ماہ صیام!۔۔۔۔ تحریر : سلمان رحمانی

Salman Rehmani
Print Friendly, PDF & Email

نبی کریم ﷺ نے عالم اسلام کے لئے ہر باب میں جس قدر فضائل اور ترغیبات ارشاد فرمائی ہیں انکا اصل شکر یہ اور قدر دانی تو یہ ہوتی کہ ہم ان پر مر مٹتے ، مگر ہماری کوتاہیاں اور دینی بے رغبتی اس قدر روزافزوں ہیں کہ ان پر عمل تو درکنار ، ان کی طرف التفات اور توجہ بھی نہیں رہی ۔
فضائل رمضان کے سلسلے میں جو ارشادات آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائے ہیں اگر رمضان المبارک سے قبل ان کا استحضار کر لیا جائے تو اللہ کی رحمت سے کیا بعید کہ اپنے محبوب کے کلام کی برکت سے ہم لوگوں کو مبارک مہینے کی کچھ قدر اور اس کی برکات کی طرف کچھ توجہ ہوجائے ،نیک اعمال کی زیادتی اور بداعمالیوں کی کمی کا زریعہ بن جائے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان المبارک ہی ہوجائے،ہر شخص سمجھتا ہے کہ پورے سال روزے رکھنا ایک مشکل ام ہے لیکن حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگ اسکی تمنا کرنے لگیں ۔
ایک اور روایت ہے کہ رمضان المبارک کے روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنا دل کے کھوٹ اور وساوس کو دور کرتا ہے ، رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معزز اور بابرکت مہمان ہیجو بہت سی برکتیں اور انعامات لے کر آتا ہے چنانچہ دنیا کا قاعدہ ہے کہ مہمان جس قدر معزز اور گراں قدر ہوتا ہے اسی قدر اس کی آمد کی تیاریاں کی جاتی ہیں تمام تر کوششوں کے باوجود ڈر اور خدشہ لگ ارہتا ہے کہ کہیں مہمان کے استقبال میں کمی واقع نہ ہو جائے اور مہمان بجائے خوش ہونے کے ناراض ہو کر نہ چلا جائے ۔
حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو اسکا کھانا پینا چھوڑ دینے کی ضرورت نہیں ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ سحری کھایا کروکیونکہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے ۔
حضرت عمر بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان سحری کا فرق ہے ۔
رمضان کی برکات اور رحمتوں کے حصول کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں ،اس لیے کہ جب تک اللہ کی توفیق شامل حال نہ ہوگی اس وقت تک اس ماہ کہ برکات اور رحمتوں کو بندہ حاصل نہیں کر سکتا،چھوٹی ہوئی قضاء نمازوں کی ادائیگی کریں ،زکوٰۃ کی ادائیگی کی فکر کریں ،مانی ہوئی نذریں پوری کرنے کا اہتمام کریں یا ان کے کفارے ادا کریں ، لین ،دین یا ناحق کسی کا دل دکھایا ہو تو اس سے معافی مانگیں ،اس لیے کہ حقوق العباد کو ادا نہ کرنا اس ماہ کی برکات حاصل کرنے میں رکاوٹ ہے ، دل سے اپنے گناہوں پر ندامت اختیار کریں اور توبہ کریں تاکہ رمضان المبارک کی برکتوں سے مالا مال ہوں اور رمضان شروع ہوتے ہی دل منور ہوتے چلے جائیں ۔
رمضان المبارک کی اہمیت کا اندازی بخوبی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مبارک مہینے کی تیاری نبی اکرم ﷺ شعبان ہی سے شروع کر دیا کرتے تھے جس طرح تاجر اپنی تجارت کا سیزن آنے سے پہلے ہی اس کی تیاری مکمل کر لیتا ہے اور پھر وقت آنے پر بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح ہمیں چاہیے کہ آپس میں رمضان المبارک کے تذکرے کریں ،کہ نیکیوں کا سیزن آرہا ہے ، رحمتیں سمیٹنے کا وقت آرہا ہے ،دل سے زنگ اتارنے کا مہینہ آرہا ہے ،اپنی دناوی مصروفیات کو مختصر کریں اور اللہ کی رحمتیں سمیٹنے کی کوشش کریں ۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ریان ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہونگے ، حضرت ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم نے ہر عمل اپنے لئے کیا سوائے روزوں کے کہ وہ میرے لئے ہیں اور میں اسکا بدلہ دوں گا تو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔دعا ہے اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

Short URL: http://tinyurl.com/zteoelb
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *