عشقِ رسولﷺ! عقیدت اطاعت میں ڈھل کیوں نہیں جاتی

تحریر: صاحبزادہ مےاں محمد اشرف عاصمی
عشقَ نبیﷺ وہ سحر ہے جسکی کوئی شام نہےں۔جہاں بھر مےں بخشا گےا اِس کے سوا کسی کو دوام نہےں۔اوےس کرنیؓہےں راہ عشق نبیﷺ کے مسافر۔جہاں بادشاہ بھی ڈگمگائےں وہ راہ کوئی عام نہےں۔عاشق و محبوبﷺ کا وصال ہوجہاں۔سدرہ پہ پہنچ کر بھی جبرےلؑ کا وہاںکوئی کام نہےں۔ساری کائنات کی رفعتےں پاﺅں کی ٹھوکر پہ۔عشقِ نبیﷺ جےسا جہاں بھر مےں کوئی جام نہےں۔خالق کا عشق جسں ہستیﷺ کے ساتھ ہے وہی ہستی ﷺوجہِ تخلےق کائنات ہے وہی ہستی ﷺرب کے بعد کائنات کی سب سے بزرگ ترےن ہستیﷺ ہے وہی ہستیﷺ جن کے توسط سے پوری کائنات کو خالص توحےد سے آشنائی ہوئی۔ وہی ہستیﷺ کائنات کے ہر سوال کا جواب ہےں۔وہی ہستیﷺ سارئے جہانوں کے لےے عظےم انقلا ب ہےں۔ وہی ہستیﷺ وہ ہستیﷺ ہےں جو کہ خالق اور بندئے کے عشق کا مظہر ہےں۔وہی ہستی ﷺدنےا اور آخرت کے درمےان جو ربط ہے وہ اِسکا نصاب ہےں ۔وہ ہستیﷺ جہاں کائنات کے سارئے علوم سر نگوں ہوجاتے ہےں۔ وہ ہستیﷺ جو عشق کی کتاب ہے وہی ہستیﷺ جو خالق کی جانب سے بندوں کے لےے نازل کردہ ہداےت کی صاحب کتاب ہےں۔وہ ہستی عشق ﷺکی انتہاہےں۔ وہ ہستیﷺ خالق کی محبوب ترےن ہستی ﷺوہ ہستی ﷺجو خالق کے وجود کا اظہار ہےں ۔کائنات اےسی ہستی ﷺکو پےش کرنے سے قاصر ہے کہ جن کا تخلےق کرنے والا ےہ کہہ اُٹھا ہو کہ اگر مےں محمدمصطفےﷺ کو پےدا نہ کرتا تو مےں اپنے وجود کا اظہار نہ کرتا۔کائنات کے ذرئے ذرئے،جن وانس حےوان،پرند چرند پہاڑ، سمندر ،جنگال بےابان سب کی رہبر و رہنماءہستیﷺ سب کی تخلےق کی وجہ۔انسانےت کا آغاز و اختتام اِسی ہستی کے سبب ہے۔سارئے انبےاءاور رسلؑ کی امامت فرمانی والی ہستیﷺ۔پتھروں کو زبان عطا فرمانے والی ہستیﷺ۔ رب کی جانب سے تقسےم کے منصب پر فائز ہستیﷺ۔جن کے متعلق عاشق رسولﷺ اعلیٰ حضرت احمد رضاخانؒ نے فرماےا تھا کہ خدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ۔ محمد مصطفےﷺ کی رضا اللہ پاک کی رضا، اللہ پاک کی رضا نبی پاکﷺ کی رضا۔ زندگی کو زندگی جس کے توسط سے ملی وہ ہستی نبی پاک ﷺ ہےں۔وہ ہستیﷺ جو ظاہر باطن ہر ہر شے ہر ہر مخلوق کے لےے تا ابد رحمت ہے۔اِس ہستی کے بغےر کائنات رحمت سے خالی ، نعمتوں محروم ، عقل و شعور ادراک آگہی کا منبع ہی تو ہے ذات نبی ﷺ۔اِس ہستیﷺ کے متعلق خالق فرمادےتا ہے کہ جس نے رسول کرےمﷺ کی اطاعت کی اُس نے مےری اطاعت کی۔وہ ہستی ﷺجو غزوہ بدر کے معرکے مےں ےہ کہہ اُٹھی کہ ائے خالق اگر آج ےہ تےن سو تےرہ بندئے کامےابی سے ہمکنار نہ ہوئے تو پھر قےامت تک تےرا نام لےوا کوئی نہ ہوگا۔ کےسا انداز کہ خالق کو اپنے محبوبﷺ کی جانب سے مدد کے لےے پکارا گےا اور خالق نے فرشتوں کو مدد کے لےے بھےج دےا۔رشد و ہداےت کے اےسے منصب پر فائز وہ شخصےت جو اول بھی ہے اور آخر بھی ۔ جےسا رب ےکتا اےسی ہی وہ رب کی ےکتا مخلوق جس کا کوئی ثانی نہےں۔معبود کی عبدےت کا شعور کائنات مےں بانٹنے والی ہستیﷺ۔انسانےت کا بول بالا کرنے والی ہستی۔ بلال ِ حبشیؓ کو شہنشاہوں سے بلند رتبے پر متمکن کروانے والی ہستیﷺ، اوےس کرنیؓ کی محبوب ہستی، ابو بکر ؑ،عمرؑ، عثمانؑ، ؑعلی، حسنےنؓ کی محبوب ہستیﷺ۔کربلا کے مےدان مےں تجدےدِ دےن الہی کی خاطر تارےخ رقم کرنے والے امام عالی مقام امام حسےن ؓکی محبوب ہستیؑ۔ امام جعفرصادقؓ، امام ابو حنےفہؓ،امام احمد بن حنبلؓ، امام شافعی کو علم کے سمندر رب کے توسط سے عطا کروانے والی ہستیﷺ۔صلاح الدےن اےوبیؒ، نوردےن زنگیؒ، محمود غزنویؒ،محمد بن قاسمؒ، داتا علی ہجوےری ؒ، خواجہ غرےب نوازؒ، نوشہ گنج بخشؒ،مےاں مےرؒ، مےاں وڈا صاحبؒ کے دلوں کو عشقِ حقےقی کا منصب عطا کروانے والی ہستیﷺ۔اب کسی اور کو اپنا غم سُنانا نہےںکملیﷺ والے کے سوا کوئی اور ٹھکانہ نہےں۔ےادِ خےرالبشرﷺ کے صدقے ہم زندہ ہےں۔محبوب خداﷺ کے سوا کسی اور کو منانا نہےں۔حضورﷺ کو بخشا ہے رب نے تقسےم کا منصب۔اُنﷺ کے در کے سوالی ہےں کہےں اور جانا نہےںنگاہ کرم ہوکشمےر و فلسطےن و برمی مسلمانوںپہ۔آپﷺ کے در کے سوا کہےں اور آنسو بہانا نہےں۔عشق کے تقاضے تو پھر ےہ ہی ہےں صاحبو کہ محبوب کے نقش پاءکو اپنی زندگی کا مرکز و محور بناےا جائے۔ صرف زبان سے اقرار کا فی نہےں۔ عمل بھی ہو۔ سماج مےں پھےلی کدورتوں کا خاتمہ کرنے کے لےے عشق نبی پاکﷺ سے استفادہ کےا جائے کہ کوڑا پھےنکنے والی بوڑھی خاتون کے گھر کی صفائی کی اور اُسکی تےمارداری بھی کی۔ وادی طائف مےں پتھر مار کر لہو لہان کرنے والوں کو دُعا دی۔فرما دےا کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم مےں سے نہےں ہے گوےا ملاوٹ کرنے والا نبی پاکﷺ کا اُمتی نہےں ہے۔اناج کی ذخےرہ اندوزی کرنے والے کے لےے ےہ تک کہہ دےا کہ ذخےرہ کرنے بعد اگر اُس مال کو خےرات بھی کردےا جائے تو بھی اُسکا گناہ معاف نہ ہوگا۔فرمادےا محمدﷺ نے کہ جس کے ہاتھ اور پاﺅں سے مسلمان محفوظ نہےں وہ بھی مسلمان نہےں۔جب اےک اےک سماجی روےے کے حوالے سے نبی پاکﷺ نے نہ صرف بتا دےا بلکہ عملاً بھی کرکے دےکھاےا۔ تو پھر عشق ِ نبیﷺ کا دعویٰ کرکے اپنے جےسے انسانوں کا جےنا دوبھر کرنے والوں کو تو آقا کرےمﷺ نے بتا دےا کہ تم مےرئے اُمتی نہےں ہو۔اگر تم مےرئے اُمتی ہوتے تو ےہ سب کچھ نہ کرتے۔ہمارئے سماج مےں عبادات کو ہی دےن سمجھ لےا گےا ہے اصل مےں تو اِن عبادات کا عمل ہی سارئے دےن کی بنےاد ہے۔ہمارئے سماج مےں عبادات کو علےحےدہ اور عمال کو علحےدہ کر دےا گےا ہے۔ اِسی وجہ سے لوٹ مار ہوس ہے کہ رُکنے کانام ہی نہےں لے رہی۔عشق رسولﷺ ہی ہماری اول و آخر پناہ ہے اِسی لےے عشقِ رسولﷺ کے تقاضے ہم سے عملی نمونہ چاہتے ہےں۔ کلمہ گو مسلمانوں کو قتل کرنے والے کےا مسلمان ہےں۔عشق رسولﷺ تو امن کی خےرات کا سبق دےتا ہے۔










Leave a Reply