گندے انڈوں کو ’’گھوڑا‘‘ نہ کہو۔۔۔۔ تحریر:سلمان رحمانی

دولت کے بل بوتے پر اسمبلیوں اور سینٹ کے رکن بن جانے والے133 جب 18کروڑ عوام کی قسمتوں کے فیصلے کریں گے133 تو ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر ہی نظر آئیں گے133 اور پھر دولت بھی وہ جو حرام کی ہو133 حرام کی دولت لٹا کر اگر ’’حرام خور’’ ایوان بالا کے رکن بننے میں کامیاب ہوں گے133 تو یہ ملک نہ تو کبھی پرامن رہ سکے گا اور نہ ہی ترقی کر سکے گا۔
شہر اقتدار اسلام آباد میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایوان بالا سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے گھوڑوں اور خچروں کی قیمتیں لگ رہی ہیں133 بولیاں لگائی جارہی ہیں133 قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں133 دو کروڑ میں سینٹ کا رکن بننے کی خواہش قصہ پارینہ بن گئی133 اب گھوڑوں اور خچروں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں’ ہاں بھائی133 مہنگائی کا دور دورہ ہے جس ملک میں لہسن ایک سو ستر روپے کلو’ ٹماٹر پچاس روپے کلو اور ادرک پونے دو سو روپے کلو بک رہی ہو133 جس ملک میں دودھ دینے والی بھینس کی قیمت دو سے ڈھائی لاکھ اور گائے’ بیل کی قیمت بھی لاکھوں میں ہو133 اس ملک کے دارالحکومت میں اب 2کروڑ میں نہ کوئی سیاسی گھوڑا بکنے کے لئے تیار ہے133 اور نہ ہی کوئی ’’خچر’’ 133 اس لئے زوروں کی اس مہنگائی میں133 گھوڑوں کی بولی133 دس کروڑ سے بھی تجاوز کرتے ہوئے133 پندرہ کروڑ تک جا پہنچی ہے133 واہ بھئی واہ133 دو کروڑ والا گھوڑا’ دس اور پندرہ کروڑ کا133 بکنے والے گھوڑوں کی چاندی ہی چاندی ہو رہی ہے۔
’’گھوڑوں’’ کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں پھنسے ہوئے ہیں133 آپ بھی حیران ہوں گے کہ آخر گھوڑوں کے سر کڑاہی میں کیسے سما سکتے ہیں؟ ارے بھائی133 پاکستان میں ہر چیز ممکن ہے133 ’’ہارس ٹریڈنگ’’ کا یہ کاروبار کہ جس میں کچھ عرصے کے لئے بعض انسان’ گھوڑوں کی طرح دوسرے بعض انسانوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں133 بڑا ہی اچھوتا اور مکروہ کاروبار ہے’ ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح چونکہ عوامی اور صحافتی حلقوں میں مشہور ہوگئی ہے اس لئے سینٹ کے الیکشن میں ووٹ بیچنے اور ووٹ خریدنے والوں کو میں بھی گھوڑا ہی لکھنے پر مجبور ہوں۔
ورنہ133 یہ گندے انڈے تو اس قابل بھی نہ تھے کہ 133 انہیں گھوڑا لکھایا پڑھا جاتا133 ’’گھوڑا’’ ایک نہایت حوصلہ مند اور وفادار اور جنگی جانور ہے133 سلطان محمود غزنوی ہوں’ سلطان صلاح الدین ایوبی ہوں’ محمد بن قاسم ہوں یا طارق ابن زیاد133 بدر کا میدان ہو’ احد کا میدان ہو یا کربلا کا میدان133 گھوڑوں نے اسلام کے سپہ سالاروں کی سواری بن کر ہمیشہ تاریخی کردار ادا کیا۔
نجانے وہ کون سی منحوس گھڑی اور لمحہ تھا کہ جب ضمیر بیچنے والوں کو گھوڑا لکھا اور کہا جانے لگا133 سینٹ کے الیکشن میں حرام کی دولت سے اراکین اسمبلی کی بولیاں لگانے اور بکنے کا وقت قریب آیا تو133 کالم نگاروں نے اسے ہارس ٹریڈنگ قرار دیکر اپنے کالموں میں ’’گھوڑا’ گھوڑا’’ کی رٹ لگانا شروع کر دی133 حالانکہ محض دولت کے زور پر ایوان بالا سینٹ کا رکن بن جانا133 تو 18کروڑ پاکستانیوں کی توہین کے مترادف ہے133 کیا چار ٹانگوں والے گھوڑے نے کبھی انسانوں کو شرمندہ کیا ہے؟
کیا چار ٹانگوں والے گھوڑے نے کبھی کسی پاکستانی کی توہین کی ہے؟ گھوڑا جانور ضرور ہے133 مگر بے ضمیر نہیں ہے133 گھوڑا جانور ضرور ہے مگر بیوفا نہیں ہے133 پھر مال حرام لگا کر اور مال حرام کما کر سینٹ کا الیکشن جیتنے والے ضمیر فروشوں کو گھوڑا قرار دینا کیا گھوڑوں کے حقوق اور جذبات پامال کرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟
آج اگر پروردگار گھوڑوں کو انسانوں کی طرح بولنے کی طاقت عطا فرما دے133 تو یہ سارے گھوڑے133 اسلام آباد کے ڈی چوک میں ان کالم نگاروں’ تجزیہ نگاروں’ اینکروں’ اینکرنیوں اور سیاست دانوں کے خلاف اس بات پر احتجاجی دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے کہ ’’ضمیر فروشوں’’ کو گھوڑا قرار دے کر ان کی توہین کیوں کی گئی؟ وہ چیخ’ چیخ کر دانشوروں سے پوچھیں گے کہ جب ہم نے کبھی کسی کو کرپٹ گھوڑے کو ’’انسان’’ قرار نہیں دیا133 تو پھر تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ تم معاشرے کے کرپٹ اور بے ضمیر انسانوں کو ’’گھوڑا’’ قرار دیتے پھرو؟ ہے کوئی حقوق حیوانات کی این جی او کہ جو ’’گھوڑوں’’ کی توہین کرنے سے انسانوں کو روکنے کے لئے 133 سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن ڈائر کرے؟
چھانگا مانگا کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے133 تو ضمیر بیچنے اور ضمیروں کا سودا کرنے والوں کی ایک پوری فلم نظروں کے سامنے گھوم جاتی ہے133 مگر اب ایک اچھی خبر بھی آئی ہے اور وہ یہ کہ حکومت ضمیر بیچنے اور ضمیر خریدنے کے اس گھناؤنے کاروبار کو روکنے کے لئے کوئی آئینی ترمیم لا رہی ہے133 دیکھتے ہیں کہ یہ آئینی ترمیم کیا گل کھلاتی ہے؟ اور اس مکروہ کاروبار کو کرنے والوں کے سامنے کیسے سد سکندری بن سکتی ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا133 لیکن مجھے اس بات پر ذاتی طور پر اعتراض ہے کہ بے ضمیروں کو گھوڑا قرار دیا جائے’ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ
الیکشن ممبری کونسل صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے
اٹھا کے پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے










Leave a Reply