اخلاقی جرات۔۔۔۔ تحریر: عائشہ احمد،فیصل آباد

Aysha Ahmad
Print Friendly, PDF & Email

نبی پاک ﷺ کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین کادور تاریخ کا بہترین دور مانا جاتا ہے۔اس دور کے تمام خلفائے اکرام اپنے دور کے بہترین حکمران تھے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ،حضرت عمرؓ ،حضرت عثمانِ غنیؓ اور حضرت علیؓ ان چاروں صحابہ اکرام کا دورَ خلافت مثالی رہا ہے اس لیے کہ ان کا طرزِ حکومت ویسا ہی تھا جیسا کی نبی پاکﷺ نے اپنے دور میں اپنایا تھا اور سب سے بڑھ کر اس دور میں قرآن پاک اور سنت پہ سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ خلیفہ وقت عوام کے سامنے جواب دہ تھا اور کوئی بھی عام آدمی خلیفہ سے باآسانی سوال کر سکتا ہے۔آج کے دور میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں،مسلمان ملکوں میں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ کوئی مسلمان حکمران اپنے عوام کے سامنے جواب دہ ہو ۔خاص کر غیر مسلم ملکوں میں نظر دوڑائیں جن میں یورپی ممالک،مغربی ممالک،افریقہ ممالک اور بعض ایشائی ممالک ہیں جہاں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔اس کی تازہ مثال برطانوی وزیرِ اعظم ڈٰیویڈ کیمرون نےٌ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیاہے۔بات صرف اتنی سی تھی کہ برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔جبکہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیویڈ کیمرون یورپی یونین سے الحاق کے حق میں ہے۔اور آف شور کمپنی میں نام آنے پر برطانوی وزیراعظم نے وضاحت دی تھی کہ اس نے یہ کمپنی کیسے بناء؟ یہ تو صرف ایک مثال ہے غیر مسلم حکومتوں میں ایسے واقعات تواتر سے ہوتے رہتے ہیں جب کسی صدر یا وزیرِ اعظم پر کوئی الزام لگتا ہے تو وہ فوراٌ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاتا ہے،اور وہ اس بات پہ شرمندہ ہونے کی بجائے اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے ،یہ اس کی اخلاقی جرات ہے کہ اس نے ااپنی غلطی تسلیم کی ہے۔اب زرہ اپنے اسلامی اور جمہوری وطن پاکستان میں نگاہ دوڑایے تو آپ کو کوئی ایک ایسی مثال نہیں ملے گی،جہاں کوئی صدر یا وزیر وزیراعظم نے اپنی غلطی تسلیم کر کے مستعفی ہوا ہو،بلکہ پیارے پاکستان میں تو ایسا کو ئی بڑا واقعہ ہو جائے تو اس کا جواز پہلے سے موجود ہوتا ہے۔اس کی تازہ مثال پانامہ لیکس کا سکینڈل ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف سمیت کئی بڑے بڑے لوگوں کے نام آئے ہیں کہ آف شور کمپنیاں باہر کے ممالک میں بنائیگی ہیں۔پوری دنیا میں جس جس ملک کے لیڈر کا نام آیا ہے اس نے اس بات کی وضاحت دی ہے کہ اس نے یہ کمپنیاں کیسے بنائیں؟کیوں بنائیں؟ پیسہ کہاں سے آیا۔وغیرہ وغیرہ۔فن لینڈ کے وزیراعظم نے اپنا نام سامنے آنے پر استفعی دیا تھا۔لیکن ہمارے سیاستدانوں میں ایسی اخلاقی جرات کہاں،یہاں ہزاروں بے گناہ اور معصوم لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا،جس میں کئی لوگ اپنی جان سے گزر گئے۔ایف آئی آر کاٹی گئے جس میں وزیر اعظم سمیت کئی بڑی شخصیات کے نام درج کیے گئے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ کسی نے اس سانحے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔اگر یہی سانحہ کسی غیر ملک میں ہوا ہوتا تو وہاں ملک کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا۔لیکن شاید ہم بے حس ہو گئے ہیں،ہمارے لیے کسی کی موت کوئی معنی نہیں رکھتی۔جس دن کو ئی بڑا واقعہ نہ ہو جس دن لاشیں نہ گریں اس دن لگتا کہ ہمارا دن اچھا نہیں گزرا،روز کتنی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں لڑکی اغواہ ہو گئی ۔فلاں لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہو گئی،لیکن ہم پہ کوئی اثر نہیں ہوتا۔بلکہ با اثر لوگ اس میں ملوث ہوتے ہیں اور و ہ طاقت کے بل بوتے پہ ،جس لڑکی کے ساتھ ظلم ہوا ہو اسے خاموش کر وا دیتے ہیں۔ہم ناموسِ رسالت پہ تو کٹ مرنے کو تو تیار ہیں لیکن کسی معصوم اور مظلوم انسان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہیں۔حکمران اگر بے حس ہیں تو عوام بھی ویسی ہی ہے،روز ایک نیا تماشہ ہوتا ہے اور روز ہم تماش بین بن کر تماشہ دیکھتے ہیں۔عوام سمیت حکمرانوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ہم حضرت عمرؓ کا یہ قول کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوکا مر جائے تو عمرؓاس کا ذمہ دار ہوگا۔لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔یہاں خود ہی دوروں پر ظلم کر کے خود ہی مظلوم بن جاتے ہیں ہمارے حکمران۔اس لیے کہ ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ یہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر سکیں،یہ خود اپنے منہ سے کہیں کہ بحیثیت حکمران یہ ناکام ہو چکے ہیں۔اس لیے یہ مختلف حیلے بہانوں سے اقتدار کے ساتھ چپکے رہنا چاہتے ہیں ہیں،اگر یہ اقتدا ر چھوڑ دیں گے تو پھر کرپشن کیسے کریں گے؟ کیسے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پیسہ جمع کریں گے؟اس لیے ہر ممکن ہمارے بے حس حکمران اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں،بھلے اس کے لیے وہ پاکستان کو اپنے مفاد پہ قربان ہی کیوں نہ کر دیں۔لیکن ایسے لوگ بھول جایے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔جب یہ برستی ہے تو بڑے بڑے فرعونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اور پھر یہ دولت،اقتدار ،شہرت سب یہی رہ جاناہے اور ساتھ جاتے ہیں تو ہمارے اعمال،کیا ہمارے حکمرانوں میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اپنے جرائم سمیت عوام کی عدالت میں پیش ہوں،اس کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا۔اس لیے ان کو اﷲ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔بقول شاعر۔

آئے ہیں کتنے سکندر تم سے پہلے بھی یہاں
کھا گئی اپنی زمیں یہ کیسے کیسے آسمان۔۔۔

Short URL: http://tinyurl.com/j33c7ta
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *