حافظ پیر محمد مظہر قیوم رحمة اللہ علیہ

Hafiz Kareem Ullah Chishti
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: حافظ کریم اللہ چشتی، پائی خیل
اللہ اللہ کیے جانے سے اللہ نہ ملے اللہ والے ہیں جواللہ سے ملادیتے ہیں
اللہ رب العزت نے انسان کواشرف المخلوقات بناکرطرح طرح کی نعمتوں سے نوازا جن کاانسان شماربھی نہیں کرسکتاہے جن وانس کی وجہ تخلیق بھی اللہ پاک کی عبادت کرناہے ۔تاریخ اسلام کاہم اگرمطالعہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی رشدو ہدایت کے لئے انبیاءکرام علہیم السلام کومبعوث فرمایاتمام انبیاءکرام علہیم السلام اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی سر انجام دیتے رہے چونکہ آقادوجہاں سرورکون ومکاںحضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلمخاتم النبین ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاءکرام بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔اولیاءکرام نے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کرتاجاﺅںکہ اللہ پاک کے وہ مقبول بندے جواس کی ذات وصفات کے عارف ہوں اس کی اطاعت وعبادت کے پابندرہیں گناہوں سے بچیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے انہیں اپناقرب خاص عطافرمائے ان کواولیاءاللہ کہتے ہیںایسے خوش نصیب انسانوںکونہ کسی قسم کاخوف اورنہ کسی قسم کاغم ہوتاہے۔یہاں پرآقا صلی اللہ علیہ والہ وسلمکاایک فرمان مبارک یادآرہاہے جس کے روای حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیںکہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمسے اولیاءاللہ کے متعلق پوچھاگیاتوآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاوہ لوگ(اولیاءاللہ ہیں ) جنہیں دیکھنے سے اللہ یادآجائے ۔(نسائی)اللہ رب العزت نے ضلع میانوالی کوکئی ایسی عظیم ہستیوں سے نوازاجنہوں نے مخلوق خدامیں اللہ اوراسکے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے عشق کی دولت تقسیم کی علم وعمل کے ذریعے لوگوں کوحقیقی منزل کاپتہ بتایانہ صرف پتہ بتایابلکہ راہ حق پرچلاکرانہیں منزل تک پہنچایا۔انہی عظیم ہستیوں میں ےاد گار اہل عرفاں ، مفتاح انوار الحقائق، مصباح رموز الدقائق، مظہر الاصفےائ، زےنتِ صُلحا بابا جی حافظ پےر محمد مظہر قےوم رحمة اللہ علیہ کاشمارہوتا ہے۔آپ عرفان و سلوک کے اےسے شہسوار تھے جنہوں نے شرےعت و طرےقت کو اس کے روح اور جسم سمےت اےک تازہ زندگی عطا کی ، آپ کی ولادت 1935 ئ چکی شرےف داخلی لاوہ(ضلع چکوال ) مےں حضرت قاضی عثمان رحمة اللہ علیہ کے گھر ہوئی۔ نسباً آپ کا تعلق قطب شاہی اعوان قبےلے سے تھا۔ آپ کے والد محترم حضرت خواجہ غلام حسن سواگ رحمة اللہ علیہ کے فےض ےافتہ تھے۔ آپ نے آٹھ سال کی مختصر عمر مےں قرآن پاک حفظ کےا۔ مزےد تعلےم کے لےے آپ کے والدِ محترم آپ کو درےائے رحمت شرےف لے گئے ۔ جہاں پر آپ نے درسِ نظامی کی کُتب پڑھنا شروع کیں ۔ علوم متداولہ کی تحصےل آپ نے اپنے زمانہ کے اکابر علما ءسے کی ، جن مےں مفتی محمد حسےن شوق رحمة اللہ علیہ، خواجہ محمد اکبر علی چشتی رحمة اللہ علیہ، خواجہ غلام جےلانی رحمة اللہ علیہ، مولانا فےض احمد فےض رحمة اللہ علیہ(صاحب مہر منےر)اور محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد صاحب رحمة اللہ علیہ شامل ہےں ۔ صر ف نحو، منطق فلسفہ ،فقہ ، اصول فقہ، حدےث اور اصول حدےث جےسے بےسےوں علوم مےں کامل دسترس حاصل کی۔ تصوف و روحانےت کی منازل آپ نے درےائے رحمت شرےف باباجی درےوی کی صحبت مےں طے کی۔چکی شرےف داخلی لاوہ ضلع چکوال کے بارے میں آپ کے صاحبزادہ محمد اشرف صاحب بیان کرتے ہیںکہ بابا جی صاحب کے آباﺅ اجداد نے آج سے صدےوں پہلے ےہاں آٹا پےسنے کی اےک چکی لگائی تھی۔ اور اُسکے ساتھ اےک مسجد بھی بنائی تھی۔ دور دراز سے تھکے ہارے قافلے قےام کرتے جو لوگ ےہاں آٹا پسوانے کے لےے آتے ، ےہاں کے بُزرگ انہےں آٹا بھی پےس کر دےتے اور اُن کی لنگر سے خدمت بھی کرتے ےہاں آنے والے جب مسجد مےں نماز کے لےے داخل ہوتے تو عشق و محبت کی چکی سے لوگوں کی روحانی تطہےر بھی فرماتے۔ چکی شرےف علم وروحانیت کااہم مرکز ہے، ےہےں سے مولانا سلطان محمود انگوی رحمة اللہ علیہ نے اکتساب علم کےا جووالئی گولڑہ حضرت اعلیٰ پےر مہر علی شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ کے اُستاد تھے اسکے علاوہ حضرت خواجہ غلام حسن سواگ رحمة اللہ علیہ اور خواجہ غلام محمود پپلانو ی رحمة اللہ علیہ نے بھی ےہےں سے علم حاصل کےا ۔ کسی اہل ذوق نے کیاخوب کہا
طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینوں میں چھپائی جاتی ہے توحیدکی مئے پیالوں سے نہیں نظروں سے پلائی جاتی ہے۔
قبلہ باباجی رحمة اللہ علیہ اےک اےسے مرد دروےش تھے جن کی زےارت سے نگاہوں کی پےاس بجھائی جاتی تھی۔ اےک اےسے دروےش جو ساری زندگی تصور ذات خدا کے حصار مےں گم رہے۔ مگر کائنات کو محصور رکھا۔ ہفت افلاک رفعت پاکر بھی چٹائی پر دربار محبت لگائے۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی بہت کم بولتے مجلس مےں بےٹھتے تو بھی ذکر الہی مےں مشغول رہتے آپ کے روحانی کمالات اور فےوضات کو اکابرِ صوفےا اور علماءنے تسلےم کےا ۔ استاد کل حضرت علامہ عطا محمد بندےالوی رحمة اللہ علیہبھی قبلہ باباجی صاحب کے روحانی کمالات کے معترف تھے۔ اور آپ کو صاحب کشف بزرگوں مےں شمار فرماتے اسی طرح سےاح حرمےن بابا سےد طاہر حسےن شاہ رحمة اللہ علیہ(جوہرآباد) بھی اپنے محبےن اور متعلقےن کو آپ کی مجلس اختےار کرنے کی تلقےن فرماتے حضرت باباجی رحمة اللہ علیہ ان کے پاس گئے تو دور سے دےکھ کر ہی آپ کا چہرہ کھل گےا۔ فرماےا باباجی درےا شرےف والے آگئے ہےں۔ ےہ حضرت باباپیرحافظ محمدمظہر قےوم رحمة اللہ علیہکے فراخ شےخ ہونے کی دلےل ہے۔ اسی طرح خواجہ قمر الدےن سےالوی رحمة اللہ علیہ بھی آپ کے ہم مجلس رہے ۔ حضرت خواجہ صاحب کے متعلق باباجی رحمة اللہ علیہفرماےا کرتے کہ خواجہ صاحب عشق الٰہی کی حدت کی وجہ سے لرزاں رہتے اور ان کے جسم پر کپکپی طاری رہتی باباجی رحمة اللہ علیہ کی مجلس مےں ہمےشہ علما و مشائخ کی قدر و منزلت کی بات ہی ہوتی اور آپ مسلک حق اہلسنت والجماعت حنفی قادری بریلوی کے لےے کام کرنے والے علماءو مشائخ کی تحسےن فرماتے ۔ چراغ گولڑہ پےر سےد نصےر الدےن نصےررحمة اللہ علیہ اور حضرت ضےا الامت جسٹس پےر محمد کرم شاہ الازہری رحمة اللہ علیہ بھی آپ کے ہم مجلس بزرگوں مےں شامل تھے۔ خانقاہی نظام کے احےاءکے لےے عمل اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وہ نمونہ پےش کےا کہ جب آپ رحمة اللہ علیہمیانوالی کی سرزمین پپلاں شرےف تشرےف لائے تھے تواس وقت تنہا تھے۔آپ رحمة اللہ علیہ کوکوئی جانتابھی نہیں تھااہل میانوالی بے خبرتھے کہ ولایت کااک ماہ تاب میانوالی کی سرزمین پپلاں کواپنامسکن بناچکاہے ۔آپ رحمة اللہ علیہحسن واخلاق خدااورمخلوق خداسے محبت کرنیوالے درویش انسان تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ رحمة اللہ علیہ میانوالی کی سرزمین پراکیلے آئے تھے اور جب دنےا سے رخصت ہوئے تو آٹھ سے دس لاکھ عقےدت مندوں اور اشکباروں کا ہجوم آپ کے نورانی چہرے کی زےارت کے لےے اور جنازہ مےںشرکت کے لےے موجود تھا۔
آپ رحمة اللہ علیہنے تقرےباً ساری زندگی فرض نمازباجماعت اداکی ۔قبلہ باباجی رحمة اللہ علیہ ساری زندگی نمازتہجد، نمازاشراق،نماز چاشت ،صلوٰة الاوابےن اور بعد از نمازِ عشاءصلوة التسبےح ادا فرماتے رہے۔ہر نماز کے بعد ختم خواجگان، سلسلہ عالےہ قادرےہ ، نقشبندےہ اور چشتےہ کے وظائف کے علاوہ حزب البحر ، دلائل الخےرات اور قصےدہ غوثےہ کے وظائف بھی آپ کے معمولات مےں شامل تھے آپ رحمة اللہ علیہ کو قرآن پاک سے عشق کی حد تک لگاﺅ تھا، آپ رحمة اللہ علیہروزانہ کتنی قرآن پاک کی تلاوت کرتے، اسکا اندازہ لگانا بہرحال مشکل ہے۔رمضان المبارک مےں آپ چار قرآن پاک بصورت جماعت ادا فرماتے ۔ جن مےں اےک صلوة التراوےح مےں ، دوسرا بعد نمازِ تراوےح بصورتِ نوافل، تےسرا صلوٰة الاوابےن مےں اور چوتھا بصورت تہجد ادا فرماتے، گردے کی تکلےف سے قبل آپ رحمة اللہ علیہپورا قرآن پاک 29 وےں رمضان المبارک دو رکعت نماز مےں ادافرماتے، دو رکعت مےں بصورتِ جماعت پورا قرآن پڑھنے کا جب شہرہ ہوا تو پپلاں شرےف کے نواحی علاقے دو آبہ مےں ماہِ رمضان مےں ساٹھ سے زائد حفاظ قرآن نے جمع ہو کر قبلہ باباجی رحمة اللہ علیہ کو تلاوت قرآن کے لےے مدعو کےا ، قبلہ باباجی صاحب نے نمازِ تراوےح کے بعد نوافل کی صورت مےں باجماعت اپنے معمولات کے مطابق قرآن پاک کی تلاوت کی پھر آپ دو آبہ تشرےف لے گئے وہاں آپ نے ساٹھ حفاظ قرآن کی موجودگی مےں اےک رکعت مےں پورا قرآن پاک پڑھا اوردوسری رکعت مےں اےک چھوٹی سی سورة پڑھ کر نوافل مکمل کےے۔ اےک بھی غلطی نہ ہوئی، پھر آپ رحمة اللہ علیہواپس پپلاں شرےف تشرےف لائے اور تہجد مےں قرآن پاک کی معمول کی منزل تلاوت کی۔ رجب، شعبان اور رمضان مےں روزے رکھنا بھی آپ رحمة اللہ علیہکے معمولات مےں شامل تھا۔اللہ پاک کے مقبول بندوں سے عجیب وغریب کرامتیں ظاہرہوتی ہیں مثلاََپانی پرچلنا،بلائیںدفع کرنا،دوردرازکے حالات ان پرمنکشف ہونا،جمادات وحیوانات سے کلام کرناوغیرہ ،اللہ پاک کے مقبول بندوں کی کرامتیں درحقیقت ان انبیاءکے معجزات ہیں جن کے وہ امتی ہیں۔اللہ پاک کے ایسے مقبول بندوں کونہ دنیااورنہ آخرت میں کسی قسم کاخوف اورغم ہے ۔آپ رحمة اللہ علیہ کی ذات مقدسہ جس قدر کرامات اور برکات کا ظہور ہوا اُسکو احاطہ تحرےر مےں لانا ممکن نہےں، آپ الاستقامہ فوق الکرامہ مےں عکس، جنےد و باےزےد تھے۔ آپ رحمة اللہ علیہکی سب سے بڑی کرامت ظاہری اور روحانی حسن کا نکتہ کمال تھا، آپ کا ظاہری اور روحانی حسن، اےمان کی مضبوطی اور اصلاح احوال کا ذرےعہ تھا، جس کے متعلق حضرت امام سفےان الثوری رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے۔ ”اس شخص کی مجلس اختےار کرو جس کی زےارت اس کی گفتگو سے پہلے تمہےں ” صاحبِ فضےلت “ بنا دے“۔جولوگ پیرباباجی رحمة اللہ علیہکی زےارت کرنے کے لئے آتے تو بے ساختہ آپ رحمة اللہ علیہ کی محبت مےں گرفتار ہو جاےا کرتے۔ قبلہ باباجی رحمة اللہ علیہدرےائے رحمت شرےف نے آپ کو کامرہ ضلع اٹک بھےجا۔ وہاں باباجی صاحب رحمة اللہ علیہکے صاحبزادے بھی آپ کے ہم درس تھے ۔ کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب سخت علےل ہوگئے۔ آپ کے اُستاد محترم نے صاحبزادہ صاحب کو گھر پہنچانے پر آپ کو معمور فرماےا ۔ سخت بارش کی وجہ سے کامرہ سے درےائے رحمت تک آ پ کو سواری نہ ملی اور آپ نے صاحبزادہ صاحب کو اپنے کندھوں پر اُٹھا لےا۔ اور طوےل مسافت کا ےہ سفر پےدل طے کےا۔ جب آپ درےائے رحمت پہنچے تو حضرت باباجی رحمة اللہ علیہ نے صورتحال درےافت کی ۔ جب حضرت صاحب کو اس بات کا علم ہوا کہ اتنی طوےل مسافت سے آپ صاحبزادہ صاحب کو کندھوں پر اُٹھا کر لائے ہےں۔تو سننے والے کان اور دےکھنے والی آنکھےں بےان کرتی ہےںکہ حضرت صاحب کے چہرے پر خوشی کی اےک لہر آئی اور درےائے رحمت جوش مےں آےا اور درےائے رحمت شرےف سے ےہ پروانہ ملا ، (برخوردار مظہر قےوم آج ہم تمہےں کووّں سے نکال کر (روحانےت ) کے شہبازوں مےں شامل کر تے ہےں۔ اور آج سے مےرے آٹھ نہےں نو بےٹے ہوں گے اور نوےں بےٹے تم ہو“۔ آستانہ شرےف سے تےنوں سلسلوں چشتےہ ، قادرےہ، اور نقشبندےہ کی اجازت اور خلافت عطا ہوئی۔ حضرت باباجی درےوی رحمة اللہ علیہ نے آپ کو سلسلہ چشتےہ کی اجازت بواسطہ گولڑہ شرےف(حضرت قبلہ بابو جی رحمة اللہ علیہقدسہ سرہ العزےز) سلسلہ قادرےہ کی بواسطہ مانکی شرےف اور سلسلہ نقشبندےہ بواسطہ سواگ شرےف عطا کی۔
مظہر الاتقےا ر قبلہ بابا جی پےر محمد مظہر قےوم قدس سرہ العزےز علوم ظاہری اور باطنی کے جامع تھے مگر آپ کی طبےعت پر تصوف روحانےت غالب تھی۔ آپ نے افعال باطنہ (عقےدہ) اور اعمال ظاہرہ (شرےعت) کو ےک جہتی عطا کرنے کرنے کے لےے عمل کی مضبوط بنےاد فراہم کی، قبلہ باباجی قدس سرہ العزےز ”چشم تر، آہ سرد اور رنگ زرد“ کی خصوصےات مےں نمونہ کمال تھے ےہی وجہ تھی کہ آپ نے لاکھوں پرےشان دلوں ، بےقرار روحوں اور گمراہ ذہنوں مےں اپنی استقامت اور عمل سے ” خاموش انقلاب“ بر پا کےا، صوفی شےر محمد خا ن بےا ن کرتے ہےں کہ انہوں نے قبلہ بابا جی صاحب کی حےات ِ ظاہری کے زمانہ مےں خواب دےکھا کہ قبلہ باباجی وصال فرما گئے اور آپ کا جنازہ تےار تھا، اچانک قبلہ باباجی صاحب نے خود اُٹھ کر اپنا جنازہ پڑھاےا ، صبح اُٹھ کر صوفی شےر محمد خان نے حضرت شےخ الحدےث مےاں محمد صاحب رحمة اللہ علیہسے تعبےر درےافت کی تو شےخ الحدےث صاحب نے فرماےا” اللہ رب العزت نے جو مقامِ ولاےت تمہارے مرشدِ کامل کو عطا فرماےا ہے وہ کسی عام فقےر کے تصور سے باہر ہے ، تمہارے مرشد فنافی اللہ کے اس مقام پر فائز ہےں جس پر خواجہ باقی باللہ تھے لےکن چونکہ موجودہ زمانہ اخفاءکا ہے اس لےے اس مقام رفےع کو پردہ اخفا ءمےں رکھا گےا ہے۔“آپ رحمة اللہ علیہ14ستمبر2009بمطابق 23رمضان المبارک بروزسومواربوقت صبح 11:40منٹ پراپنے خالق حقیقی سے جاملے۔آپ رحمة اللہ علیہ کاسالانہ عرس پاک 23,24رمضان المبارک کوآپ رحمة اللہ علیہ کے آستانہ پپلاں شریف ضلع میانوالی میں منعقدہوتاہے ۔جس میں جیدعلمائے کرام مشائخ عظام اورعوام الناس کی کثیرتعداد شرکت کرتی ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/y5mrhxhh
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *