کشمیر جل رہا ہے۔۔۔۔ تحریر: عائشہ احمد،فیصل آباد

Aysha Ahmad
Print Friendly, PDF & Email

اے دنیا کے منصفو۔۔۔!۔
سلامتی کے ضامنو۔۔!۔
کشمیر کی جلتی وادی میں
بہتے لہو کا شور سنو۔۔!۔
چند دن پہلے سوشل میڈیا پر کشمیر کے بارے میں ایک پوسٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا،کسی دل جلے نے نہایت عمدہ لفظوں میں کشمیر کی حالتِ زار بیان کی تھی۔اس میں لکھا تھا کہ مؤرخ لکھے گا کہ عید کے دنوں میں جب بھارت معصوم کشمیریوں کو شہید کر رہا تھا اور کشمیری بھائی اپنے پیاروں کی لاشوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کر رہے تھے تو دوسری طرف غیرت مند پاکستانیوں کا کھڑکی توڑ ہجوم بھارت کی ایک فلم دیکھنے مصروف تھا اور پھر بھارت کی یہ فلم صرف پاکستان میں پہلے پانچ دن “پندرہ کروڑ “کا بزنس کر گئی تھی۔اور تازہ اطلاعات کے مطابق اس وقت اس فلم نے پاکستان میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔اور دوسری طرف بھارتی فوجی کشمیر میں اپنی درندگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔یہ صرف اب کی بات نہیں ہے بلکہ جب سے پاکستان بنا ہے تب سے بھارت اپنی درندگی کا مظاہرہ نہتے کشمیریوں پر کر رہا ہے اور ہم پاکستانی خاموش تماشائی بنے صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں،نام نہاد ثقافت کے نام پہ انڈیا نے ہماری اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال دیا ہے۔پہلے پھر بھی کشمیر کے متعلق عوام میں کچھ شعور اور آگہی تھی لیکن جب سے دونوں ممالک میں امن کی آشا کے پروگرام کا آغا زکیا ہے تب سے کشمیر کا مسئلہ دب سا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے میڈیا اور خاص کر نیشنل چینل پہ کشمیر کی بات کبھی ہوئی نہیں ہے،انڈیا نے پاکستانیوں کو اپنی ثقافت کے جال میں کچھ ایسے جکڑ لیا ہے کہ اب اگر ہم نکلنا بھی چاہیں تو ممکن نہیں اس لیے کہ ہم خود ا س ثقافت کی قید میں رہ کر خوش ہیں،پہلے پہل تو ہمارے قومی ٹی وی پہ کشمیر کا کوئی نہ کوئی پروگرام چل جاتا تھا ،لیکن اب تو بالکل کشمیر کے پروگرام دکھانا بند کر دیے ہیں،اور باقی رہی سہی کثر ہمارے آزاد میڈیا نے پوری کر دی ہے جہاں کبھی کشمیر کی خبر نہیں چلی اور اگر غلطی سے چلا دیں تو اس میں بھی معصوم کشمیریوں کو شہید کی بجائے ہلا ک لکھا جاتا ہے،اب بکاؤ اور جاہل میڈیا کو کون سمجھائے کہ اگر کوئی غیر مسلم ملک کسی مسلم ملک پہ قبضہ کر کے وہاں ظلم و ستم کرے اور اس ظلم و ستم کے نتیجے میں مارے جانے والے لوگ شہید کہلاتے ہیں ۔لیکن یہ بے حس لوگ کیا جانیں۔۔۔؟ جہاں انڈیا میں اگر کسی فلم سٹارکو چھینک بھی آتی ہے تو اس کی خبر نمایاں طور ہی نشر کی جاتی ہے،بلکہ پورا پاکستان اس کی صحت یابی کے لیے دعائیں مانگتا ہے۔۔،کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج پورے کشمیر میں بھارت اپنی درندگی کا مظاہرہ کر رہا ے،معصوم اور بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہا ہے،عورتوں کو بیوہ،بچوں کو یتیم کر رہا ہے۔بھارتی درندے عورتوں کو اپنی درندگی کا شکار کر ہے ہیں۔۔ لیکن افسوس کے اٹھارہ کروڑ عوام اور حکمران اپنی آنکھیں بند کیے چپ چاپ تماشائی بنے بیٹھے ہیں،اس وقت پوری دنیا میں 54 اسلامی ممالک ہیں۔الگ اور آبادی الگ بھگ سوا ایک کروڑ ہیں۔۔ لیکن کوئی بھی ایک ایسا اسلامی ملک نہیں جو بھارت کی اس بربریت اور درندگی کے خلاف بو ل سکے۔۔۔ اور پاکستان جو صرف یہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے کہ ہم کشمیریوں کی اخلاقی ،سفارتی اور سیاسی مدد جاری رکھیں گے۔۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر کسی اسلامی ملک پہ ظلم و ستم ہو رہا ہو تو تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کریں لیکن افسوس ایسا نہیں ہے۔۔ آج لبر ل اور سیکولر لوگ جہاد کی نفی کرتے ہیں ،اس لیے کہ جہا د کا حکم قرآن پاک میں آیا ہے۔۔۔ اور جہاں کہیں مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہو تو ایک سلامی ریاست کا فرض ہے کہ وہ مال اور جان سے جہاد کرے۔۔ لیکن افسوس کہ آج کے لبر اور سیکولر لوگوں نے جہاد کی تشہیر غلط طریقے سے کی ہے اور اسے قرآن اور سنت کے منافی قرار دیا ہے۔۔۔۔اس لیے کشمیر آج تن تنہا آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے،اسے کسی طرف سے بھی کوئی مدد نہیں مل رہی ،قلیل وسائل کے با وجود وہ بھارت کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے اور وہاں کے مجاہدین بھارت کو ناکوں چنے چبوانے میں مصروف ہیں۔۔ گزشتہ اڑسٹھ سالوں سے سات لاکھ بھارتی فوج کشمیر میں اپنی ریاستی دہشت گردی پھیلا رہی ہیں ،اور نہتے کشمیریوں پہ ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں لیکن یہ مٹھی بھر مجاہدین ان کا ہر حملہ ناکام بنا دیتے ہیں،اس لیے کہ ان کو اﷲ کی ذات پہ بھروسہ ہے،و اجانتے ہیں کہ اﷲ تعالی ان کی مدد ضرور کرے گا،ا س لیے بھارتی درندگی کے باوجود کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔۔ وہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے ہمارے عوام اورحکمرانوں کو کشمیر نہیں چاہیے بلکہ ان کی ثقافت چاہیے ،ان کے ایکٹر ز چاہیں۔۔ جن کو وہ فخر سے اپنے ملک میں دکھا سکیں،اپنے چینلز کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اپنے ان کو انٹرویوز دکھا سکیں اور عوام فخر سے ان کی فلمیں سینما گھروں میں جا کر دیکھ سکیں۔اب کوئی نہیں ہے جو معصوم کشمیریوں کے خون کا بدلہ لے سکے۔۔ کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو بچوں کو یتیم ہونے سے روک سکے۔۔ کسی میں محمد بن قاسم جیسی غیرت نہیں کہ وہ بے آبرو ہوتی کشمیری بہنوں اور بیٹیوں کے سر آنچل سے ڈھانپ سکے۔

اِک مسلمان کی بیٹی پہ ہوا تھا جب ستم۔۔
کھل گئے تھے ابنِ قاسم کی شجاعت کے علم

کشمیر میں کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جس دن بھارتی فوجی اپنی وحشیانہ طاقت کا استعمال نہ کرتے ہوں ،تلاشی کے نام پہ ان کے گھروں میں گھس کر نہتے کشمیریوں پہ طاقت کا استعمال نہ کریں۔۔ کشمیریوں کا ہر دن اور رات خوف کے سائے میں نہ گزرتا ہو،کب بھارتی درندے تلاشی کے نام پہ ان کا گھر تباہ کر کے چلیں جائیں،ان کے بچے یتیم ہو جائیں،عورتیں بیوہ ہو جائیں اور بہنوں اور بیٹیوں کو کب اپنی بر بریت کا نشانہ بنائیں۔کیسے مسلمان ہیں ہم کہ ہم کہ بے گناہ کشمیری ہمیں پکار رہے ہیں اور ہم خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کشمیری بیٹیاں اپنے مسلمان بھائیوں کی راہ تک رہی ہیں کہ کوئی تو ایسا غیرت مند بھائی ہوگا جو اُن کے سر سے رِدا کھینچنے والے کے ہاتھ کاٹ دے گا۔لیکن افسوس۔۔۔ ایسا کوئی بھی غیرت مند مسلمان نہیں ہے،جنتِ نظیر چیخ چیخ کر سوا ارب مسلمانوں کو پکار کر کہہ رہی ہے۔

اے محمد بن قاسم دے صدا تو ہے کہاں ۔۔۔؟
تیری بہنیں بے رِدا ہیں جل رہی ہیں وادیاں

آج کشمیری تنہا آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں،ان کے پاس بندوق نہیں ہے لیکن ایمان کی طاقت ہے جو انہیں بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے پہ مجبور کرتی ہے،وہ صرف اﷲ کے بھروسے پر آج آزادی کی جنگ لڑہے ہیں،اس لیے کہ ان کا ایمان پختہ ہے کہ وہ حق پر ہیں، اور جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اور باطل تو آیا ہی مٹنے کے لیے ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ ایک دن بھارت کو منہ کی کھانا پڑے گی،کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے یہ جنت صرف انہی کی ہے اور ایک دن کشمیر میں آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا انشااﷲ۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے،

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

Short URL: http://tinyurl.com/h8tllb8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *