکیں۔
جہاں استاد کے کچھ حقوق اور بہت سی ذمہ داریاں ہیں وہاں والدین پر بھی بھاری ذمہ داریاں ہیں بشرطیکہ وہ غور کریں اور سمجھیں تو۔
والدین کو اپنی چادر دیکھ کے پاؤں پھیلانے چاہیءں۔ گھر بنانے میں منصوبہ بندی، لباس سلوانے اور پہننے میں منصوبہ بندی،دوست ،رشتہ دار کی غمی خوشی میں شرکت کے لیے منصوبہ بندی، بازار سے سودا لانے ، چار پائی اور فرنیچر رکھنے ، سونے جاگنے تک میں منصوبہ بندی۔ الغرض والدین زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر منصوبہ بندی کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر منصوبہ بندی کا جہاں فقدان ہے تو وہ ایک جگہ ہے ، اور وہ ہے خاندان کی منصوبہ بندی۔ حالانکہ صبح شام فطرت کے مظاہر ہوں یا ہمارے دین کے معاملات و عبادات ہر جگہ منصوبہ بندی کا سبق انسان سیکھتاہے ۔ دین و فطرت ہمیں ہر کام میں اعتدال کا درس دیتے ہیں۔ اس سب کے باوجود آج سرکاری سکول کے اکثر طلبہ کے والدین خاندانی منصوبہ بندی سے ناواقف یا بلی کے سامنے کبوتر بننے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ باقی ہر کام میں اونٹ کو باندھ کے اللہ پہ
بھروسا کرتے ہیں مگر خاندنی منصوبہ بندی میں شُتر بے مہار چھوڑ کے اللہ پہ توکل کا ڈھونڈورا پیٹتے ہیں۔ جب اپنی ہستی اور استطاعت سے بڑھ کے اقدام کریں گے تو مسائل تو جنم لیتے ہیں۔ پھر اولاد کی شامت آ جاتی ہے۔ کسی کے پاؤں میں جوتا نہیں تو کسی کی شلوار کا مسئلہ ہے۔جیب خرچ ہوتا ہے نہ تفریح کے وسائل۔ ایک بچہ ابھی شِیرخوری کے دور میں ہوتاہے کہ دوسرا شیر بن کے دُنیا میں تشریف لے آتاہے۔ اکثر بچے ہاتھ میں کھلونے اور کتاب کی عمر میں کسی مکینک کے اوزاروں کے ساتھ کھیلتے پائے جاتے ہیں۔ کوئی حجام کی قینچی اور کنگھی تو کوئی درزی کی دکان پہ امیرزادوں کے کپڑے سلائی کرتے پایا جاتاہے۔
جہاں استاد کو اپنے عہدے کا پاس رکھتے ہوئے ہر حال میں اپنا مثبت کردار معاشرہ میں پیش کرنا ہے۔ آزمائش کی گھڑیوں میں ہمیشہ استقامت اور صبر و حوصلہ دکھانا ہے۔ نئی نسل کی تعلیم و تربیت سے کسی صورت غافل نہیں ہونا ، وہاں معاشرہ کی اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ استاد کو اُس کا جائز مقام دے۔ اگر حکومت استاد کی عزت میں اضافہ کرے گی تو استاد بھی ریاست کو چلانے والے بہترین لوگ مہیا کرے گا۔ انشااللہ

Short URL: http://tinyurl.com/gwav8yj
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *