شکریہ وزیر اعلیٰ۔۔صفائی سب سے اعلیٰ

سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں۔سوشل میڈیا میں تو جنگ کےبادل منڈھلا رہے ہیں۔بلکہ یوں سمجھیں کہ انڈیا اور پاکستان کے فیس بکی جوان جنگ شروع کر چکے ہیں ۔ہم بھی حالت جنگ میں ہی ہیں۔کس جنگ کی بات کریں۔کرسی کی جنگ، مفادات کی جنگ، بنیادی حقوق کی جنگ، اور سب سے بڑی جنگ بنیادی سہولتوںکا فقدان ۔ یہ تو سب جانتے ہیں بنیادی سہولتوں میں تعلیم ، صحت اور سڑکیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔ان بنیادی سہولتوں کی حالت سے بھی سبھی واقف ہیں۔ مطلب کی بات پہ کہ مجھے نہیں معلوم کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو حلقہ ون گلگت سے عداوت اور بغض کیوں ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں سب سے پسماندہ حلقہ گلگت ون ہے۔ جو بھی حکومت بر سر اقتدار آتی ہے اس حلقے کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھتی ہے۔۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گلگت حلقہ ون دنیور کی طرح تحصیل کا درجہ پا جاتا لیکن اسے اب تک نیابت کا درجہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔۔پچیس ہزار آبادی کا یہ حلقہ نہایت ہی بُری حالت میں ہے۔نہ رابطہ سڑکیں ، نہ واٹر سپلائی، نہ صفائی کا انتظام۔ اس حلقہ کا سب سے بڑا گائوں بسین ہے جو گلگت سے پانچ کلومیٹر فاصلے پر واقع ہونے کے باوجود بھی گلگت میونسپل کمیٹی جسے اب میٹرو پولیٹن کا درجہ دیا گیا ہے حدود سے باہر ہے ۔صفائی اور دیگر چیزوں کے بارے کہا جائے تو انتظامیہ سے جواب ملتا ہے کہ بسین ٹاون ایریا میں نہیں اس لئے صفائی کا عملہ بسین پل سے آگے نہیں جا سکتا ہے۔حدود کی بات چلی ہے تو دل سے یہ آواز آتی ہے کہ کاش ہمیں دوسرے حدود کا بھی پاس ہوتا ۔۔ صفائی کیا گلگت شہر کی ضرورت ہے یا سب کی ۔اب آپ ہی بتائیں کہ جنگ کی حالت میں کون ہیں ۔صاف بات ہے عوام ہی حالت جنگ میں ہیں چاہئے ملک میں امن ہو یا جنگ ۔ جنگیں تباہی کا باعث ہوتی ہیں اور اس سے پہلےبھی دو جنگیں بلکہ تین ہو چکی ہیں جس کا خمیازہ آج تک عوام ہی بھگت رہے ہیں ۔غریب عوام کو نہ رہنے کے لئے ڈھنگ سے مکان ہیں اور نہ ہی تعلیم اور نہ صحت کے بنیادی مرکز اور تو اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بھی مرمت ہونے میں سالوں وقت لیتی ہیں ۔ایسے میں کیایہ فرض نہیں بنتا ہے کہ ہم سب پہلے ان بنیادی سہولتوں کی جنگ لڑیں؟ ۔گلگت شندور یا گلگت غذر روڈ حلقہ ون گلگت کی اہم ترین شاہراہ ہے ۔ ضلع گلگت کی حدود تک اس سڑک کی حالت دیدنی ہے یقین جانیں کہ گلگت شہر سے بسین تک صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے میں تیس سے چالیس بے جا ہمپر بنے ہوئے ہیں ۔ سڑک جا بجا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس پہ ستم یہ کہ بسین اور گلگت کے درمیان دو سال بعد بھی اس سڑک کا ایک کلوٹ تیار نہیں ہو سکا۔ہنوز اس پر کام کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس روڈ پر چلتی ہوئی کچرا ٹھانے والی گاڑیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں ۔ میں بڑا خوش تھا اور نعرہ لگانا چا رہا تھا کہ وزیر اعلیٰ تیرا شکریہ لیکن میرا یہ نعرہ زبان سے باہر نہیں آسکا وجہ صاف ظاہر ہے۔جاگیر بسین کے لئے یہ سہولت میئسر نہیں ہوگی فی الحال یہاں کے مکین گندگی اور کچرے کی بد بو سونگھتے رہئیں وجہ بسین میٹرو پولیٹن ایریا کی حدود میں نہیں۔ کچرا اٹھانے والی گاڑی کے چاروں رخ ایک نعرہ لکھا ہوا ہے شکریہ وزیر اعلیٰ ۔۔صفائی سب سے اعلی ٰ۔اور گاڑی کی پچھلی طرف کچھ نمبرز درج ہیں ۔میں نے بھی نمبرز نوٹ کئے تھے لیکن نمبروں سے جواب نہ آیا تو معلومات کے لئے متعلقہ محکمہ پہنچا جہاں سے مجھے ٹھینگا دکھانے کے ساتھ وہی جواب جس کا اوپر ذکر ہوا ہے ۔ جاگیر بسین ڈسٹرکٹ کا حصہ ہے کچرا اٹھانے کے لئے یہ گاڑیاں وہاں نہیں جا سکتی ہیں ۔اب صرف وزیر اعلیٰ سے یہ بات پوچھنی ہے کہ محترم وزیر اعلیٰ کیاحلقہ ون گلگت خصوصا جاگیر بسین والوں کو اس نعرے سے محروم رکھنگے یا انہیں بھی یہ موقع فراہم کرینگے کہ وہ یہ کہنے کے قابل ہو جائیں کہ شکریہ وزیر اعلیٰ ۔۔۔ صفائی سب سے اعلیٰ















Leave a Reply