عدم برداشت۔۔۔۔ تحریر : سلمان رحمانی

Salman Rehmani
Print Friendly, PDF & Email

انسانی معاشرہ ایک گل دستے کی طرح ہے جس طرح گل دستے میں مختلف رنگ کے پھول اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف الخیال، مختلف المذاہب اور مختلف النسل کے افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی تنوع اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتا ہے ، اگر کسی جگہ ایک ہی نسل اور مذہب کے لوگ رہتے ہوں تو اسے ہم معاشرتی گروہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے کلیتا معاشرے کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھی عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلی صفت معاشرے سے ختم ہو چکی ہے۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔
ٹریفک سگنل کو ہی لے لیں ، وہاں پر کھڑا ہر فرد دوسرے سے جلدی میں دکھائی دیتا ہے خاص طور پر موٹر سائیکل سوار تو اشارہ کھلنے کا بھی انتظار نہیں کرتے، ابھی سگنل سبز سے سرخ بھی نہیں ہوتا کہ وہ موٹرسائیکل بھگا لے جاتے ہیں اور اگر سگنل پر ٹریفک اہلکار موجود نہ ہو تو پھر سگنل کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، افراتفری کے عالم میں چوراہے کو پار کرتے ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے حتی کہ بعض اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے اور کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور نتیجہ معاملہ تھانے کچہری میں چلا جاتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ کھلے دل سے اسے تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لے تو یقیناً دوسرے کو بھی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کرنا پڑے گا اور معاملہ وہیں رفع دفع ہو جائے گا، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں کا چلن بالکل بدل چکا ہے، بات کو ختم کرنے کی بجائے بڑھاوا دیا جاتا ہے۔
عدم رواداری کے اس بڑھتے ہوئے خوفناک رجحان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تشدد کے ایسے ایسے لرزہ خیز واقعات پیش آ رہے ہیں کہ جن کا ذکر کرتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا معاملہ بھی بڑا خوش کن ہے اس کے کام میں ہر قسم کی بھلائی ہے، یہ بات مومن کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی نصیب ہوتی ہے تو اس پر شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کے لئے بھلائی ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایماندار بندے کی بڑے خوبصورت انداز میں تعریف فرمائی ہے کہ ایماندار بندے کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے اور اس کے ہر معاملے میں اس کے لئے بھلائی ہے اور یہ انعام ایماندار بندے کے سوا کسی اور کو نصیب نہیں ہوتا۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ جب اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو اس پر اتراتا نہیں اور نہ وہ آپے سے باہر ہو کر خلاف شریعت کام کرتا ہے، بلکہ اس نعمت کے مل جانے پر اپنے مالک کا شکر ادا کرتا ہے جس کے نتیجے میں اس پر اللہ تعالی مزید انعام دیتا ہے۔ کسی خوشی کے میسر آنے پر شکر گزار بن جانا بہت بڑی نیکی ہے۔
دوسری خوبی ایماندار بندے کی یہ ہے کہ جب اسے کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو اس پر گھبراہٹ کا اظہار کرنے کے بجائے صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔ مومن کے معاملات ہمیشہ درست اور منظم ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ غمی کے موقعہ پر غم سے نڈھال ہو کر بیٹھ نہیں جاتا بلکہ اس پریشانی پر صبر کرتا اور خوشی ملنے کی صورت میں اپنے آپ کو ضبط کرتا ہے۔ آپے سے باہر ہو کر بے ہودہ اور غیر شائستہ حرکات نہیں کرتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔
مذہب انسان کو اخلاق کا درس دیتا ہے، اس کے اندر ایسے اعلی اوصاف پیدا کرتا ہے کہ وہ بہترین انسان بنے اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو ، مگر ہمارے معاشرے میں مذ ہب کو ہی سب سے زیادہ جارحیت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ، مختلف مسالک کے اختلافات کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ مختلف فرقے کے افراد ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہیں۔ اب تک لاکھوں افراد فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کچھ مذہبی گروہ مذہب کو بالکل ہی مختلف انداز میں استعمال کر رہے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ان کا پسندیدہ مذہب نافذ کیا جائے اور اس کے لئے مسلح جد وجہد کو جائز سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام تو میانہ روی اور رواداری کا درس دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے، حتی کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو معاف کر دینے کو افضل قرار دیا گیا ہے ، اسی طرح دوسرے مذاہب چاہے وہ الہامی ہیں یا انسانوں کے بنائے ہوئے سب میں دوسروں کو برداشت کرنے کا درس دیا گیا ہے ، مگر بدقسمتی سے مذہب کی اصل روح کو سمجھنے کی بجائے اس کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی جاتی ہے، یوں مذہب سوسائٹی کی اصلاح کی بجائے لڑائی جھگڑے اور فساد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مذہب کا مقصد ہی معاشرے سے برائی کا خاتمہ کر کے امن و سکون قائم کرنا ہے تو پھر اسے ذاتی معاملہ تو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم دوسروں پر زبردستی اپنی سوچ تھوپنے کی قطعا اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہی مذہب سکھاتا ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان وہی ہے جس کا دل اسلام کی حقانیت تسلیم کر چکا ہو جب معاملہ دل کا ہے تو بات محبت سے دل میں اتاری جا سکتی ہے ناکہ زبردستی۔

Short URL: http://tinyurl.com/h2gha32
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *