ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔۔۔۔۔ تحریر: عائشہ احمد

Aysha Ahmad
Print Friendly, PDF & Email

کتابِ ملت کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگِ و بر پیدا

سیدنا حضرت عثمان غنیؓ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ،ذوالنورین اور عشرہ مبشرہ میں شامل صحابی ہیں۔حضرت عثمان غنیؓ نہایت سخی اور حیا دار تھے۔آپؓ کے دورِ حکومت نہایت خوشحال تھا۔اور لوگ آرام و سکون کی زندگی بسر کر ہے تھے۔حضرت عثمان غنیؓ کی نرم مزاجی نے شر پسندوں کے حوصلے بلند کیے جن میں مجوسی اور یہودی انتشار پھیلانے میں پیش پیش تھے۔ابنِ سبا کی تحریک نے زور پکڑا یوں سلطنت عثمانی انتشار کا شکار ہوگئی اور نے آپؓ کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔حضر ت علیؓ اور دیگر صحابہ نے جنگ کی اجازت چاہی لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانا پسند نہ کیا اور اکیلے ہی باغیوں کا مقابلہ کیا۔باغی عقبی دروازے سے اندر گھس آئے اِس موقع پر حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا تھا کہ اگر آج تم نے مجھے شہید کر دیا تو قیامت تک تم مسلمان اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکو گے۔باغیوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا اور آپؓ کی کہی ہوئی بات سچ ثابت ہوگئی اور اُس دن سے لے کر آج تک مسلمان فرقہ بندی اور انتشار کا شکار ہیں۔کہیں سنی،کہیں شیعہ اور کہیں وہابہ،کہیں دیو بندی تو کہیں بریلوی۔غرض حضرت عثمان غنی کی شہادت سیلے کر آج تک مسلمان انتشار کا ہی شکار ہیں۔اور سنی ،شیعہ فسادات میں مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا گلا کاٹ رہے ہیں۔جس کے نتیجے میں بے گناہ مسلمان فرقہ بندی کی بنیاد پر مارے جارہے ہیں۔پاکستان میں بھی کئی بار ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ہم نے حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت سے کوئی سبق نہیں سیکھا کہ کس طر ح دشمن ہمارے صفوں میں گھس کر ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔
اِس کی تازہ مثال ایران اور سعوسی عرب کا تنازعہ ہے۔یہ تنازعہ اس وقت شدت ختیار کر گیا جب سعودی عرب میں شیعہ عالم دین شیخ نمر سمیت 47 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اس کے رد عمل میں تہران میں سعودی عرب کا سفارتخانے کو جلا دیا گیا۔جس کی وجہ سے اس بحران نے شدت اختیار کر لی۔پہلے ہی کئی سلامی ممالک خانہ جنگی کی کیفیت میں ہیں اور اوپر سے ایران اور سعودی عرب کے تنازعہ مشرق وسطی کے ھالات مزید خراب کر دیے ہیں۔جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی جا رہی ہے اور اس کے اثرات دنیاکی معیشت پہ برے پڑ رہے ہیں۔اور دشمن اس صورت ھال سے برا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں۔بیچ میں کئی بار ایران نے لچک دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن سعودی عرب کی طرف سے کبھی مثبت جواب نہیں ملا۔اس مسئلے کو سلجھانے کے لیے آرمی چیف جنرل راحیل شریف ور وزیراعظم جناب نواز شریف سعودی عرب اور ایران پہنچے جس پر دونوں ممالک نے بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ۔ایران نے پاکستان کو ثالث ماننے کی تجویز مان لی لیکن پتہ نہیں سعودی حکومت نے اچانک پاکستان کو ثالث ماننے سے انکار کر دیا۔اس کے پیچھے کیا وجہ ہے یہ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں لیکن سعودی عرب کو معاملے کی نزاکت کے پیش نظر فوری طور پر اس کے حل کی طرف سنجیدگی سے بڑھنا ہوگا۔ورنہ بڑی طاقتیں تو نظریں جمائے بیٹھی ہیں کہ کب دونوں ممالک کے ھالات بگڑیں اور کب وہ میدان میں کودیں۔افغانستا ن ،مصر شام اور عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔دونوں ممالک کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ کس طرح بڑی طاقتوں نے مسلمانوں کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ان ممالک کا تورا بورا بنا دیا ہے۔ایران نے سفارت خانہ جالئے جانے پر سعودی عرب سے معافی بھی مانگی ہے لیکن سعودی عرب لچک دکھانے کو تیا رنہیں کیا ہم اﷲ پاک کے ا س فرمان کو بھول گئے ہیں ؟
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ ” اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو “

یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا سے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
بے لوث محبت ہو بے باق صداقت ہو
سینے میں اجالا کر دل صورت مینا دے
ایک جگہ اور ارشاد ہوتا ہے

” مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں،پس اپنے دو بھائیوں کے مابین صلح کروادو اور اﷲ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے”
اور اب جس طرح سعودی عرب پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے کیا یہ بات ہمارے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ دشمن اب مسلمانوں کے اختلافات کو مزید ہوا دینے کے لیے اس طرح کی مزید کاروائیاں کرے گا جو ناصرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ ایران سمیت دیگر تمام ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے،کس طرح دشہست گرد امتِ مسلمہ کی صفوں میں گھس کر ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر رہا ہے،اور بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،لیکن ہم مسلمان آنکھیں بند کیے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔حالات مزید خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اس لیے کہ سعودی عرب اب ایران کو حج ویزہ جاری نہ کرنے کا سوچ رہا ہے،سعودی عرب کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اگر ایسا ہوا تو خطے میں ایک نئی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے،دشمن تو چاہتا یہی ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر اپنے مذموم عزائم پورے کیے جائیں اور وہ اس میں پوری طرح کامیاب بھی دکھائی دیتا ہے۔
کیا ہم قرآن پاک کے اس فرمان کو جھٹلا رہے ہیں ۔جو اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتا ہے اﷲ پاک اس پر عذاب نازل کرتے ہیں،کیا ہم خود اپنے ہاتھوں سے اﷲ پاک کے عذاب کودعوت نہیں دے رہے؟ کیوں ہم مسلمان اﷲ کی رسی (قرآن مجید اور سنت رسولﷺ ) کو مضبوطی سے نہیں لیتے۔کب ہم تفرقہ بازی کو چھوڑ کر ایک اﷲ اور رسول ﷺ کے ماننے والے بنیں گے؟ٍ اس سلسلے میں پاکستان اپنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد کی بات کی ہے۔یہ مسئلہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوکتا ہے ۔دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات نا صرف مشرقَ وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔کیونکہ بڑی طاقتیں خاص کر امریکہ۔بھارت،اسرائیل اور برطانیہ کبھی بھی مسلم ممالک میں اتحاد نہیں چاہیں گی۔وہ تو تیار بیٹھیں ہیں کہ کب ایران اور سعودی عرب میں جنگ کے حالات پیدا ہوں اور کب وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دونوں ممالک میں اپنی طاقت آزمائیں ۔اس لیے ایران اور سعودی عرب کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر مصالحت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔یہی تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے بہتر ہوگا۔ورنہ آنے والی نسلیں کبھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

Short URL: http://tinyurl.com/jcq9dw4
QR Code:


One Response to ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔۔۔۔۔ تحریر: عائشہ احمد

  1. Ayesha Ahmed says:

    thanx

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *