دلائل کو رہنے دیں!۔۔۔۔تحریر: محمد رضوان خان

Muhammad Rizwan Khan

میں جب بھی کسی حکومتی وزیر کو پریس کانفرنس کرکے دلیلیں تاویلیں وضاحتیں دیتے دیکھتا ہوں تو میری بے اختیار ہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔ حکومتی وزیر سے مراد آپ صرف محترم پرویز رشید کو نہ لیں اس فہرست میں پشاور سے لے کر کراچی تک ہر نواور نسل کی حکومت کے وزیر شامل ہیں ۔ تمام پریس کانفرنسیں ہوں یا پھر بھانت بھانت کے ٹاک شوز ہر جگہ ہر حکومت کا نمائندہ خود کوجسٹی فائی کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف نظر آتاہے ان کی اس کوشش کا اینکر پرسنز بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے سوالوں کی توپ سے سوال پہ سوال داغنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ۔ آخرکار جیت اس کی ہوتی ہے جسے ٹاک شو ہوسٹ کا رتبہ ملا ہوتا ہے ہارنے والے معزز مہمان آج تک اپنا موقف بتانے اور جھوٹی تاویلیں وضاحتیں دینے کے درمیان پایا جانے والا ذرا سا فرق نہیں جان پائے ۔نتیجہ یہ ہے کہ ہر ٹاک شو یکساں نتیجے پر ختم ہوتا ہے نہ ہارنے والے بے مزہ ہوکر طریقہ بدلتے ہیں نہ جیتنے والے کچھ لحاظ کرتے ہیں۔
بات جب بھی دلائل اور عمل کی ہوتی ہے تو بے ساختہ روم کا مجسمہ ساز مائیکل اینجلو یاد آجاتاہے 1502عیسوی کی بات ہے فلورنسں میں سنگ مرمر کا ایک بہت بڑا بلاک پڑا ہوا تھا جو اس زمانے کے ہمارے سرکاری اہل کاروں سے ملتے جلتے اہل کاروں کی نالائقی کی وجہ سے تقریبا خراب ہو چکا تھا۔ فلورنس کا لارڈ میئر چاہتا تھا کہ مشہور مصور مونا لیزا کا خالق لیونارڈو ڈی ونچی اس پر کام کرے ۔لیکن یہ کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا جا سکا ۔ مےئرنے ہمت نہ ہاری اس دوران اس نے مشہور مجسمہ ساز مائیکل اینجلو سے رابطہ کیا اینجلو نے حامی بھر لی اسے روم سے فلورنس بلایا گیا اور مجسمہ بنانے کا کام سونپ دیا گیا۔ مائیکل اینجلو نے اس سنگ مرمر کے بلاک کو تراش کر مجسمہ بنانا شروع کردیا اینجلو کام کرتا رہا یہاں تک کہ جب مجسمے کا چہرہ تیار ہوگیا تو لارڈ میئر اس کو دیکھنے آیا (معلوم نہیں کہ اس وزٹ اینڈ انسپکشن کے موقع پر اس نے کاؤ بوائے ہیٹ لانگ شوز پہن رکھے تھے یا نہیں تاریخ اس کے حلئے بارے میں خاموش ہے )مجسمہ بہت بڑا تھا مئیر موصوف اس کے قریب گیا اور عین ناک کے نیچے جاکھڑا ہوا ۔مائیکل اینجلو سے مخاطب ہوا کہ مجسمے کا ناک کچھ زیادہ بڑا ہے اور شائد ٹیڑھا بھی ہے مائیکل اینجلو سمجھ گیا کہ جس جگہ میئر کھڑا ہے اس زاویے سے اس کو ناک بڑا اور ٹیڑھا نظر آرہاہے درحقیقت ناک عین متناسب اور مناسب تھا۔ اب مائیکل کے پاس دو راستے تھے ایک یا تو وہ اپنے فن پر نقص نکالنے پر بھڑک اٹھتااور لارڈ میئر کے ساتھ بحث مباحثے میں الجھ جاتا۔اسے مختلف اینگلز سے ناک دکھانے کی کوشش کرتا بات بگڑتی جاتی بحث بڑھتی جاتی ۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ میئر کی بات تسلیم کر لیتا اور مجسمے کی ناک کی تراش خراش شروع کرکے اسے مناسب بنانا شروع کردیتا ۔ اینجلو نے تیسرا راستہ چنا اس نے بجائے بحث مباحثہ کرنے کے فرش پر جھک کر ماربل پاؤڈر اٹھا کر ہاتھ میں چھپا لیا پھراسی ہاتھ میں چھینی اور دوسرے ہاتھ میں ہتھوڑا پکڑ کر مجسمے کے پاس چلا گیا۔ لارڈ میئر کو وہاں سے دور کھڑا کردیا اینجلو نے مجسمے پر چھینی اور ہتھوڑے سے جھوٹ موٹ کا کام شروع کردیا وہ جیسے جیسے چھینی پرہتھوڑا چلاتا جاتا دوسرے ہاتھ سے ماربل کا پاؤڈر بھی گراتا جاتا یہ تاثر دینے کے لئے کہ وہ ان رےئل مجسمے کی ناک کی درستگی کا کام انجام دے رہا ہے جس کی بدولت پاؤڈر گر رہاہے ۔میئر نے سمجھا کہ مائیکل حقیقتا ناک تراش رہا ہے ۔کچھ دیر جھوٹ موٹ کی ٹھک ٹھک کرنے کے بعد اس نے میئر سے پوچھا کہ اب کیسالگ رہا ہے۔ میئر نے مسکرا کر مجسمہ کی طرف دیکھا اور خوش ہوتے ہوئے جواب دیا اب ناک زیادہ مناسب اور خوبصورت ہوگیا ہے ۔ میئر اپنی جگہ راضی ہوگیا اور اینجلو نے اپنا کام بھی ضائع ہونے سے بچا لیا ۔کیونکہ اگر وہ مجسمے کی ناک ذرا سی مزید تراش دیتا تو مجسمہ شاہکار کی بجائے تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتا ۔اس کے برعکس اگر مائیکل بحث مباحثہ کی پالیسی اختیار کرتا تو ہوتا تو وہی جو لارڈ میئر چاہتا۔ مجسمہ تو اپنا حسن و دل کشی کھوتا ہی ساتھ ہی مائیکل بھی اس مجسمے کو بنانے کے عوض ملنے والی مراعات سے یکسر محروم ہوجاتا ۔
آپ دنیا کے کسی عظیم لیڈر کی تقریریں نکال کر سن لیں وہ آپ کو اپنا موقف بیان کرتے ہوئے اپنا لائحہ عمل مستقبل کے لئے دیتے ہوئے ملیں گے یا پھر مختصر الفاظ میں اپالوجائز کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان میں سے کوئی اپنی ناکامیوں پر لمبے چوڑے بھاشن دیتا ہوا نظر نہیں آئے گا یا فضول کی بحث میں الجھ کر میڈیا پرسنز کو اپنی عزت اچھالنے کاموقع دیتا ہوا نہیں ملے گا۔ کوئی آپ کو بجلی کے منصوبوں کی ورک پراگریس بتاتا ہوا نہیں ملے گا بلکہ ہرکوئی جھوٹے سچے فگرز اعداد شمار سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوا ملے گا کہ اس سب میں قصور ہمارانہیں بلکہ آمریت کا ہے۔ کوئی یہ
confess
کرتا ہوا نہیں ملے گا کہ ہمیں بھی آٹھ سال ہونے کو آئے ہیں ملک کے سب سے بڑے صوبے کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے۔ بلکہ دو دو گھنٹے ٹاک شوز میں مذاق اڑوانا اس سے کہیں زیادہ آسان محسوس کرتے ہیں جو مسئلہ ایک فقرے یا چند عملی اقدامات سے سلجھ سکتا ہواس پر دن میں پانچ پانچ بار پریس کانفرنسیں کرکے سلجھانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ۔یہی حال ہمارے جنرل بی ہیو کا بھی ہے۔ بطور شہری ہمارا بھی یہی ردعمل ہوتاہے کوئی ہم پر ہمارے کام پر انگلی اٹھادے یہ بات گولی سے ذیادہ ہماری انا کو چھید کرتی ہوئی گزر جاتی ہے اپنی اصطلاح کسی کو گوارہ نہیں ۔بحث کرنا ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے حکومت ہو یا شہری عوام ہوں یا خواص ہر کسی کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ لچھے دار باتوں اور جھوٹے سچے دلائل سے الجھے ہوئے معرکے سرکرلئے جائیں۔ ایسی جیت ہمیشہ لمحاتی اور وقتی ہوتی ہے کیونکہ ہم اپنے جھوٹے دلائل کی مدد سے اپنے مخالفین کو وقتی طور پر تو چپ کرواسکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے یہ ممکن نہیں ۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ قول کے بجائے اپنے فعل سے شکست دینا زیادہ پائیدار اور موثر امر ہے ایسی شکست وقتی نہیں ہوتی ۔ہر میدان میں عمل کرنا ہم بھول چکے ہیں یہاں ہر کوئی باتوں کا غازی ہے۔ کردار وعمل کے غازی تو کب کے ناپید ہوگئے ۔ باتوں سے بجلی کی قلت تو پچھلے تین سال سے روز اول سے ہی یہ حکومت دورکرتی آرہی ہے لیکن عملی طور پر ہرسال قلت زور شور سے نہ صرف بڑھ جاتی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ تباہ کن نتائج لے کر لوڈ شیڈنگ کا سورج طلوع ہوتاہے۔ نسخہ بڑا آسان ہے لیکن عمل کرنا خاصا مشکل ۔ نسخہ ایک فقرے میں مقید ہے ” اپنے عمل سے جیت کر دکھائیں دلائل و براہین کو رہنے دیں”۔

Short URL: http://tinyurl.com/hpatek2
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *