کون سی خود مختاری ؟۔۔۔۔ تحریر :سلمان رحمانی، کراچی

Salman Rehmani
Print Friendly, PDF & Email

کون سی خود مختاری ؟ کیسی خود مختاری ؟ امریکا جب چاہے جہاں چاہے کارروائی کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے شہری اٹھا کر گونتاناموبے لے گیا ۔ برسوں سے ڈرون حملے کر رہا ہے اور جس شہر یا گاؤں میں چاہے اتر کر اپنی خود مختاری کی رٹ قائم کرجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکا کو پاکستان کے اندر حملے کرنے کا سر ٹیفکیٹ کس نے دیا ؟ کیا دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی باقاعدہ تحریری معاہدہ موجود ہے ؟ قانون پرست امریکا کے پاس شاید یہی جواز ہے کہ وہ ڈرون حملے کرتا رہے گا اور ہماری حکومت احتجاجی بیان جاری کر کے عوام کے منہ بند کرتی رہے گی ۔
اصول کی بات ہے جو جرم کرتا ہے سزا بھی وہی پاتا ہے ۔ جرم کا اعتراف کرنے والا ہی مجرم ہوتا ہے ۔یہ قوم برسوں سے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے اور اسے دلدل میں دھکیلنے والے بڑے فخر سے اعتراف کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ غلطی ان سے ہوئی ہے ۔ مصائب اور مشکلات ان ہی کی وجہ سے ہیں لیکن اس دلدل سے قوم کو باہر لانے کی ذمے داری ان کی ہے جو اسلام آباد کے ایوانوں پر قابض ہیں ۔
بھارت کی نسبت پاکستان کی امریکا سے دوستی پرانی ہے ۔ جس زمانے میں روس اور امریکا آمنے سامنے تھے بھارت روس کے ساتھ اور پاکستان امریکا کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں امریکا عوامی جمہوریہ چین کو سبق سکھانے کے لیے بھارت کی پشت پر چلا گیا اور دوسری طرف روس کو مٹانے کے لیے پاکستانی حکمرانوں سے محبت کرنے لگا تھا۔
پاکستان امریکا دوستی کی آزمائش کا ایک اور لمحہ تھا جب امریکا بہادر کنی کترا گیا۔ تب امریکا چین سے محبت بڑھانے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ اس زمانے میں اسے پاکستان کے تعاون کی ضرورت تھی۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کی ٹھن گئی تو پاکستان کے حکمرانوں کو پورا یقین تھا کہ اب کے امریکا پاکستان کی پشت پر ہوگا۔ امریکا کا ساتواں بحری بیڑہ پاکستان کی مدد کے لیے ان ہی دنوں فلپائن سے خلیج بنگال کی طرف روانہ ہوا تھا جو تادم تحریر یہاں نہیں پہنچا۔
نائن الیون کے روز جڑواں ٹاور امت مسلمہ کی قسمت پر آن گرے۔ امریکا بہادر کو پاکستان سے دیرینہ تعلقات یاد آئے ۔ افغانستان میں سوویت یونین کو خجل خوار کرنے کے بعد وہ لوٹ گیا تھا۔ اب کے اسے پھرسے پاکستان کے تعاون کی ضرروت پڑی ۔ پاکستان نے جو تعاون کیا اس پر کسی رائے زنی کی ضرورت نہیں ۔ پاکستان کے حکمران ان پالیسیوں کی بدولت اپنے ہی عوام کے درمیان زیر بحث رہنے لگے ۔ جون میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اور سلامتی کونسل کے امور کی مشیر کونڈا لیزا رائس نے اپنا لہجہ بدل لیا۔ انہوں نے دو ٹوک کہا تھا پاکستان لائن آف کنٹرول کے اس پار دہشت گردوں کو روکنے کے لیے موثر اقدام کرے ۔
آج ہم امریکا سے گہری دوستی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ اس ملک کو آگ کے شعلوں کی نذر کرنے والے پورے پروٹوکول کے ساتھ مزے اڑا رہے ہیں ۔ ٹی وی چینلز کچھ پر سقراط بقراط اپنے تجزیے کر رہے ہیں ۔ اہل اقتدار کو اپنے ذاتی مفادات کو اب پس پشت ڈال کر امریکا بہادر سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ اگر وہ ہمارا دوست ہے تو پھر ہماری بستیوں پر یہ آگ و بارود کی بارش کس لیے ہے ؟
ڈرون حملہ میں بقول امریکنوں کے طالبان کے ملاعمر کی وفات کے بعد بننے والے امیر ملا منصور ہلاک ہو گئے ہیں۔ڈرون حملے کسی بھی ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہیں۔ڈرون حملوں سے آج تک جو تخریب کار انہوں نے قتل کیے ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ ہے۔ہم F16لینے گئے تھے ہمیں کھرا جواب دے ڈالا کہ آفریدی کو چھوڑا جائے یہ سراسر بلیک میلنگ ہے۔ریمنڈ ڈیوس انہوں نے ہم سے رہا کروالیا تھا۔ا ب انھیں ہماری کمزوری کا پتہ چل گیا ہے کہ ذرا سی آنکھ دکھائیں توپاکستانی حکمران لیٹ کر تابعداری فرماتے ہیں اس لیے اب اس مجرم کو بھی چھڑوانا چاہتے ہیں ۔
مسلمانوں کی تاریخ میں میر جعفر و میر صادق ہمیشہ ہی رہے ہیں۔اور چند لاکھ پر پاکستان میں تخریبی سر گرمیوں کے لیے ایجنٹ ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہ ہے جہاں 70فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں لو گ دانے دانے کو ترستے اور بھوک پیاس بے رو زگاری سے خود کشیاں ،خود سوزیاں کرتے اورڈوب مر رہے ہوں تووہاں سے خواہ سینکڑوں ایجنٹ بھرتی کر لو یہاں تک کہ خود کش بھی تیار کر لو ۔واقعی خودکش بمبار تو ایٹم بم سے بھی خطر ناک ایجادہے جو کہ اصل ٹارگٹ پر حملہ کر سکتا ہے۔مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کی 1971 کی جنگ میں ہم آس لگائے بیٹھے تھے۔کہ امریکی بحری بیڑا خلیج بنگال میں ہماری امداد کے لیے جلد پہنچ رہا ہے اور امریکیوں نے اسے سفر پر روانہ بھی کردیا ہے مگر سب سفید جھوٹ نکلا۔
مسلمانوں کے ممالک کی آپس میں معمولی لڑائی ہویا جنگ چھڑجائے تو امریکی یہودی اسرائیلی اور بھارتی چوکور میں سے ایک گروپ ایک مسلمان دھڑے کی اور دوسرا دوسرے دھڑے کی امداد کرے گا۔تاکہ مسلمان مسلمان کا خون بہاتا رہے اور یہ ممالک آپس میں بر سر پیکار رہیں فرقوں اور سرحدی جھگڑوں میں الجھے رہیں ۔کویت سعودیہ جنگ میں سعودیوں نے امریکیوں اور ان کے فوجیوں کو اپنی حفاظت کے لیے بلوایا تھا۔اور اپنے فوجیوں سے کوئی پچاس گنا زیادہ تنخواہ آج تک دیے چلے جارہے ہیں۔
امریکن دوغلی پالیسی کا شکار بن چکے ہیں ڈرون حملہ کے بعد بھی اوبامہ کا کہنا کہ پھر بھی ایسا کریں گے اور پاکستان سمیت کسی بھی جگہ حملہ کرنا ہمارا ہی حق ہے ۔سخت تکلیف دہ اور اشتعال انگیز بیان ہے۔بھاڑ میں جائے آپ کا صدارتی الیکشن ہمیں کیا لینا دینا۔آپ کا بیان کیاصدارتی امیدوارٹرمپ سے کسی صورت کم اشتعال انگیز ہے ہر گز نہیں۔ہم خود مختار ایٹمی طاقت ہیں ہم سے پنگا لینے سے بالآخر آپ ہی کا نقصان ہو گا۔امریکی ہمیں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنا اتحادی بھی قرار دیتے ہیں۔اور ہمارے ذمہ لگا رکھا ہے کہ ان کو باحفاظت افغانستان سے نکل جانے کی بذریعہ مذاکرات طالبان سے اجازت کا پروانہ لے کر دیں اور خود ایسی حرکت کہ ہماری ہی سرزمین پر ڈرون حملے۔ ایسی انوکھی پالیسیوں کا خوامخوہ جو لازما نتیجہ نکلے گاکہ افغانیوں کی سرزمین پر تمام حملہ آور ہمیشہ شکست خوردہ رہے اور حملہ آور افراد میں سے آج تک کوئی واپس نہیں جاسکاان حالات میں ہم خواہ کتنے ہی ترلے منتیں کریں طالبان نہیں مانیں گے آپ ہمیشہ دوست کے دشمن اور دشمن کے دوست بن کررہے ہیں پاکستان کو خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفارتخانہ جو سراسر سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔اسے بند کرکے امریکنوں کو احساس دلوانا چاہیے کہ ان کا کس قوم سے پالا پڑا ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/jzvh8br
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *