فضائل مدینہ منورہ۔۔۔۔ تحریر: حافظ کریم اللہ چشتی، پائی خیل

Hafiz Kareem Ullah Chishti

کعبہ کی عظمتوں کامنکرنہیں ہوں لیکن !
کعبے کاہے کعبہ میرے نبی ﷺکاروضہ
حاجیوآؤشہنشاہ کاروزہ دیکھو
کعبہ تودیکھ چکے اب کعبے کاکعبہ دیکھو

ارشادباری تعالیٰ ہے “اگرجب وہ اپنی جانوں پرظلم کریں تواے محبوبﷺ تمہارے حضورحاضرہوجائیں اورپھراللہ پاک سے معافی چاہیں اوررسول ﷺانکی شفاعت فرمائے توضروراللہ پاک کوبہت توبہ قبول کرنے والاپائیں گے۔(پارہ۵)اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ دربارمصطفےٰ ﷺپر حاضرہونے کے بغیر بخشش ناممکن ہے ۔امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ بیان فرماتے ہیں کہ آقاﷺ کواس دنیاسے ظاہراًپردہ فرماتے ہوئے تین دن ہی گزرے تھے کہ ایک اعرابی آپﷺ کی قبرانورپرحاضرہوااورقبرانورسے چمٹ گیااورقبرمبارک کی خاک سرپرڈالی اورعرض کرنے لگایارسول اللہﷺ !آپ نے جوخداسے سناہم نے آپؐ سے سنااورجوکچھ آپؐنے خداسے لیاہم نے آپؐ سے لیااس میں یہ آیت کریمہ بھی ہے ۔وَلَوْاَنَّھُمْ اَذْ ظَّلَمُوْااَنْفسَہُمْ آخرالایہ میں نے بھی اپنے نفس پرظلم کیاہے ۔اللہ کے محبوب ﷺ تیرے دربارمیں حاضرہواہوں تاکہ آپؐ میری سفارش فرمائیں اعرابی جذبہ شوق سے یہ کلمات عرض کرتاہے اورادھرقبرانورسے آوازآتی ہے جاؤتمہاری بخشش ہوگئی ہے ۔(جذب القلوب)جہاں پرذکرخداہوگاوہیں پرذکرمصطفیﷺہوگا ۔ اگرکوئی لاکھ مرتبہ لاالہ الااللّٰہ کہے مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک محمدرسول اللّٰہ(ﷺ)نہ کہے گا۔کیونکہ آقائے دوجہاں سرورکون ومکانﷺکی محبت دین حق کی شرط اّول ہے۔

محمدﷺکی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
اسی میں ہواگر خامی توسب کچھ نامکمل ہے۔

سرکاردوعالم نورمجسم ﷺ کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے مدینہ منورہ کاپرانانام یثرب تھامگرآپﷺ کی آمدکے بعدیہ نام(یثرب)ممنوع قراردیاگیا۔قرآن مجیدمیں ہے ۔اِذْقَالَتْ طَاءِفَۃ’‘ مِنْھُمْ یَااَھْلَ یَثْرِبَ الایہیثرب سے ممانعت کیوجہ یہ ہے کہ یہ نام جاہلیت کاتھااس لئے منع فرمایاگیا۔یایثرب ایک بت یاایک ظالم کانام تھا۔اس لئے اس نام سے روک دیاگیایااس لئے یثرب مشتق ہے ثَرْب’‘ ثرب کے معنی فسادکے ہیں یامشتق ہے تثریب سے اورتثریب کے معنی مواخذہ اورسرزنش ہوتاہے کیونکہ اس شہرکریم کے مناسب یہ معنی نہیں تھے اس لئے یثرب بولنے سے نہی واردہوگئی اورقرآن میں جولفظ یثرب ہے وہ منافقوں کی زبان سے بیان کیاگیاہے ۔عیسیٰ ابن دینارمالکیؒ نے فرمایاکہ جوکوئی شخص اس شہرکریم کویثرب کہے گاوہ گناہ گارہوگا۔امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں ایک روایت بیان فرمائی کہ اگرکوئی ایک دفعہ اس شہرکریم کویثرب کہدے تواسے چاہیے کہ اسکی تلافی کے لئے دس بارمدینہ کہے ۔ایک اورروایت میں ہے کہ جو’’مدینہ پاک کویثرب کہے اسے چاہیے کہ اللہ سے استغفارکرے‘‘ ۔کتناخوش نصیب ہے وہ مسلمان جومدینہ منورہ میں حاضرہوکراپنے آقاومولااوراللہ پاک کے محبوبﷺ کی زیارت سے مشرف ہو۔مدینہ منورہ اللہ پاک کواتناپیاراہے کہ جتنے شہربھی فتح ہوئے یہاں تک کہ مکہ معظمہ وہ تلوارسے فتح ہوئے ۔وہاں تلوارچلی لڑائی ہوئی خون ریزی ہوئی مگرجب مدینہ منورہ فتح ہوتاہے تونہ تلوارچلتی ہے نہ خونریزی ہوتی ہے نہ ہی لڑائی کی نوبت آتی ہے ۔بلکہ خودبخودفتح ہوجاتاہے ۔اللہ پاک کواتنابھی پسندنہیں کہ مدینہ کی گلیوں میں خون رواں ہو۔روایت ہے کہ تمام شہرتلوارسے فتح ہوئے مگرمدینہ منورہ قرآن پاک سے فتح ہوا۔(جذب القلوب)
مدینہ منورہ وہ مبارک شہرہے جس میں زمین کایک ٹکراجنت کاٹکڑاہے۔مدینہ کی مٹی میں شفاہے جوشخص مدینہ پاک کی تنگی اورسختی پرصبرکرے گا قیامت کے دن حضوراکرم نورمجسم ﷺاسکی شفاعت فرمائیں گے ۔اسی شہرمدینہ میں میرے آقاﷺکاگنبدخضریٰ ہے۔یہ وہ گنبدخضریٰ ہے جس پرہروقت اللہ پاک کی نوری مخلوق ملائکہ کا ہجوم رہتاہے ۔سترہزارفرشتہ صبح کواورسترہزارفرشتہ شام کودرودپاک کے لئے حاضرہوتاہے جو فرشتہ آقاﷺکی ذات اقدس پردوردِپاک پڑھنے کے لئے ایک مرتبہ حاضرہوجائے پھرقیامت تک اسے دوبارہ حاضری کا موقع نہیں ملتا ۔جس نے میرے آقاﷺ کی قبرانورمبارک کی زیارت کی حقیت میں اس نے آقاﷺ کی زیارت کی ۔اورجس نے میرے نبیﷺ کی زیارت کی آقاﷺ اس کی شفاعت فرمائیں گے ۔حد یث پاک میں آتاہیمَنْ زَارَقَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہ‘ شَفَاعَتِیْجس نے میری قبرکی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا”میرے گھراورمیرے منبرکے درمیان کاحصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اورمیرامنبرمیرے حوض پرہے” ۔(بخاری)۔

ہم درِآقاﷺپہ سراپناجھکالیتے ہیں
سچ بتاناارے دنیاہم تیراکیالیتے ہیں

حضرت ابن عمرؓسے مرفوعاًروایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایاکہ جومیری وفات کے بعدحج کرے اورمیری قبرکی زیارت کرے اسکازیارت کرناایسے ہوگاجیسے میری زندگی میں میری زیارت کرے۔(بیہقی شعب الایمان)حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاجومیری زیارت کوآئے سوا میری زیارت کے اورکسی حاجت کے لئے نہ آیاتومجھ پرحق ہے کہ قیامت کے دن اس کاشفیع بنوں۔(طبرانی المعجم الکبیر)۔
حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کومیں نے فرماتے سناجوشخص میری زیارت کرے گاقیامت کے دن میں اسکاشفیع یاشہیدہوں گااورجو حرمین میں مرے گااللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن امن والوں میں اٹھائے گا۔ابن عدی کامل میں انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجس نے حج کیااورمیری زیارت نہ کی اس نے مجھ پرجفاکیا۔زیارت اقدس قریب بواجب ہے بہت لوگ دوست بن کرطرح طرح ڈراتے ہیں راہ میں خطرہ ہے وہاں بیماری ہے یہ ہے وہ ہے ۔خبردار!کسی کی نہ سنواورہرگزمحرومی کاداغ لے کرنہ پلٹو۔جان ایک دن ضرورجانی ہے اس سے کیابہترکہ اُن کی راہ میں جاے اورتجربہ یہ ہے کہ جوان کادامن تھام لیتاہے اسے اپنے سایہ بآرام لے جاتے ہیں کیل کاکھٹکانہیں ہوتا۔

ہم کوتواپنے سایہ میں آرام ہی سے لائے
حیلے بہانے والوں کویہ راہ ڈرکی ہے

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ مدینہ کی تکلیف وشدت پرمیری امت میں سے جوکوئی صبرکرے قیامت کے دن میں اسکاشفیع ہوں گا (ترمذی)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ لوگ جب پہلاپھل دیکھتے تواسے نبی کریم ﷺکی خدمت میں لاتے تھے جب حضورﷺاسے لیتے تو فرماتے الٰہی ہمارے پھلوں میں ہمارے لئے برکت دے ہمارے مدینہ میں برکت دے ہمارے صاع میں ہمارے مدمیں ہمارے واسطے برکت دے الٰہی ابراہیم ؑ تیرے بندے تیرے خلیل ؑ تیرے نبی ہیں اورمیں تیرابندہ تیرانبی ؐہوں انہوں نے مکہ کے لئے دعاکی اورمیں مدینہ کے لئے ویسے ہی دعاکرتا ہوں جیسی انہوں نے مکہ کے لئے دعاکی اوراتنی ہی اسکے ساتھ اورفرمایاپھرکسی چھوٹے بچے کوبلاتے اسے یہ پھل عطا فرمادیتے۔(مسلم)۔

نہ جنت نہ جنت کی کلیوں میں دیکھا
مزہ جومدینہ کی گلیوں میں دیکھا

ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺمدینہ تشریف لائے توحضرت ابوبکرؓوبلالؓ کوبخارہوگیامیں آقاﷺکی خدمت میں حاضرہوئی میں نے حضورﷺکویہ خبردی توآقاﷺنے فرمایاالٰہی مدینہ ہمیں ایساپیاراکردے جیسے مکہ پیاراتھایااس سے بھی زیادہ اوراسے صحت بخش بنادے اوراس کے صاع ومدمیں ہمیں برکت دے اوریہاں کے بخارکومنتقل کرکے حجفہ میں بھیج دے۔(مسلم،بخاری)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایامجھے ایسی بستی کاحکم دیاگیاجوتمام بستیوں کوکھاجائے لوگ اسے یثرب کہیں گے حالانکہ وہ مدینہ ہے لوگوں کوایسے صاف کردے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔(مسلم ،بخاری)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاقیامت قائم نہ ہوگی حتیٰ کہ مدینہ منورہ برے لوگوں کویوں نکال دے گاجیسے بھٹی لوہے کامیل نکال دیتی ہے۔(مسلم شریف)حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’اللہ جواہل مدینہ پرظلم کرے اورانہیں ڈرائے تواسے خوف میں مبتلاکراوراس پراللہ اورفرشتوں اورتمام آدمیوں کی لعنت اوراس کانہ فرض قبول کیاجائے نہ نفل ۔(طبرانی)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ مدینہ منورہ کے راستوں پرفرشتے ہیں یہاں نہ طاعون آسکتی ہے نہ دجال۔(مسلم،بخاری)حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاجو شخص مدینہ والوں کوتکلیف دیناچاہے تواللہ تعالیٰ دوزخ میں اسے اس طر ح پگھلائے گاجس طرح آگ میں سیسہ پگھلتاہے یاجس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺکے سامنے احدپہاڑچمکاتوفرمایایہ پہاڑہم سے محبت کرتاہے اورہم اس سے محبت کرتے ہیں یقیناََ ابراہیمؑ نے مکہ معظمہ کوحرم بنایااورمیں مدینہ کے گوشوں کے درمیان کوحرم بناتاہوں۔(بخاری ،مسلم)حضرت سیلمان بن ابی عبداللہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سعدبن ابی وقاصؓکودیکھاکہ آپؓ نے اس شخص کوپکڑلیاجوحرم مدینہ میں شکارکررہا ہے جسے رسول اللہﷺ نے حرم بنایاہے توآپؓ نے اسکے کپڑے اتارلئے پھراسکے مالک آپؓ کے پاس آئے اور اس بارے میں آپؓ سے کلام کیاآپؓ نے فرمایاکہ رسول اللہﷺ نے اس حرم کوحرمت دی ہے اورفرمایاکہ جویہا ں کسی کوشکارکرتے ہوئے پکڑے تواس کے کپڑے چھین لے لہذاوہ مال میں تم کوواپس نہ دوں گاجومجھے رسول اللہﷺنے عطاکیالیکن اگرتم چاہوتوتمہیں اسکی قیمت دے دوں (ابوداؤد)حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاجس سے ہوسکے مدینے میں مرے تومدینہ ہی میں مرے کہ جوشخص مدینہ میں مرے گامیں اس کی شفاعت فرماؤں گا۔(ترمذی)حضرت عمرفاروقؓ یہ دعامانگاکرتے تھے مولا!مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب فرمااورمیری موت اپنے رسولﷺ کے شہرکریم میں مقررفرما۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرفاروقؓ کی دعاقبول فرمائی کہ آپؓ اللہ پاک کے راستہ میں شہیدہوئے اورمدینہ طیبہ میں ہی مدفون ہوئے اورخاص کراپنے محبوب ﷺ کے ساتھ اس روضہ اقدس میں جگہ پائی جس کورسول اللہﷺ نے رَوْضَۃ’‘ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ فرمایاہے ۔حضرت امام مالکِ عالم مدینہؓ کے دل میں اتنی محبت تھی کہ شہرکریم سے باہرنکلناپسندنہ کرتے تھے محض اس اندیشہ سے کہ ایسانہ ہوکہ میں اس شہرکریم سے باہرجاؤں اوروہاں میری موت آجائے تومدینہ پاک کے غبار،مٹی پاک اورقبرکی سعادت سے محروم رہ جاؤں چنانچہ آپؓ نے ساری عمرمیں اک فرضی حج ادافرمایااوراپنی تمام عمرمدینہ طیبہ میں بسرکردی آخروہاں ہی مدفون ہوکرسعادت ابدی حاصل کی۔(جذب القلوب)حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجواہل مدینہ کوایذادے گااللہ تعالیٰ اسے ایذادے گااوراس پراللہ اورفرشتوں اورتمام آدمیوں کی لعنت اوراس کانہ فرض قبول کیاجائے نہ نفل۔حضرت ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایامدینہ میں مسیح دجال کاعرب نہ آسکے اس دن مدینہ میں سات دروازے ہوں گے ہر دروازہ پردوفرشتے ہونگے۔(بخاری)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایاالٰہی جوبرکتیں تونے مکہ مکرمہ کودی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ منورہ میں دے۔ (مسلم،بخاری)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایاایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ کرآجائے گاجس طرح سانپ اپنے سوراخ کی طرف سمٹ کر آجاتاہے ۔(بخاری)
اللہ رب العزت ہم سب کوحج بیت اللہ باربارروضہ رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب فرمائے، بروزمحشرآقاﷺکی شفاعت نصیب فرمائے وطن عزیزپاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔ملک پاکستان میں نظام مصطفیﷺبرپاکرنیوالاحکمران عطا فرمائے۔ مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے۔اللہ رب العالمین آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںﷺ کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔کفارومشرکین،منافقین، حاسدین کامنہ کالافرمائے حضورﷺکے غلاموں کادونوں جہانوں میں بول بالافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین

Short URL: http://tinyurl.com/jqo9dyp
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *