ٓٓاللہ سب کو ایسے بیٹے نصیب کرے ۔۔۔۔ تحریر : سلمان رحمانی

دنیا کے کسی بھی مذہب اور معاشرے کے اندر والدین کو بہت ہی عزت اور قدر دی گئی ہے ،یہ حقیقت ہے کہ توریت،زبور ،انجیل اور اسی طرح باقی منزل من اللہ صحیفے مستقل اور ابدی طور پر انسانیت کے لئے رول آف لاء کے طور پر نازل نہیں ہوئے لیکن قرآن مجید جو انسانی زندگی کے لئے مکمل ضابطہ حیات اور قیامت تک کے لئے دستور حیات ہے اس میں جابجا مختلف امثال کے ذریعے والددین کے حقوق کے بارے میں آگاہی اور ترغیب دی گئی ہے ،یہاں تک کہ والدین کی رضامندی کو ٓللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کے ساتھ جوڑ دیا ہے ،جب حضرت ابراہیم ؑ کو جلتے ہوئے آگ کے چخے میں بت خانے میں جا کر بتوں کو توڑنے اور ہاتھ سے بنائی گئی مورتیوں کو توڑنے کے سبب ڈالا گیا تو آپ ؑ کے والد ماجد آزر کھڑے دیکھ رہے تھے اور ان کے منہ سے چوں تک نہیں نکلی لیکن جب حضرت ابراہیم ؑ نیاپنے والد کو تبلیغ کی تو قرآن مجید ( یا ابت یا ابت یا ابت )کے الفاظ سے تاریخ دہراتا ہے عربی دان سمجھتے ہیں کہ ان الفاظ میں والدین کے لئے محبت اور اخلاص کس قدر بھرا ہوا ہے،ان الفاظ سے بڑھ کر محبت اور نرمی کے لئے اور کوئی لفظ ہے ہی نہیں ، تھوڑا سا غور کریں تو ان الفاظ میں باپ کی فضیلت اور عزت کو حد درجہ تکمیل دی گئی ہے بعضے مفسرین نے اس لفظ کے معانی( اے میرے پیارے ابا جان) کے کئے ہیں اور اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے بار ہا تبلیغ کے باوجود اللہ کے ہاں دعا و استغفار اور بخشش چاہی ہے ۔
بہت ہی تکلیف ہوتی ہے جب آئے روز سفید بال لئے کسیے بزرگ کو سڑک کنارے ،بیچ بازار ،چوراہے پر رزق کی تلاش میں بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں تو روح کانپ جاتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور زمین پر ایک بھونچال سا نظر آتا ہے جب ہمارے اعمال اس طرح کے ہوں والدین کو ارام دینے کے بجائے ہم انکی تکلیف کا باعث بنیں تو یہ زلزلے اور قدرتی آفات کا آناکوئی بڑی بات نہیں ہے ، ایک دفعہ ایک بدو نوجوان اپنے والد گرامی کے بارے شکایات لے کر دربار رسالت میں حاضر ہوا کہ ’’میں کماتا ہوں اور میری ساری کمائی میرے والد خود لے لیتے ہیں ‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا اپنے والد کو بلا کر لاؤ !
نوجوان جب اپنے والد کو بلا کر لا رہا تھا تو راستے میں چلتے ہوئے اس بزرگ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور چلتے ہوئے ایک درد بھرا قصیدہ پڑھا جسکا خلاصہ یہ تھا کہ ’’ اے بیٹے اس ٹائم کو یاد کر جب تو چھوٹا تھا تیرے پاس بولنے کے لئے الفاظ نہیں ہوا کرتے تھے ،رات دن کر کے تیری ہر خواہش کو پرا کیا ، تیری امی اور میں نے سردیوں کی ٹھنڈ بھری راتوں میں تیرے آرام کے لئے اپنی راتوں کو آنکھوں پہ کاٹ لیا کرتے تھے ‘‘
دربار رسالت میں پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہی اشعار سناؤ جو تم راستے میں پڑھتے ہوئے آئے ہو ! تاریخ سے آشنا اور سیرت طیبہ سے واقف جانتے ہیں کہ اس بزرگ نے دوبارہ سے وہی قصیدہ دربار رسالت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا ( انت و مالک لابیک) کہ تجھ پر اور تیرے مال پر تیرے والد کو حق حاصل ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو وصیت کرتے فرمایا کہ ’’میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو ‘‘ ذرا سوچیے خالق کائنات نے اپنے شکر کے بعد کسی نبی ،ولی یا امام کا شکر ادا کرنے کو نہیں کہا بلکہ اپنے والدین کا شکرادا کرنے کا حکم دیا ہے ، تو معلوم ہوا کہ کائنات میں خدا کے بعد اگر کوئی تعظیم کے لائق ہے تو وہ صرف والدین ہی ہیں ، اور اسی طرح ایک اور مقام میں فرمایا (ولا تقل لہما اف ) کہ کوئی بھی ایسے بات جو تمہارے مزاج کے موافق نہ ہو وہ اگر تمہارے والدین کہیں تو اف کہنا دور کی بات ہے تمہارے چہرے کے ایکسپریشن سے بھی نہ لگے کہ یہ بات ہمارے مزاج کے مخالف ہے ، یقیناًاسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو نہ صرف والدین بلکہ عورتوں کے حقوق کی مکمل طور پر حمایت ہی نہیں بلکہ ان کو پورا کرنا فرض بتاتا ہے ۔
ایک دفعہ سردیوں کے موسم میں ایک بوڑھی عورت اپنے گھر کے کونے میں ٹھنڈ سے تڑپ رہی تھی ،جوانی میں اس کے خاوند کا انتقال ہو گیا تھا ،گھر میں اسکا ایک چھوٹا بیٹاتھا ، اس بیٹے کے مستقبل کی بہتری کے لئے اس ماں نے گھر گھر جا کر کام کئے ، کام کرتے کرتے بہت تھک جایا کرتی تھی لیکن پھر بھی آرام نہیں کرتی تھی ، ہمیشہ ایک بات یاد کرتی تھی پھر کام میں لگ جایا کرتی تھی اور سوچتی تھی کہ جس دن بیٹا لائق ہو گا تبھی آرام کرے گی ، دیکھتے ہی دیکھتے سمع بیت گیا ، ماں بوڑھی ہو گئی اور بیٹے کو اچھی نوکری مل گئی، کچھ سمع بعد اپنے بیٹے کی شادی کر دی اور بیٹے کے ہاں اللہ نے نارینہ اولاد عطا کردی ،اب بوڑھی ماں بہت خوش تھی کہ اسکے جیون کا سب سے بڑا سپنا پورا ہو گیا تھا ، اسکا بیٹا لائق ہو گیا تھا اب اسکا بیٹ اسکی ہر خواہش پوری کرے گا ۔
لیکن یہ کیا ہوا پہلے وہ باہر کے لوگوؓ کے جھوٹے برتن دھویا کرتی تھی اب وہ اپنے شادی شدہ پیٹے کے گھر کے برتن دھویا کرتی تھی پھر بھی خوش تھی کہ آ خر اولاد تو اسی کی تھی ، سردیوں کا موسم آگیا تھا ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر گھر کے ایک بالکل باہر والے کمرے میں ایک پھٹے ہوئے کمبل میں سمٹ کر لیٹی ہوئی تھی اور سوچ رہی تھی کہ آج بیٹا آئے گا تو اس سے کہوں گی کہ ’’تیری اس بوڑھی ماں کو بہت ٹھنڈ لگتی ہے بیٹا ایک نیا کمبل تو لادیں ‘‘ بیٹاشام کو گھر واپس آیا تو ماں نے بولا بیٹا ٹھنڈ بہت ہے ،مجھے بہت ٹھنڈ لگتی ہے اور بات ٹھنڈ کی نہیں ہے میں بوڑھی ہو گئی ہوں اس لیے شریر میں جان نہیں ہے ، اس پھٹے کمبل میں ٹھنڈ رکتی نہیں ہے بیٹا کل ایک نیا کمبل تو لا کر دے دینا ۔
بیٹا غصے سے بولا تم تو گھر ہی رہتی ہو ، صرف دو مہینے کی سردی نکال لو اگلی سردی میں دیکھیں گے ، بیٹے کی بات سن کر ماں چپ چاپ سمٹ کر اس کمبل میں سو گئی ، اگلی صبح دیکھا تو ماں اس دنیا میں نہیں تھی ، بیٹے نے سب کو خبر دی کہ ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی، سب رشتہ دار ، دوست، پڑوسی اکٹھے ہو گئے ، بیٹے نے ماں کی تدفین میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی تھی سب انتظام اعلیٰ طریقے سے مکمل کیے تھے ، دنیا یہ سب دیکھ کر حیران تھی اور کہہ رہی تھی کہ اللہ سب کو ایسا ہی بیٹا نصیب کرے ۔










Leave a Reply