سامراجی امداد؟۔۔۔۔ تحریر: سلمان رحمانی ،کراچی

Salman Rehmani
Print Friendly, PDF & Email

جہاں مالی مفادات و سیاسی طاقت اور خارجہ پالیسی پر اختلافات کی وجہ سے پاکستان کے حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کے درمیان تناؤ شدت پکڑ رہا ہے وہاں اس سماج کے باسیوں کی وسیع اکثریت کے لئے غربت،محرومی اور بے روزگاری کی موجوں میں اضافہ در اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ،یہ صورت حال مجموعی سرمایہ دارانہ نظام کے شدید معاشی ،سیاسی اور سفارتی بحران کی غماز ہے ،لیٹن نے قبل از انقلاب صورتحال سب سے بڑی نشانی حکمران طبقے کے آپسی تضادات کی شدت کو قرار دیا تھا۔
آج کارپوریٹ میڈیا پر یہ بحث زور و شور سے کی جارہی ہے کہ امریکی امداد کا ایک کثیر حصہ امریکہ شہنشاہ کے حکم کے مطابق دہشت گردی کی جنگ کومزید بڑھایا جائے اور اسی طرح بھیک کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہنا چاہیے ،نواز لیگ سمیت سیاست پر حاوی تمام سیاسی پارٹیوں کا یہ وطیرہ ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے یا اپوزیشن میں ہوتے ہوئے قومی غیرت اور ملکی سالمیت کے نعرے لاگائے جاتے ہیں جبکہ برسر اقتدار آکر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے سامراجی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے جاتے ہیں ،نعرے بازی سے ہٹ کر اس ملک کے معیشت دانوں اور سیاسی اداکاروں کے پاس وہ سلاحیت اور جرائت ہی نہیں ہے کہ عملی طور پر اس ملک کو سامراجی امداد کی گھن سے آزاد کراسکیں ،پاکستانی سرمایہ داروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں آزاد ہوئے جب تاریخی طور پر بہت دیر ہوچکی تھی ۔
پسماندگی اور مالیاتی کمزوری نے انہیں ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے مرہون منت کردیا ،تاریخ گواہ ہے کہ ایک الگ ریاست کے حصول کے بعد یہاں کے حکمرانوں نے امداد کے لئے فورا سے پہلے سامراجی ممالک کا رخ کیا ،سامراج امداد اور قرضوں کی آڑ میں ترقی پزیر ممالک کی دولت،محنت اور وسائل کو بے دردی سے لوٹتا ہے ،سامراجیت کے معنی ہی یہی ہیں ۔
پاکستانی ریاست اپنے کل قرضوں سے کہیں زیادہ رقم سامراجی سود خوروں کو ادا کر چکی ہے لیکن قرضے بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں ،بجلی و ٹیلی کمیونیکیشنز،ادویات اور بینکنگ سمیت صنعت اور معیشت کے کلیدی شعبوں پر غیر ملکی کارپوریٹ اجارہ داریاں قابض ہیں اور بے دریغ منافع خوریا ں کر رہی ہیں ،پاکستان جیسی معیشتیں ہمیشہ تجارتی،مالیاتی اور بجٹ خساروں میں ہی رہتی ہیں ،سامراجی امداد اور قرضے ملٹی نیشنل اجارہ داریوں کے مالیاتی مفادات اور شرح منافع میں اضافے کے لئے موافق شرائط ساتھ لے کر آتے ہیں ایک صحت مند سرمایہ دارانہ معیشت اور جدید صنعتی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں ناکام ہو جانے والے ہمارے حکمران اس تمام تر کاروبار میں کمیشن ایجنٹوں کے کام سرانجام دیتے ہیں جبکہ اس اقتصادی استحصال اور سماجی لوٹ مار کا تمام تر بوجھ مہنگائی کی صورت میں یہاں کے محنت کش عوام کے کندھے پر ڈال دیا جاتا ہے ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے کھل کر تسلیم کرنے کے لئے کوئی بھی دانشور یا سرکاری معیشت دان تیار نہیں ہے سب کے سب اسی نظام کو ٹھیک کرنے کی بات کرتے ہیں کیونکہ اسی نظام سے یہاں کے حکمرانوں ،سیاستدانوں اور سول و فوجی افسر شاہی کے مالیاتی مفادات وابستہ ہیں سرمایہ داری کوئی ملکی یا قومی نظام نہیں ہے کرہ ارض پر موجود مختلف سیاسی پولٹوں یا قومی ریاستوں میں یہی نظام اپنی اپنی مختلف کیفیات اور درجات کے ساتھ موجود ہے ، اس ملک میں معیشت پر ہونے والے بجٹوں میں اس بنیادی حقیقت کو یکسر نظرانداز کیا جاتا ہے ،آج عالمی طور پر سرمایہ داری اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے ،دنیا کے سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت امریکہ دنیا کے سب سے مقروضوں میں سے ایک ہے اور شدیدو بدترین مالیاتی ، تجارتء خساروں کا شکار ہے ،امریکہ کا ریاستی قرضہ17ہزار ارب دالر سے تجاوز کر چکاہے ،ستمبر 2012کے بعد سے امریکی ریاست کے قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر 2.65ڈالر اضافہ ہورہا ہے عالمی تجارت میں ڈالر کا بطور کرنسی استعمال ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچائے ہوئے ہے اس کے علاوہ امریکی قرضے کے بڑے حصے کو چین،جاپان اور دیگر چند ارب ممالک نے خریدا ہوا ہے اسی وجہ سے شہنشاہ عالم پناہ مسٹر اوبامہ نے 70سال بعد جاپانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے بطریقہ اظہار ہمدردی کرنے چلے آئے ۔
ماضی میں سامراجی قوتیں جنگیں کرواکر اسلحہ سازی کی صنعت کے منافعوں کے ذریعے اپنی معیشتوں کو سہارا دیا کرتی تھیں جبکہ جنگ کے بعد تعمیر نو کے ٹھیکوں کے ذریعے معیشت کے دوسرے شعبوں کومنافعے دلوائے جاتے تھے ، ہمارے حکمران سامراجی امداد یا یورپی منڈیوں کے حصول پر جشن مناتے ہوئے عوام کو یہ نہیں بتاتے کہ امریکہ اور یورپ کے باسیوں کی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی جارہی ہے ،اپنی رعایاکے منہ سے نوالا چھیننے والے سامراجی حکمران ہمیں کیا امداد دیں گے ؟
سامراج کی طرف سے پاکستانی حکمرانوں کی طرف چند سکے اچھالنے کی شرائط بھی تلخ سے تلخ تر ہوتی جائیں گی،آج دنیا کے ہر خطے میں مہنگائی ،بے روزگاری،کٹوتیاں ،قوت خرید میں کمی،اور عوام پر بڑھتے ہوئے ٹیکس معمول بن چکے ہیں ،جو بطور نظام سرمایہ داری کی تاریخی تنزلی کی مثال ہے ،نام نہاد لبرل،سیکولر اور سیاست دان ہوں یا مذہبی جماعتیں کسی کے پاس ٹھوس سائنسی بنیادوں پر اس نظام کا متبادل موجود نہیں ہے ، یہ لوگ کب تک آخر عوام کو اپنی جعلی لڑائیوں اور نان ایشوز میں محو رکھ پائیں گے اسکا فیصلہ محنت کش طبقہ ہی کرے گا ۔

Short URL: http://tinyurl.com/zvolb5l
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *