عوامی تشہیر کے زریعے سادہ عوام سے پیسے بٹورنے والی غیر قانونی کمپنیوں کے خاتمے کےلئے قانونی تقاضوں کے مطابق سخت اقدامات کریں: احمد کمال مان

Print Friendly, PDF & Email

پاکپتن( بےورورپورٹ)ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان نے کہا ہے کہ عوامی تشہےر کے زرےعے سادہ عوام سے پےسے بٹورنے والی غےر قانونی کمپنےوں کے خاتمے کےلئے قانونی تقاضوں کے مطابق سخت اقدامات کرےں، عوام کے جان ومال کے تحفظ کو ہر سطح پر ےقےنی بناےا جائے ، عوام غےر قانونی اور غےر منظور شدہ رجسٹرڈ کمپنےوں کے نرغے مےں نہ آئےں ، ان خےالات کا اظہار انہوں نے مختلف محکموںکے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کےا ، جس مےں متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی، اجلاس کو بتاےا گےا کہ حاجی احسان الحق سکنہ46/C گلی نمبر PS/A اوکاڑہ کا رہائشی ہے ، اور اس نے بناﺅ زندگی کے نام سے اےک کمپنی بنائی ہے ،جو کہ ممبر سازی کےلئے اےک مخصوص فےس کا مطالبہ کرتی ہے اور پہلے سے معتےن ممبران سے نئے ممبران لانے کےلئے اور اس کے عوض رقم بھی لانے کا کہتی ہے، اس کمپنی کی وےب سائےٹ www.banaozindgi.com بنائی گئی ہے ، اس کے علاوہ اس کی تشہےر کےلئے پمفلٹس بھی چھپواتی ہے ، جس مےں فےس بک ، جی مےل اور فون نمبر سمےت دےگر معلومات درج ہوتی ہےں ، اس کمپنی کے ملازمےن بالمشافہ ، بات چےت ، فون کالز اور سوشل مےڈےا کے زرےعے بھولے بھالے لوگوں کو باتوں کے زرےعے قائل کرنے کے بعد ممبر شپ کے زرےعے آمادہ کرکے سبز باغ دکھاتے ہےں اور اس کے بعد انہےں بھاری نقد رقم اور نوکر ی کا جھانسہ دے کر رقم بٹورتے ہےں ، ےہ غےر قانونی کمپنی نہ تو رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی متعلقہ اداروں سے اجازت لےکر بنائی گئی ہے ، مزےد بر آں سٹےٹ بنک آف پاکستان اور سےکورٹی و اےکسچےنج کمےشن آف پاکستان نے مشترکہ طور پر اس طرح کی سر گرمےوں کو غےر قانونی قرار دے کر قومی اخبارا ت مےں عوامی تنبےہ کے اشتہارات بھی چھپوائے گئے ہےں تاکہ عوام کو اس فراڈ اور دھوکہ دہی سے بچاےا جا سکے ، حکومتی ادارے اس طرح کی کمپنےوں کے خاتمے کےلئے بر سر پےکا ر ہےں اور سختی سے ان کے خلاف اقدامات اٹھائے جا رہے ہےں، ڈپٹی کمشن راحم دکمال مان نے متعلقہ اداروں کے افسران کو ہداےات جاری کےں بناﺅ زندگی اور اس جےسی دےگر غےرقانونی و فراڈی کمپنےوں کے خاتمے کےلئے کرےک ڈاون کرےں اور اس فعل مےں ملوث افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہوئے ان کو منطقی انجام تک پہنچائےں ۔

 1,818 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y6msk6nw
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *