گرفتاریوں کا موسم۔۔۔ کیا ملک کی تقدیر بدلنے کا وقت

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
عید کے کے فوراً بعدآصف علی زردار، حمزہ شہباز ، الطاف حسین کی گرفتاری ، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کا ریفرنس اور وفاقی بجٹ کے اعلان نے ملکی سیاست میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ پاکستانی کی بدقسمتی ہے کہ فوجی آمریت اور جعلی جمہوریت نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔چند فی صد اشرافیہ پر مشتمل طبقے نے معاشی سیاسی سماجی دہشت گردی سے ملک کے اٹھانوئے فی صد عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔گروہی سیاست، مذہب میں فرقہ واریت کا عنصر، سیاسی و مذہبی ،سیاسی جماعتوں کو بہرون ملک سے امداد نے ملک کے اندر افراتفری اور بے یقینی کو فروغ دیا ہے۔ پاکستانی سرزمین میں امریکہ ، بھارت اور اسرائیل دہشت گردی کے لےے ہر طرح کے ہتھکنڈئے استعمال کر رہے ہیں۔کرپٹ ججوں،کرپٹ سابق جرنیلوں، کرپٹ سیاستدانوں کرپٹ بیوروکریٹوں، کرپٹ صحافیوں کا احتساب موجودہ نظام کے بس کی بات نہیں ۔ فوج نے جس طرح اپنے اعلیٰ افسران کو سزائےں دی ہیں اِسی طرح فوج آمدنی سے بڑھ کر جائیدادیں رکھنے والے جرنیلوں کو بھی سزا دئے۔جسماجی و معاشی انصاف کی منزل۔۔۔ اشرافیہ کی غلامی سے آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔معاشی دہشت گرد اشرافیہ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لےے عوام کو اُٹھ کھڑا ہونا چاہےے۔اشرافیہ آپس میں جعلی کُشتی لڑ رہی ہے اور عوام بے چاری آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ تبدیلی ہے؟۔قران مجید اور نبی پاکﷺ کی سیرت کی پیروکار مسلم قوم نظام حکومت کی بہتری کو رو رہی ہے۔انصاف بِک رہا ہے۔اشرافیہ ہی صرف انصاف کی خریدار ہے۔موجودہ جمہوری نظام غریب کی چمڑی اُدھیڑ رہا ہے۔ اِس نظام کو برباد ہو جانا چاہےے۔سانحہ بلدیہ ٹاون، سانحہ ماڈل ٹاون کے شہدا ءکے لہو کی پکار کون سُنے گا۔ سیاسی کزن کی حکومت مگر حالات وہی پُرانے۔عوام کو حکومت ،اپوزیشن اور میڈیا نا ن ایشوز میں اُلجھائے ہوئے ہیں۔موجودہ حکومت کی گڈ گورنس ۔تھانہ، کچہری اور سرکاری دفاتر میں دیکھی جاسکتی ہے۔مہنگائی کی ستائی اور سابقہ حکمرانوں سے بے زار عوام کو پچھلے دس مہینوں میں مہنگائی کے جھٹکے۔ ملک میں بے لاگ احتساب کے لےے نظامِ سیاست بدلنا از حد ضروری ہے۔اشرافیہ کے ظالم پنجے سے آزادی کے لےے نچلے طبقے کی قیادت ضروری ہے۔بے روزگاری کی چکی میں پسے ہوئے نوجوان جرائم کی دُنیا میں دھنستے جا رہے ہیں۔اشرافیہ نے اپنے رہنے کے لےے آبادیاں علیحدہ، ہسپتال علیحدہ، تعلیمی ادارئے علیحدہ بنا رکھ ہیں۔امریکہ، اسرائیل اوربھارت پاکستان کے خلاف کے پی کے اور بلوچستان میں خونی کھیل رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکا ونٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نیب کو دونوں رہنماوں کی گرفتاری کی اجازت دے دی ۔ جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر کے پارک لین کیس کے تذکرے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارک لین چھوڑیں یہ بتائیں درخواست گزاروں کا جعلی اکا ونٹس سے کیا تعلق ہے، مجھے سمجھ نہیں آرہا آپ کیس کوکس طرف لیجا رہے ہیں، کیس کو سمیٹنا ہے اتنا لمبا کیوں کر رہے ہیں یہ ضمانت کی درخواستیں ہیں یہ ٹرائل نہیں جعلی بینک اکانٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ایڈیشنل پراسکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ اورڈپٹی پراسیکیوٹر سردارمظفر پیش ہوئے جبکہ آصف زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کیس کی ایف آئی آر میں 29 اکا ونٹس ٹریس ہوئے، میگا منی لانڈرنگ کیس میں ساڑھے 4 ارب کی ٹرانزیکشن ہوئی، اے ون انٹرنیشنل، عمیر ایسوسی ایٹس سے اربوں کی ٹرانزیکشن ہوئی، اکا ونٹس کیساتھ زرداری گروپ اور پارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی، یہ 29 میں سے صرف ایک اکا ونٹ کی تفصیل ہے، دیگر 28 اکا ونٹس کی تفتیش جاری ہے، آصف زرداری کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا یہ ٹرائل کیس نہیں آپ آصف زرداری کی ضمانت پردلائل دیں، عدالتی وقت قیمتی ہے،آپ ضمانت پر دلائل دیں، وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا پارک لین کیس الگ ہے جب آئیگا توجواب دیں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا آپ کی آسانی کیلئے نیب وکیل ابھی دلائل دے رہے ہیں۔ وکیل نیب نے کہا آصف زرداری ضمانت کے مستحق نہیں ہیں، عدالت نے استفسار کیا آصف علی زرداری کے رول بتا دیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا غیر معمولی حالات میں ضمانت قبل ازگرفتاری دی جاسکتی ہے، درخواست گزار نے غیرمعمولی حالات کے گرا ونڈز نہیں دیئے، کیس التوا ہو رہا ہو یا شدید نوعیت کی بیماری ہو تو ضمانت ہوتی ہے۔نیب کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جوابی دلائل میں کہا آصف زرداری کا براہ راست اکا ونٹس کھلوانے کا تعلق نہیں، نیب کا روزانہ کی بنیاد پر آصف زرداری کیخلاف آپریشن جاری ہے، پہلے جواب الجواب کے ساتھ دستاویزات دیئے ہیں،جعلی اکا ونٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں۔فاروق نائیک نے مزید کہا صرف زرداری گروپ پر اکا ونٹس سے ڈیڑھ کروڑ آنے کا الزام ہے، ایک عرصے سے کہا جا رہا ہے زرداری نے جعلی اکا ونٹس کھولے، کہاں ہیں وہ اکا ونٹس جو آصف زرداری نے کھولے؟ نیب کی مہیاکی گئی دستاویزات بھی پڑھ دیتاہوں، تمام دستاویزات میں لکھا ہے اکا ونٹس اومنی گروپ نے کھولے، دستاویزات میں کہیں بھی آصف زرداری کا نام نہیں لکھا۔ وکیل زرداری نے کہا بینک اکا ونٹس اوپنگ فارم بھی موجودہیں، اکاونٹس اوپنگ فارم پر برانچ منیجرکے دستخط موجودہیں، برانچ منیجر کے بعد ری چیک کیلئے آپریشن منیجر کے دستخط بھی ہیں۔وکیل فاروق ایچ نائیک نے چیئرمین نیب کے آئینی اختیارات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا چیئرمین نیب آرڈیننس26 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرسکتا، چیئرمین نیب کے پاس سپلیمنٹری ریفرنس کا اختیار نہیں، آصف زرداری کو اس موقع پرگرفتار نہ انکوائری کی جاسکتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکانٹس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جس پر بعدازاں فیصلہ جاری کرتے ہوئے عدالت نے اپنے فیصلے میں آصف علی زرداری اور فریال
تالپور کی ضمانت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے نیب کو ان کی گرفتاری کی اجازت دے دی ہے۔
لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا ہے۔
سکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکاروں نے منگل کی صبح شمال مغربی لندن میں الطاف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انھیں انٹرویو کے لیے ساتھ لے گئے۔لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 11 جون کو ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور اس معاملے کا تعلق پاکستان میں ایم کیو ایم سے متعلقہ فرد کی جانب سے کی جانے والی تقریروں سے ہے۔یاد رہے کہ الطاف حسین کے حامی ان کے خلاف الزامات کو سیاسی مخالفت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔بیان کے مطابق 60 برس سے زیادہ عمر کے اس شخص کو شمال مغربی لندن میں ایک مکان سے پولیس کریمنل ایویڈینس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس پر عالمی سطح پر جرائم پر اکسانے یا ان میں مدد دینے کا شبہ ہے۔
بیان کے مطابق مذکورہ شخص کو جنوبی لندن کے پولیس سٹیشن میں رکھا گیا ہے اور اسی معاملے میں تحقیقات کے لیے پولیس افسران شمال مغربی لندن کے ایک مکان کے علاوہ ایک کمرشل ایڈریس کی بھی تلاشی لے رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے دوران برطانوی پولیس کے افسران پاکستانی حکام سے رابطے میں رہے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
اپریل میں میٹروپولیٹن پولیس کے دہشت گردی کی تفتیش کرنے والے یونٹ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا جہاں پاکستانی حکام نے ان سے تعاون کیا تھا۔الطاف حسین کی باقاعدہ گرفتاری کے بعد انھیں مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں ایک یا دو روز میں ان کی ضمانت پر رہائی ہو سکتی ہے تاہم اب اس مقدمے کے سلسلے میں باقاعدہ فردِ جرم عائد ہو گی اور عدالت میں مقدمہ چلے گا۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا۔
اس ریفرنس کے ساتھ الطاف حسین کی مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کی کاپی اور مبینہ طور پر اپنی جماعت کے لوگوں کو تشدد اور بدامنی پر اکسانے کے شواہد بھی برطانوی حکام کو فراہم کیے گئے تھے۔اس ریفرینس مں برطانوی حکام سے کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
برطانیہ کے قوانین میں کسی شخص کی طرف سے دوسرے فرد کو تشدد پر اکسانے کے بارے میں سخت قوانین موجود ہیں۔فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی
یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنان سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔اس خطاب کے بعد مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے مقامی میڈیا کے ملازمین اور دفتر پر حملے بھی کیے گئے تھے۔تاہم اس واقعے کے بعد الطاف حسین نے اپنی تقریر کے لیے معافی مانگ لی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دبا¶ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے۔
اس ریفرنس کے بھجوائے جانے کے بعد فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ اکتوبر 2016 میں منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر چکی ہے۔سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے اس وقت بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تمام ثبوتوں کی تحقیقات کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ دو ہزار بارہ اور چودہ کے درمیان ملنے والی پانچ لاکھ پا¶نڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور یا اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ نیب نے کہا 2003میں حمزہ شہباز کے اثاثے 18 ملین تھے اور 2017 تک اثاثے 411.630 ملین ہوگئے، ملزم نے 181ملین روپے باہر سے آمدن کادعویٰ کیا۔نیب کا کہنا تھا تفیش کے دوران حمزہ شہباز کے دعوے جھوٹے نکلے، ملزم نے خاندان سمیت 12 انڈسٹریل یونٹس بنائے، مصنوعی فنڈ اور 244 ملین کا مصنوعی قرض حاصل کیا۔قومی احتساب بیورو نے بتایا ملزم نے کمپنی کی تنخواہ، تحائف بھی جعلی طریقے سے ظاہر کیں، ملزم نے167 ملین کمرشل،رہائشی اورزرعی زمین بھی ظاہر کی۔

48 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/yysd6pvy
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *