ماچھی وال و گرد و نواح میں علاقہ مکین مضر صحت پانی پینے پر مجبور,کوئی پرسان حال نہیں

Print Friendly, PDF & Email

جھنگ (حبیب الرحمن)ماچھی وال و گرونواح کے مکین مضر صحت پانی پینے پر مجبور کوئی پرسان حال نہیںسیلاب زدہ علاقوں ماچھی وال ،شہیدآباد ،و گرد ونواح کے رہائشی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے، دریائے جہلم میں سال میں دو سے تین بار آنے والی طغیانی کی وجہ سے زیر زمین پانی نا قابل استعمال ہو گیا ہے ، تفصیلات کے مطابق2014ء میں آنے والے سیلاب کے بعدسے دریائے جہلم ہر سال دوسے تین بار طغیانی کی زد میں آتا ہے جس کی وجہ سے دریائے جہلم کے ساتھ دریا کے اندر اور بار موجود بستیوں ماچھی وال ، شہیدآباد،بستی سیداں ، لوہا بھڑ، جھوک بھورانی ، کڑیانوالہ ، موضع سیال ، مچھیانہ،ساجھر،کوٹ شاکر،علیانہ، وغیرہ میں زیر زمین پانی میں سوڈیم آئنز ، کلو رئیڈ آئنز،ٹاکسنز
)TOXINX(
کی زیادتی کی وجوہات کی بناپر ان علاقوں کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا مضر صحت پانی پینے کی وجہسے ان علاقوں میں فوڈ پوائزنگ،ڈائریا ، وبائی بخار ، پیٹ کے مختلف امراض ، یرقان ، گردہ کے امراض میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ،ڈاکٹرز کے مطابق سیلابی صورتحال کی وجہ سے سوڈیم آئنز ، کلو رئیڈ آئنز،ٹاکسنز
)TOXINX(
کا اضافہ اور پانی میں پی ایچ کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ایسا پانی پینے والے افراد مختلف موذی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں اس سے بچنے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا پانی لیبارٹریوں میں چیک کروائے اور ان علاقوں میں واٹر فلٹریشن کی سہولت مہیا کرے ، اس سنگین صورتحال کے باوجود محکمہ صحت کی کسی بھی ٹیم نے 2014ء کے سیلاب کے بعد سے آج تک کوئی دورہ نہیں کیا ،عوامی وسماجی حلقوں نے محکمہ صحت اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ان متاثرہ علاقوں میں ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجنے کے علاوہ واٹر فلٹر پلانٹس مہیا کیا جائے تاکہ سیلاب متاثرین ان موذی امراض سے محفوظ رہیں ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hzp42wh
QR Code: