اندھیری رات کا مسافر

Aysha Ahmad
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: عائشہ احمد


ہم پڑھ لکھ تو جاتے ہیں،تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن انسان نہیں بن پاتے،اس لیے پہلے انسان بنیں،انسانیت کی خدمت کریں،یہی زندگی کا مقصد ہے اور یہی خالقِ کائنات کی رضا ہے،یہ کہنا تھا انسانیت کے مسیحا محترم جناب عبداستار ایدھی کا۔۷ جولائی 2016 کو وہ ہم سے جدا ہو گئے، قوم ایک بار پھر یتیم ہو گئی،ایک بار ہم 11ستمبر1948 کو یتیم ہوئے تھے جب قائدِ اعظم ہم سے جدا ہوئے اور اب ہم پھر یتیم ہو گئے،وہ شفقت بھرا ہاتھ چلا گیا،وہ کہ جس کے سائے میں یتیم،مسکین اور بیوائیں پناہ لیتے تھے،آج وہ درخت پھر سے ویران ہوگیا۔ قوم کا باپ چلا گیا،ہمیں روتے ،تڑپتے سسکتے چلا گیا،جس کا پیغام ہی تھا انسانیت کی فلاح ،خدمت ،وہ ہمیں تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ گیا۔عبداستار ایدھی ہم میں نہیں رہے،عبدالستار ایدھی1928میں بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے۔اور پاکستان آنے کے بعد انہوں نے فلاحی کام کرنے کا فیصلہ کیا۔اور ایدھی فاونڈیش کی بنیاد رکھی۔1965 میں انہوں نے بلقیس ایدھی سے شادی کی اور یوں وہ ایک سے دو ہوگئے اور یوں ایدھی فاونڈیشن کی بنیاد مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی،بلقیس ایدھی نے اپنے شوہر کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنی زندگی دکھی انسانیت کے لیے وقف کر دی۔
ساٹھ سال انسانیت کی خدمت کرنے والے اس عظیم انسان نے اب تک بیس ہزار نومولود بچے بچائے ہیں جن کو لوگ بے سہارا سڑکوں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پہ پھینک دیتے ہیں۔پچاس ہزار یتیموں کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کیا۔بیس ہزار نرسز کو ٹرنینگ دی۔330 ویلفئیرز سینٹر شہری اور دیہاتی علاقوں میں کام کر رہے ہیں،ایدھی ایمبولینس دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس ہے جو چوبیس گھنٹے سروس دیتی ہے۔ایدھی خود ایک فلیٹ میں رہتے تھے جو ان کے آفس کے ساتھ ملحق ہے انہوں نے ساری زندگی ایک جوڑے میں گزار دی۔عبداستار ایدھی کو بے شمار قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا،لیکن ان کو نوبل انعام نہیں دیا گیا۔کیوں اس کی وجہ کوئی نہیں جانتا لیکن حقیقت یہی کہ گوروں کا تعصب جو ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہا ہے،حالانکہ کہ ایدھی صاحب کی خدمات اتنی ہیں کہ ایک کیا ہزاروں نوبل انعام بھی کم ہیں۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب دوسرا ایدھی کہاں سے آئے گا؟ کون ہے جو ایک جوڑا پہن کر اپنی زندگی بھر کی کمائی اور اپنی زندگی انسانیت کی فلاح و بہبود پہ لگائے گا۔؟ کون ہے جو یتیموں کا سہارا بنے گا، بے سہارا اور بیوہ عورتوں کو چھت مہیا کرے گا۔کون ہے جو ننھی کلیوں کو کوڑھے کرکٹ کے ڈھیر سے اُٹھا کر سینے سے لگائے گا اور پھر اپنا نام دے گا۔کوئی بھی نہیں،اس لیے کہ کہنا بہت آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل ہے۔
تیں کرنا بہت آسان ہے لیکن عمل کرنابہت مشکل ہے۔ہم ایک باتونی قوم ہیں۔جو صرف باتیں کر سکتی ہے۔جو بڑے لوگو ں کو خراج عقیدت تو دے سکتی ہے۔ان کی تصویریں نیٹ پر شئیر کر سکتی ہے۔لیکن کسی غریب کو ایک روپے نہیں دے سکتی۔وہ بھی چند دن، ا سکے بعد وہی زندگی کے جھمیلے،وہی کام۔
ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنا پیسہ خیراتی کاموں میں خرچ کرتے ہیں؟۔بہت کم لوگ ہیں جو خیرات،صدقات اور زکوۃ دیتے ہیں۔ہم تو زکوۃ تک کے پیسے کھا جاتے ہیں تو ہم کسی کی کیا مدد کریں گے؟اپنے مال سے کسی کو کچھ نہیں دے سکتے۔اس لیے کہ ہمیں صرف اپنا خیال ہے۔ہم صرف اپنا سوچ سکتے ہیں۔یہاں پڑوسی بھوکا مر جاتا ہے لیکن اسے ایک وقت کی روٹی نہیں دے سکتے۔اس لیے ایدھی صرف ایک ہی تھا۔اور ہمیشہ رہے گا۔کوئی دوسر ایدھی پیدا ہونا ناممکن ہے۔اس لیے کہ ہر کوئی نہیں کسی یتیم بچے کا باپ بنتا۔؟؟؟؟
بقول شاعر

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Short URL: http://tinyurl.com/hg3f9n8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *